ہماچل میں 74.61 فیصد پولنگ، 412 امیدواروں کی قسمت ای وی ایم میں بند

شملہ، 13 نومبر (یو این آئی) ہماچل پردیش کی 68 رکنی 14 ویں قانون ساز اسمبلی کے لیے اب تک موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 74.61 فیصد ووٹنگ ہو چکی ہے لیکن بیلٹ ووٹنگ کا ڈیٹا آنا باقی ہے اور اس طرح ووٹنگ کا فیصد 75 یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس بار ووٹنگ 2017 کا 75.57 فیصد کا ریکارڈ توڑ پائے گی۔ اس سے قبل سال 2012 میں 72.69 فیصد اور سال 2007 میں 71.61 فیصد نے ووٹ ڈالے گئے تھے۔ الیکشن کمیشن نے اس بار ریاست میں 80 فیصد پولنگ کا ہدف رکھا تھا۔ ریاست کے کئی پولنگ اسٹیشنوں پر ہفتہ کی رات 10.30 بجے تک ووٹنگ جاری رہی۔ شملہ اسمبلی حلقہ میں قائم کل ملاکر 1044 پولنگ اسٹیشنوں میں سے 513 پولنگ اسٹیشنوں کا ویب کاسٹنگ کے ذریعے براہ راست ٹیلی کاسٹ کیا گیا۔انتخابات کے لیے 7881 پولنگ اسٹیشن بنائے گئے تھے جن میں سے 7235 دیہی اور 646 شہری علاقوں میں تھے۔ ان کے علاوہ سدھ باڑی، بڑا بھنگل اور ڈھلوان میں تین معاون پولنگ اسٹیشن بنائے گئے تھے۔ ریاست میں 157 پولنگ اسٹیشنوں کو صرف خواتین کارکنوں نے چلایا۔ ووٹنگ کے بعد ای وی ایم کو اسٹرانگ روم میں رکھا گیا ہے۔اس بار مجموعی طورپر 412 امیدوار میدان میں تھے جن میں سے 24 خواتین اور 388 مرد ہیں۔ 8 دسمبر کو ووٹوں کی گنتی تک ان سب کی سیاسی قسمت ای وی ایم میں بند ہے۔ نتائج کا اعلان 8 دسمبر کو ہی ووٹوں کی گنتی کے بعد کیا جائے گا۔روایتی طور پر ریاست میں اب تک بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور کانگریس کے درمیان مقابلہ ہوتا رہا ہے، لیکن اس بار عام آدمی پارٹی نے بھی تمام سیٹوں پر اپنے امیدوار اتار کر کئی سیٹوں پر مقابلہ سہ رخی تو کہیں مضبوط آزاد امیدواروں کی موجودگی کے سبب کثیر جہتی ہوگیا۔ کانگریس نے ریاست میں پرانی پنشن اسکیم کی بحالی، مہنگائی اور بے روزگاری کے مسائل پر الیکشن لڑا، جب کہ حکمراں بی جے پی ترقی، گڈ گورننس اور عوامی بہبود کے کاموں کی بنیاد پر عوام کے پاس گئی۔ 2017 کے انتخابات میں بی جے پی کو 44 اور کانگریس کو 21 سیٹیں ملی تھیں۔ دو سیٹوں پرآزاد امیدوار اور ایک سیٹ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا-مارکسسٹ کے امیدوار نے جیتی تھی۔
ریاست میں دون اسمبلی حلقہ میں سب سے زیادہ 85.20 فیصد ووٹ ڈالے گئے، جب کہ سب سے کم 57 فیصد کسمپٹی میں ۔ 2017 کے انتخابات میں بھی دون اسمبلی حلقہ میں سب سے زیادہ 88.65 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی تھی۔ سرمور ضلع 78.00 فیصد پولنگ کے ساتھ سب سے اوپر رہا اور کانگڑا ضلع میں سب سے کم 71.05 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔
اسمبلی حلقہ وار اعدادوشمار کانگڑہ ضلو میں 63.46، دیہرا 70.94، دھرمشسالہ 68.51، فتح پور 70.88، اندور 72.38، جے سنگھ پور 65.02، جسواں پراگ پور 73.69، جوالا مکھی 74.07،جوالی 72.93، کانگڑہ 75.10، نگروٹا 76.72، نورپور 75.57، پالمپور 72.45، شاہ پور73.33 اور سلہ 70.28، چمبا ضلع میں 72.50، بھرمور 70.99، بھٹیاٹ 73.23، چوراہ 78.29، ڈلہوزی 75.26 فیصد، اونا ضلع

کے چنت پورنی 72.72، گگریٹ 78.72، ہرولی 80.61، کٹلیہڑ 76.41 اور اونا 77.55، ہمیرپور ضلع کے بڑسر میں 71.17، بھورنج 68.07، ہمیر پور 68.90، نادون 73.80 اور سجان پور 73.66، بلاسپور 75.97، گھمارویں 73.81، جھنڈوتا 73.60 اور شری نینا دیوی 82.05، منڈی کے ضلو بلہ 77.04، درنگ 79.27 دھرمپور 70.05، جوگندر پور 69.11 ،کرسوگ 76.29، منڈی 74، ناچن 78.42، سرکا گھاٹ 68.06، سراج 82.39 اور سندر نگر 77.29، کلو ضلع کے آنی 73.89 بنجار 79.56، کلو 75.45 اور منالی 79.48، شملہ ضلع کے چوپال 74.10، جبل کوٹ کھائی 78.14، کسمپٹی 68.20 ، رامپور 73.22، روہڈو 72، شملہ شہری 62.47، شملہ دیہی 73.36 ، ٹھیوگ 74.94، سولن ضلع کے ارکی 74.87، دون 85.24، کسولی 75.69، نالہ گڑھ 81.22 اور سولن 61.69، سرمور ضلع میں ناہن اور پچھاڈ 78-78، پاونٹا 75، شلائی 82، شری رینوکا جی 78 فیصد، کنور اور لاہول اسپتی 73.75 فیصد رہے۔

About awazebihar

Check Also

خورشید احمد کی دبئی میں عزت افزائی

– پی ایل ایف کے بانی اور سیکرٹری خورشید احمد کو دبئی میں ہونے والے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *