Breaking News

دس لاکھ نوکری دس لاکھ روزگارپر ہورہا ہے کام : نتیش

پٹنہ، 13 دسمبر(اے بی این ایس ) وزیر اعلیٰ نتیش کمار آج مشترکہ مسابقتی امتحان میں منتخب نئے تقرر ہونے والے افسران کے تقررنامہ کی تقسیم اور واقفیت پروگرام میں شامل ہوئے۔۔سمراٹ اشوک کنونشن سنٹر واقع گیان بھون میں منعقدہ اس تقرر نامہ تقسیم اور واقفیت پروگرام میں 9 محکموں کے کل 454 امیدواروں کو تقررنامے دئے گئے۔
پروگرام کو خطاب کر تے ہوئے وزیر اعلیٰ نے سب سے پہلے تقرر نامہ حاصل کر نے والے نو تقرر افسران کو مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کر تے ہوئے کہا کہ آج اس تقررنامہ تقسیم و واقفیت پروگرام میں بہار پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ 9محکموں کے امید واروں کو تقررنامے تقسیم کیے گئے ہیں ۔ ان میں خوراک صارفین تحفظ محکمہ کے تحت 134، سپلائی انسپکٹر، محکمہ دیہی ترقیات کے تحت منتخب 119رورل ڈیولپمنٹ افسر، محکمہ ریونیو اور اصلاح اراضی کے تحت منتخب 61ریونیو آفیسر، داخلہ محکمہ کے تحت منتخب ڈسٹرکٹ کمانڈر، جیل سپرنٹنڈنٹ، پروبیشن آفیسر اور ڈی ایس پی کے کل 52، لیبر وسائل محکمہ کے تحت44 لیبر انفورسمنٹ آفیسر، محکمہ ٹرانسپورٹ کے تحت منتخب30 ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سروس ٹرانسپورٹ آفیسر، کمرشل ٹیکس محکمہ کے تحت9 اسٹیٹ ٹیکس اسسٹنٹ کمشنر، گنا صنعت محکمہ کے تحت منتخب3 گناآفیسر اور الیکشن محکمہ کے تحت 2جونیئر الیکشن آفیسر کے عہدوں پرنو تقرر امید واروں کو تقرر نامے دیے گئے۔انہوں نے کہا کہ بہار پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ آپ کا انتخاب کیا گیا ہے ۔ آپ کے لیے واقفیت پروگرام کا بھی انعقاد کیا گیا ہے ۔ جس میں آپ کو انتظامی کام اور فرائض کے بارے میں تفصیلی طور سے جاننے اور سمجھنے کا موقع ہو گا ۔ افسران کو بی پارڈ کے توسط سے ٹریننگ دینے کا انتظام کیا گیا ہے ۔ اس کے بعد جن مقامات پر آپ کی تقرری ہو گی ، مجھے پورا یقین ہے کہ آپ لوگ اپنے فرائض کی ادائیگی بہتر طریقہ سے کریں گے ۔ آپ تمام لوگ اپنے کردار کو بہتر طریقہ سے نبھائیں گے ۔ ہم لوگوں کی خواہش ہے کہ اور تیزی سے تقرری کا عمل پورا کیا جائے ۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 15 اگست کو پٹنہ کے تاریخی گاندھی میدان میں ہم نے اعلان کیا تھا کہ بہار میں نوجوانوں کے لیے 10 لاکھ نوکریاں اور 10 لاکھ روزگار کا بندوبست کیا جائے گا۔ اس کے لیے بڑے پیمانے پر تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ ہم شروع سے چاہتے تھے کہ تقرری تیزی سے ہو۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ ہم چیف سیکریٹری سے کہیں گے کہ اس کام کو تیزی سے کرائیے۔ مختلف محکموں نے تیزی سے تقرری کے حوالے سے ہی ہم نے تکنیکی اہلکاروں کے انتخاب کے لیے ٹیکنیکل سروس کمیشن، انسپکٹر کی بحالی کے لیے بہار پولیس سروس کمیشن، سپاہی کے انتخاب کے لیے سنٹرل کانسٹیبل سلیکشن کونسل، اور کالجوں میں تقرری کے لیے ’بہار اسٹیٹ یونیورسٹی سروس کمیشن‘ تشکیل دیا ہے۔
نئی ٹیکنالوجی کے دور میں لوگ پرانی باتوں کو بہت جلد بھول جاتے ہیں۔ خواتین کی ترقی کے حوالے سے بہار میں بہت کام ہوا ہے۔ پانچویں جماعت کے اسکولوں میں پڑھانے کے لیے اساتذہ کی تقرری میں خواتین کو 50 فیصد ریزرویشن دیا۔ ریاست میں تمام سرکاری خدمات میں خواتین کو 35 فیصد ریزرویشن دیا گیا ہے۔ پنچایتی راج اداروں اور میونسپل باڈیز میں خواتین کو 50 فیصد ریزرویشن دیا گیا، جس کا نتیجہ ہے کہ خواتین کی بڑی تعداد منتخب ہو کر آئی ہیں۔ بہار ملک کی پہلی ریاست تھی جس نے پنچایتی راج اداروں اور بلدیاتی اداروں کے انتخابات میں خواتین کو 50 فیصد ریزرویشن دیا۔ اس کے بعد کئی ریاستوں نے اسے اپنی اپنی ریاستوں میں نافذ کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کل بہار میں جو اچھے کام ہو رہے ہیں ان کی بہار سے باہر کہیں بھی بات نہیں ہو رہی ہے۔ بہار میں لڑکیوں کے لیے شروع کی گئی سائیکل اسکیم کا نہ صرف پورے ملک میں بلکہ بیرونی ممالک میں بھی ذکر ہواتھا۔ لیکن سال 2014 کے بعد ہر چیز کو کنٹرول کر لیا گیا ہے۔ ہم لوگوں نے ہی’ جیویکا ‘کا نام رکھا، اس وقت کی مرکزی حکومت نے اسے ’آجیوکا‘ یعنی بہار کی جیویکا ’آ‘ ۔ لوگ بہار کی باتوں کو اپناتے ہیں لیکن اسکا ذکر نہیں کرتے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سال 2013 میں بہار پولیس سروس میں خواتین کو 35 فیصد ریزرویشن دیا گیا۔ آج بہار پولیس میں 29 ہزار خواتین خدمات انجام دے رہی ہیں۔ بہار میں آج جتنی خواتین پولس سروس میں تعینات ہیں، اتنی ملک کی کسی اور ریاست میں نہیں ہیں۔ ہم نے طے کر دیا ہے کہ بہار کے تمام تھانوں میں خواتین اہلکاروں کو تعینات کر نا ہے۔ خواتین کو ہر تھانے میں بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ سب پوری بلندی کے ساتھ سب کا احترام کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں سے نبھائیں گے۔ 15 اگست 2011 کو ہم نے بہار میں ’عوامی خدمات کا حق قانون‘ نافذ کیا۔ اس کے تحت اب تک 31 کروڑ 65 لاکھ سے زیادہ خدمات فراہم کی جا چکی ہیں۔ ان میں سے 73 فیصد لوگوں نے ذات، آمدنی، رہائشی سرٹیفکیٹ وغیرہ کے فوائد حاصل کیے ہیں۔ اب 90 فیصد سے زیادہ لوگ اس سروس کو آن لائن استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے بعد ہم نے 2016 میں عوامی شکایات کے ازالے کا ایکٹ نافذ کیا۔ اس کے تحت اب تک 12 لاکھ 70 ہزار 179 موصول درخواستوں میں سے تقریبا12 لاکھ سے زائد درخواستوں پر کارروائی کی جا چکی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ سال 2015 میں ہم نے 7 عزائم منصوبوں کا اعلان کیا۔ اس کے تحت بہار میں کافی کام ہو رہا ہے۔ آپ سب ان سب باتوں کا خاص خیال رکھیں گے۔ سال 2018 میں درج فہرست ذت و قبائل سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں میں کاروباری صلاحیت پیدا کرنے اور کاروبار کرنے میں ان کی مدد کرنے کے لیے ایک اسکیم شروع کی گئی ۔ اس کے تحت 10 لاکھ روپے کی مدد دی جاتی ہے۔ اس میں 5 لاکھ روپے گرانٹ کے طور پر جبکہ 5 لاکھ روپے بلاسود قرض کے طور پر فراہم کیے جاتے ہیں۔ سال 2020 میں انتہائی پسماندہ طبقات کے لوگوں کو بھی اس اسکیم میں شامل کیا گیا تھا۔ اب تمام طبقات اور مذاہب کی خواتین کو اس اسکیم کا فائدہ مل رہا ہے۔ اس اسکیم میں باقی لوگوں کو بھی شامل کرتے ہوئے 5 لاکھ روپے کی گرانٹ دی جائے گی،جبکہ 5لاکھ روپے ایک فیصد سود کی شرح پر مہیا رکرایا جارہا ہے ۔
بڑی تعداد میں لوگ اس کا فائدہ حاصل کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بہار میں سڑک ،پل ،پلیوں اور عمارت کی تعمیرکے ساتھ ہی اس کا مینٹننس بھی کیا جارہا ہے ۔ اس کو لے کر اب ٹینڈر نہیں ہو گا ،بلکہ کنسرن ڈپارٹمنٹ کے ذریعہ مینٹننس کا کام کرایا جائے گا ۔ اس کے لیے ضرورت کے مطابق افسران اور ملازمین کی تقرری کی جائے گی ۔
وزیر اعلیٰ نے نو تقرر افسران سے اپیل کر تے ہوئے کہا کہ آپ لوگ اپنا اپنا کام پوری مضبوطی سے کیجئے گا ۔ آپ تمام لوگوں نے ہاتھ اٹھا کر اپنے فرائض کی ادائیگی پوری ایمانداری کے ساتھ ادا کر نے کا عہد کیا ہے۔ کچھ لوگ گڑبڑی کر نے والے ہو تے ہیں ۔ جب حکومت اتنا دے رہی ہے تو دائیں بائیں کر نے کی ضرورت نہیں ہے ۔ آپ لوگ ادھر ادھر کا کام مت کیجئے گا ۔ بہار پسماندہ ریاست ہے ، اگر بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ مل جاتا ہے تو بہار اور آگے بڑھ جاتا ۔ آپ تمام لوگ عوامی مفاد میں پوری مضبوطی کے ساتھ کام کیجئے گا تو اس کا فائدہ لوگوں کو ہو گا ۔ اس سے سماج اور بہار آگے بڑھے گا ، کوئی غریب نہیں رہے گا ۔ ہم لوگ ہر علاقہ میں ترقی کا کام کررہے ہیں ،تاکہ سب کی ترقی ہو سکے ۔ آپ لوگوں کو میں پھر اپنی مبارکباد پیش کر تا ہوں۔
پروگرام کونائب وزیر اعلیٰ جناب تیجسوی پرساد یادو، مالیات، کمرشیل ٹیکس اور پارلیمانی امور کے وزیر جناب وجے کمار چودھری، محصولات اور اصلاحات اراضی و گنے کی صنعت کے وزیر جناب آلوک مہتا، دیہی ترقیات کے وزیر جناب شرون کمار، خوراک وصارفین تحفظ کی وزیر محترمہ لیشی سنگھ، ٹرانسپورٹ کی وزیر محترمہ شیلا کماری، چیف سکریٹری جناب عامر سبحانی اور جنرل ایڈمنسٹریشن کے پرنسپل سکریٹری مسٹر بی راجندر نے بھی خطاب کیا۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری جناب دیپک کمار ، ایڈیشنل چیف سیکریٹر ی ریوینو و اصلاح اراضی محکمہ مسٹر برجیش مرہوترا ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ مسٹر چیتنئے پرساد ، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹر مسٹر ایس سدھارتھ ، پرنسپل سیکریٹر دیہی ترقیات مسٹر اروند کمارچودھر ی ، سیکریٹری خوراک و صارفین تحفظ محکمہ مسٹر ونئے کمار ، سیکریٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ محکمہ مسٹر جتندر سریواستو، سیکریٹر گنے کی صنعت مسٹر نرمدیشور لال ، سیکریٹری ٹرانسپورٹ مسٹر پنکج کمار پال ، سیکریٹر کمرشیل ٹیکس مسز پرتماایس ورما ، وزیر ا علیٰ کے سیکریٹر مسٹر انوپم کمار ، وزیر اعلیٰ کے اوایس ڈی مسٹر گوپال سنگھ ، سیکریٹر دیہی ترقیات محکمہ مسٹر بالا موروگن ڈی ، ڈی ایم مسٹر چندرشیکھر سنگھ ، ایس ایس پی مسٹر مانوجیت سنگھ ڈھلوں سمیت دیگر اہم شخصیات اور تقررنامہ پانے والے مختلف محکموں کے افسران موجودتھے ۔

 

About awazebihar

Check Also

ہائی کورٹ نے بھی نتیش کے فیصلہ پر مہر ثبت کردیا

پٹنہ (اے بی این) بہار میں 75 فیصد ریزرویشن قانون پر ہائی کورٹ نے روک …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *