بی جے پی کے اراکین قانون سازیہ کا راج بھون مارچ

پٹنہ، 16 دسمبر (اے بی این ایس):چھپرہ میں درجنوں افراد کی اموات اور زہریلی شراب کے سانحہ پر حزب مخالف بھارتیہ جنتا پارٹی نے جمعہ کو مسلسل تیسرے دن بھی بہار قانون سازیہ کے دونوں ایوانوں اسمبلی و کونسل میں حکومت مخالف نعرے بازی، مظاہرے اور ہنگامے کا سلسلہ جاری رکھا جس کی وجہ سے دونوں ایوانوں میں اجلاس کی کارروائی بار بار ملتوی کرنے پر صدر نشیں کو مجبور ہونا پڑا۔ کونسل میں 11 بجے دن میں اجلاس کی کارروائی جیسے ہی شروع ہوئی چیئرمین دیویش چندر ٹھاکر نے ایوان کے ضابطہ کا سبق پڑھایا اور اس پر عمل کی حزب مخالف بی جے پی کو تلقین کی لیکن صدر نشیں کی نصیحتیں سننے کے بجائے بی جےپی اراکین نے ایک بار پھر تحریک التوا کی تجویز پیش کی اور ایوان میں چھپرہ سانحہ پر بحث کا مطالبہ کیا جس پر چیئرمین نے واضح طور پر کہا کہ دو دنوں تک آپ لوگوں نے اسی ایک مسئلہ پر ہنگامہ کر کے اجلاس کی کارروائی کو ٹھپ رکھا اس لئے اب کارروائی چلنے دی جائے۔ اس پر حزب مخالف کے رہنما سمراٹ چودھری نے وضاحت کرتے ہوئے اپیل کی کہ آج اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ جو لوگ چھپرہ میں زہریلی شراب سے موت کا شکار ہوئے ہیں ان کے اہلخانہ اور ورثا سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے حکومت مالی معاوضہ دے اور راحت و بازآبادکاری کا انتظام کرے۔ حکومت کی جانب سے اپوزیشن لیڈر سمراٹ چودھری کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے پارلیمانی امور کے وزیر وجئے کمار چودھری نے کہا کہ یہ تو بالکل بے کار کی بات ہے اور اس مطالبے کا کوئی جواز بھی نہیں ہے یہ تو انتہائی شرمناک معاملہ ہے کہ جس بری اور مہلک چیز سے پرہیز کرنے کی بار بار تلقین و اپیل کی جا رہی ہے اسی چیز کو کچھ لوگ پی کر موت کا شکار ہو رہے ہیں اور کچھ لوگ ایسی گندہ چیز کا کاروبار کرتے ہیں اور موت کا سوداگر بنے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو شرم کرنی چاہئے اور شرابیوں کی موت پر معاوضہ کا مطالبہ کرنے میں بھی شرم آنی چاہئے۔ ایک تو قانون کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے اور دوسرے یہ کہ معاوضہ مانگا جا رہا ہے ایسا کیسے ممکن ہے۔ ادھر اسمبلی میں حزب مخالف کے رہنما وجئے کمار سنہا نے جمعہ کو اجلاس کی کارروائی شروع ہوتے ہی یہ معاملہ زور وشور سے اٹھایا اور اسی دوران حکمراں جماعت کے تبصرے بھی ہوئے۔ اپوزیشن کی جانب سے بی جے پی رکن پرمود کمار نے ویل میں پہنچ کر رپورٹر ٹیبل کو الٹا دیا اور مظاہرہ کیا اس پر اسپیکر اودھ بہاری چودھری نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔ پھر ایوان میں کرسی توڑے جانے کا شور ہوگیا اور زبردست ہنگامہ ہوگیا۔ چند لمحے بعد اپوزیشن لیڈر باہر نکل کر میڈیا سے روبرو ہوئے اور اسپیکر پر جانب داری و حکومت کی طرفداری کا الزام لگایا۔ اس کے بعد اسمبلی و کونسل دونوں ایوانوں میں صدر نشیں نے اجلاس کی کارروائی دو۔دو بار ملتوی کی۔ پھر وجئے سنہا اور سمراٹ چودھری کی مشترکہ قیادت میں بی جےپی کے تمام اراکین قانون سازیہ نے اسمبلی سے راج بھون مارچ کیا اور اس دوران سبھی اراکین قانون سازیہ کافی تیزی سے دوڑتے رہے۔چند منٹوں کے اندر اسمبلی سے راج بھون پہنچ گئے جس سے بی جے پی کے اندر ضابطہ و ڈسپلین پوری طرح تار تار ہو کر رہ گیا اور پارٹی وتھ ڈفرنس کا دعویٰ کرنے والی بی جے پی پوری طرح بے نقاب ہوکر رہ گئی جہاں راج بھون مارچ میں شامل بی جے پی کے ہی کچھ سینئر اراکین قانون سازیہ نے دوڑ لگانے پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس طرح سے نہیں ہوتا ہے اور یہ پارٹی کے ضابطہ و ڈسپلین کے خلاف ہے اب بی جے پی بھی دوسری پارٹیوں جیسی ہی بن گئی ہے جہاں کوئی ضابطہ اور ڈسپلین نہیں ہے۔ راج بھون مارچ کے دوران ایک خاص بات اور خوبی یہ رہی کہ 80 سال کے 5-4 اراکین قانون سازیہ بھی مسلسل دوڑتے رہے اور دوڑ کر ہی راج بھون پہنچے جو ان کی مجبوری بھی تھی۔ گیٹ پر پہنچتے ہی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر وجے سنہا نے اپنی پارٹی کے ایک ایک کر کے تمام اراکین قانون سازیہ کو راج بھون کے اندر داخل کروایا اور 2-2 بار باہر نکل کر اپنے اراکین قانون سازیہ کی شدت سے تلاش کی اور کہا کہ کوئی باہر نہ چھوٹنے پائے۔ بعد میں دونوں اپوزیشن لیڈران کی مشترکہ قیادت میں پارٹی کے تمام اراکین قانون سازیہ نے راج بھون میں گورنر پھاگو چوہان سے ملاقات کی اور انہیں ایک میمورنڈم سونپ کر زہریلی شراب سے مرنے والے لوگوں کے ورثا کو معاوضہ دینے، ریاستی حکومت کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے برطرف کرنے اور بہار میں صدر راج نافذ کرنے کا پرزور مطالبہ کیا۔ راج بھون مارچ میں پارٹی رہنما امریندر پرتاپ سنگھ، نند کشور یادو، گوپال نارائن سنگھ، تارکشور پرساد، نتیش مشرا، مراری موہن جھا، ہری بھوشن ٹھاکر بچول، بھسم سہنی، ہری سہنی، سنجے سراوگی، جیویش کمار مشرا، اودھیش نارائن سنگھ وغیرہ بھی شامل تھے۔

 

About awazebihar

Check Also

پٹنہ میں صفائی ملازمین کی ہڑتال 14 دن بعد ختم

پٹنہ : (اے بی این ) پٹنہ میونسپل کارپوریشن کے صفائی ملازمین کی ہڑتال ختم …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *