ترکی خطے میں ترقی و خوشحالی کیلئے سی پیک کا حصہ بنے:شہباز شریف کی ترکی سے اپیل

استنبول، 26 نومبر (یو این آئی)پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ترکی کوپاک-چین اقتصادی راہدی (سی پیک) میں شامل ہونے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین اور پاکستان بہترین دوست ہیں اور ہم صدر شی جن پنگ کے بلیٹ اینڈ روڈ وژن کے تحت ثمرات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور میں اسے ترکی تک وسعت دینے کی تجویز پیش کرتا ہوں، اس سے خطے میں ترقی اور خوش حالی آئے گی۔جب کہ ترکی صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ ترکیہ کے لوگوں کے دل میں پاکستانی عوام کے لیے خاص جگہ ہے۔
استنبول میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ یہ زبردست شراکت داری ہوگی، اس سے پورے خطے میں ترقی اور خوش حالی آئے گی، اس سے بے روزگاری اور غربت ختم کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے میں چینی دوستوں سے بات کرنے کے لیے بخوشی تیار ہوں، اگر ہم اس سمت میں چلیں تو یہ بہترین موقع ہوگا۔انہوں نے نے ترک صدر رجب طیب اردوان اور وزرا کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اپنے دوسرے گھر کا دورہ کرتے ہوئے ترکی کے بھائی، بہنوں سے تبادلہ خیال کرکے مجھے بڑی خوشی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس آپ کی سخاوت اور مہمان نوازی کا شکریہ ادا کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں، ہماری دلی ہمدردیاں ان شہدا کے لواحقین کے ساتھ ہیں جو استنبول میں حالیہ دہشت گردی کے واقعے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، اس واقعے میں ہماری ترکی کے بے گناہ بہن بھائی شہید ہوئے۔
شہباز شریف نے کہا کہ ہم بھی ایسے سانحات سے گزر چکے ہیں، پاکستان کے عوام نے بھی بڑی قیمت ادا کی ہے، ہزاروں لوگوں نے دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لیے اپنی جانیں قربان کی ہیں، اس لیے ہم صدر رجب طیب اردوان اور ترکی کے عوام کے احساسات اور جذبات کو سمجھ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں دہشت گردی کی لعنت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کا ساتھ دیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاک بحریہ کے جہاز میلجم کارویٹ خیبر کی افتتاحی تقریب میں شرکت پر فخر ہے، مشترکہ طور پر یہ جہاز ترکی اور پاکستان میں تیار کرنا ہمارے عزم، ہماری سنجیدگی اور باہمی تعاون کے فروغ کو ظاہر کرتا ہے، جس میں تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، صنعت اور دفاع شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں تناؤ کی صورت حال بڑھ رہی ہیں جس کی وجہ سے اشیائے خور و نوش کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کررہی ہیں، گندم، پیٹرولیم مصنوعات، کھاد سمیت دیگر ضروری اشیا شامل ہیں، ان کی درآمدات ترقی پذیر ممالک کی پہنچ سے دور ہو گئی ہیں۔
پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اس لیے صرف دفاع نہیں بلکہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے، ہم 2 زبانیں ضرور بولتے ہیں لیکن ہم ایک دوسرے کو بہت اچھے سے سمجھتے ہیں، یہ ایک خاندان کی طرح ہے۔
انہوں نے کہاکہ چین اور پاکستان بہترین دوست ہیں اور ہم صدر شی جنگ پن کے بلیٹ اینڈ روڈ وژن کے تحت پاک-چین اقتصادی راہدی (سی پیک) کے ثمرات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، میں تجویز دیتا ہوں کہ اسے چین، پاکستان اور ترکیہ تک وسعت دیں، یہ زبردست مشترکہ تعاون ہوگا، اس سے پورے خطے میں ترقی اور خوش حالی آئے گی، اس سے بے روزگاری اور غربت ختم کرنے میں مدد ملے گی۔
شہباز شریف نے کہا کہ اس حوالے سے میں چینی دوستوں سے بات کرنے کے لیے بخوشی تیار ہوں، اگر ہم اس سمت میں چلیں تو یہ بہترین موقع ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترکی کے ساتھ تجارت ایک ارب ڈالر کی ہے جو محض ایک فیصد سے بھی کم ہے، استنبول کی سالانہ تجارت 220 ارب ڈالر ہے، ہمیں عزم کرنا چاہیے کہ اگلے تین برسوں میں پاک-ترکیہ تجارت کو 5 ارب ڈالر تک لے کر جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم اسلام آباد میں پاک-ترکیہ کے 75 سالہ سفارتی تعلقات کا جشن منانے کے لیے تقریب کا انعقاد کریں گے، میں سمجھتا ہوں کہ استنبول میں بھی اسی طرح کی ایک تقریب ہونی چاہیے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے تاریخ کی کتابوں میں پڑھا ہے کہ وہ وقت جو دو ملکوں کو قریب لایا، جب ترکی آزادی کی جنگ میں بہادری کے ساتھ لڑ رہا تھا، برصغیر میں لاکھوں مسلمانوں کے دل ترکی کے فوجیوں اور عوام کے ساتھ تھے اور جن عورتوں نے سونے کے زیورات بنانے کے لیے پیسے رکھے تھے تو انہوں نے کہا کہ ہمارے زیورات بعد میں بنا دیں یہ پیسے ترکیہ میں بھائیوں اور بہنوں کو بھیج دیں، وہ بہترین لمحات تھے اس نے پوری کمیونٹی کو جذباتی کردیا تھا، اس کے بعد ہمارے تعلقات شروع ہوئے تھے۔
استنبول میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ میں ایک بار پھر وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے وفد کا خیرمقدم کرتا ہوں، آج ہم نے مشترکہ طور پر پی این ایس تھری کا افتتاح کیا۔انہوں نے کہا کہ ترکی کے لوگوں کے دل میں پاکستانی عوام کے لیے خاص جگہ ہے، دونوں ممالک کے درمیان یکجہتی اور باہمی تعاون خاص طور پر مشکل وقت میں مثالی ہے۔
رجب طیب اردوان نے کہا کہ حالیہ دہشت گردی کے واقعے میں فوجی اور شہری جاں بحق ہوئے ہیں، ہم اللہ تعالیٰ سے رحم کی دعا کرتے ہیں، ہم پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کی جنگ میں بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان کا دکھ اپنا دکھ اور پاکستان کی خوشی کو اپنی خوشی اور پاکستان کی کامیابی کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں، پاکستان میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد ہم نے فوری طور پر امداد بھیجی۔انہوں نے کہا کہ یہ سال پاکستان اور ترکی کے 75 سال کے سفارتی تعلقات کا سال ہے، ہم تمام شعبوں میں تعلقات بڑھانے کی کوششیں کرتے رہیں گے۔

 

About awazebihar

Check Also

بنگلہ دیش میں مزدوروں کے احتجاج کے دوران 130 فیکٹریاں بند

ڈھاکہ، 12 نومبر  بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے مضافات میں واقع دو بڑے صنعتی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *