خون کا عطیہ کرنا ایک بہت بڑی نیکی ہے ‘ضرورت مندوں کی مدد ہوتی ہے: انور رحمانی

سمستی پور: مورخہ 5/فروری (محمد خورشید عالم )
سمستی پور کا معتبر رضاکار تنظیم بہار یوتھ فیڈریشن کی جانب سے مدرسہ فیض القرآن جتوار پور چوتھ سمستی پور میں خون عطیہ کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔جسکا افتتاح مولانا انور رحمانی،وارڈ پارشد عزیز الرحمن تاجو اور ڈاکٹر ایم این رحمن نے مشترکہ طور پر کیا۔اس موقع پر مدرسہ ہذا کے مہتمم و متولی جامع مسجد جتوار پور چوتھ مولانا انور رحمانی نے کہا کہ خون کا عطیہ کرنا ایک بہت بڑی نیکی ہے جس سے ضرورت مندوں کی مدد ہوتی ہے اور اس عظیم عطیہ جیسا کوئی دوسرا عطیہ نہیں ہے۔ اور انہوں نے اس کی افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے مزید کہا کہ خون کا عطیہ کرنا نہ صرف ایک شخص کی زندگی بچاتا ہے بلکہ اس سے وابستہ خاندان کے دیگر افراد کی امیدوں کو بھی زندہ رکھتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ خون کا عطیہ کرنے سے ڈونر میں دل کے امراض اور فالج کا خطرہ کم ہوجاتا ہے اور ہنگامی حالات میں خون کی فراہمی کے لیے خون عطیہ کیمپ کا انعقاد ہونا ضروری ہے کیونکہ کئی بار ایسی صورتحال آتی ہے جن میں خون کی شدید کمی ہوتی ہے اور انہیں ایمرجنسی کے وقت خون کی ضرورت ہوتی ہے اور انہوں نے نوجوانوں کو خون کا عطیہ دینے جیسے سماجی کام کرنے پر ابھارا اور کہا یہ ہر ایک کی ذمہ داری اور اسکا فرض ہے۔
جب کہ خون عطیہ کرنے آے ہوئے مفتی محمد دانش انور قاسمی ریسرچ اسکالر مانو حیدرآباد نے کہا کہ خون عطیہ کرنے سے انسانیت کی خدمت ہوتی ہے اور اسلام میں انسانیت کی خدمت کی بہت اہمیت ہے انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اسلامک فقہ اکیڈمی کے چوبیسویں سیمینار میں یہ بات طے ہوئی کہ ایسے بلڈ بینک جہاں لوگ رضاکارانہ طور پر خون عطیہ دیتے ہیں اور وہ بینک ضرورت مندوں کو مفت خون فراہم کرتے ہیں وہاں لوگوں کو چاہیے کہ خون کا عطیہ کریں اور رضاکارانہ بلڈ کیمپ لگانا اور بلڈ بینک قائم کرنا بھی انسانی ضرورت کے پیش نظر اہمیت کا حامل ہے۔ اور یہ وقت کی ضرورت کے ساتھ ساتھ انسانی خدمت میں بھی شامل ہے۔وہیں ڈاکٹر ایم این رحمن نے کہا کہ خون انسانی جسم کا اہم ترین جز ہے،شریانوں میں اس کی متوازن گردش اچھی صحت کی علامت ہونے کے ساتھ زندگی کا پیغام بھی دیتی ہے۔خون کے بغیر انسانی زندگی کا تصور ناممکن ہے ، یہی وجہ ہے کہ بیماری ہو یا حادثہ ، آپریشن ہو یا کوئی اور صورت خون ہر حال میں ضروری ہوتا ہے۔کہیں بھی حادثہ پیش آجانے کی صورت میں خون بہنے لگتا ہے جس کے بعد خون کی اشد ضرورت پیش آتی ہے جس کے لیے لوگ انسانی خدمت کے طور پر اپنا خون کا عطیہ کرتے ہیں اور دوسروں کی زندگی بچانے کے لیے اس کار خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔خون کا عطیہ نہ صرف صحت کے لیے ضروری ہے بلکہ اخلاقی اور انسانیت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ کار خیر کسی عبادت سے کم نہیں،قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ”جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے ساری انسانیت کی جان بچائی“ ۔یہی وجہ ہے کہ جب کسی کو خون کی ضرورت ہوتی ہے تو ہر انسان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اس میں پیش پیش رہے۔خون کی فوری ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ہرجگہ بلڈ بینک بھی قائم کیے گئے ہیں جہاں فوری طور پرخون باآسانی دستیاب ہوتا ہے اور مریض زندگی کی جنگ ہارنے کی بجائے جیت جاتا ہے۔اگر غور کیا جائے تو اس سے خون کی اہمیت کا اندازہ کیا بلکہ یقین ہوجاتا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق ایک صحت مند انسان کو سال میں دو سے تین مرتبہ خون ضرور عطیہ کرنا چاہیے۔قدرت نے ہرصحت مند انسان کے جسم میں اضافی خون رکھا ہے جو ضرورت پڑنے پر دوسروں کے کام آتا ہے، خون عطیہ کرنے کے بارے میں ایک خیال یہ بھی ہے کہ اس سے صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ، حقیقت دیکھی جائے تو اس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔طبی تحقیقات کے حوالے سے دیکھا جائے تو خون عطیہ کرنے کے بعد انسانی جسم خون بنانے کا عمل مزید تیز کردیتا ہے اور دیے گئے خون کی کمی کچھ ہی دنوں میں نہ صرف پوری ہوجاتی ہے بلکہ صحت بھی مزید اچھی ہونے لگتی ہے۔کچھ بیماریاں ایسی بھی ہوتی ہیں جن میں مریض کو مستقل خون کی ضرورت ہوتی ہے ہر ایک دو ماہ بعد اسے نیا خون درکار ہوتا ہے جس میں تھیلیسمیا کی بیماری خاص طور پر قابل ذکر ہے ایسے افراد کی زندگی بچانے کے لیے خون کا عطیہ صدقہ جاریہ سے کم نہیں ہوتا۔خون عطیہ کرنے کا نظام پوری دنیا میں رائج ہے ، لوگ رضاکارانہ طور پر اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے خون دیتے ہیں ، جو دوسروں کی جان بچانے میں معاون ثابت ہوتا ہے اور اس سے معاشرے میں بیماریوں سے بچاؤ کا راستہ بھی نکلتا ہے۔جبکہ وارڈ پارشد عزیز الرحمن نے اپنے خطاب میں کہا کہ کہتے ہیں کہ کسی کے کام آنا ہی اصل زندگی ہے اور ایک انسان کی زندگی بچانا دراصل پوری انسانیت کو بچانے جیسا ہے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے یہاں جب بھی آفات و حادثات میں زخمیوں کی تعداد بڑھتی ہے تو انہیں خون عطیہ کرنے والوں کی تعداد ان سے بھی کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ انسانی ہمدردی کی معراج بھی یہی ہے کہ آپ ایسی چیز عطیہ کرکے دوسروں کی زندگی بچانے میں مدد کریں جو خود بھی آ پ کیلئے بہت قیمتی ہے۔وہیں فیڈریشن کے صدر محمد تمنا خان نے کہا کہ خون کا عطیہ نہ صرف لوگوں کو طویل اور صحت مند زندگی گزارنے کے قابل بناتا ہے بلکہ یہ عطیہ کرنے والوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔ دوسروں کی خدمت کرنا تناؤ کو کم کر سکتا ہے، جسمانی اور ذہنی تندرستی کو بڑھا سکتا ہے، ناخوشگوار جذبات کو ختم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔خون کا عطیہ ایک جان بچانے والا عمل ہے جو عطیہ کرنے والے کو کئی طریقوں سے فوائد فراہم کرتا ہے۔ خون کا ایک عطیہ زیادہ سے زیادہ تین زندگیوں کو بچا سکتا ہے۔ کیمپ میں بہار یوتھ فیڈریشن کے صدر محمد تمنا خان،وارڈ پارشد عزیز الرحمن،صحافی تنویر عالم تنہا اور افروز عالم کے علاؤہ محمد فیض اکرم،محمد غفران،ارشد علی،محمد امجد،انوارالحق،ارشد علی،محمد ساجد،کاشف انور،صدرالحسن،صغیر عالم،محمد احتشام،محمد شاکر سمیت 32 لوگوں نے خون کا عطیہ دیا۔اس موقع پر محمد روبید،پپو خان،محمد نوشاد،محمد فیروز,مرزا فرہاد بیگ،محمد وسیم،عبدالقادر وغیرہ لوگ موجود تھے۔

About awazebihar

Check Also

ملک کی موجودہ نازک صورتِ حال میں مسلمان صبر و ضبط کے ساتھ زندگی گزاریں

 جمعیۃ علماء( ارشدمدنی) دھولیہ کے جلسہ سیرت النبی ﷺ میں مفسرِ قرآن، حضرت مولانا مختار …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *