جے این یو سماجی حساسیت اور خواتین کو بااختیار بنانے میں بھرپور حصہ ڈال رہا ہے: مرمو

نئی دہلی، 10 مارچ (یو این آئی) صدر دروپدی مرمو نے آج کہا کہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی اپنی ترقی پسند سرگرمیوں، سماجی حساسیت، جامعیت اور خواتین کو بااختیار بنانے میں بھرپور تعاون کے لئے جانا جاتا ہے۔محترمہ مرمو نے جمعہ کو یہاں جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے چھٹے کانووکیشن کی تقریب میں شرکت کی اور طلباء سے خطاب کیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر جمہوریہ نے کہا کہ اس یونیورسٹی میں پورے ملک کے طلباء پڑھتے ہیں اور یہ تنوع کے درمیان ہندوستان کے ثقافتی اتحاد کا زندہ عکس پیش کرتا ہے۔ اس یونیورسٹی میں کئی دوسرے ممالک کے طلباء بھی پڑھتے ہیں۔ اس طرح ایک تعلیمی مرکز کے طور پر اس کی کشش ہندوستان سے باہر بھی پھیلی ہوئی ہے۔صدر نے کہا کہ یونیورسٹی اپنی ترقی پسند سرگرمیوں اور سماجی حساسیت، شمولیت اور خواتین کو بااختیار بنانے میں بھرپور تعاون کے لیے جانا جاتا ہے۔
محترمہ مرمو نے کہا کہ یونیورسٹی کے طلباء اور اساتذہ نے تعلیم، تحقیق، سیاست، سول سروس، سفارت کاری، سماجی کام، سائنس اور ٹیکنالوجی، میڈیا، ادب، آرٹ اور ثقافت جیسے مختلف شعبوں میں متاثر کن خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ جے این یو2017 سے مسلسل ‘قومی ادارہ جاتی درجہ بندی فریم ورک’ کے تحت ملک کی یونیورسٹیوں میں دوسرے نمبر پر ہے۔
صدر نے کہا کہ یونیورسٹی کے وژن، مشن اور مقاصد کا اظہار اس کے بانی قوانین میں کیا گیا ہے۔ ان بنیادی نظریات میں قومی یکجہتی، سماجی انصاف، سیکولرازم، جمہوری طرز زندگی، بین الاقوامی افہام و تفہیم اور معاشرے کے مسائل کے لیے سائنسی نقطہ نظر شامل ہیں۔ انہوں نے یونیورسٹی پر زور دیا کہ وہ ان بنیادی اصولوں پر عمل پیرا رہے۔
انہوں نے کہا کہ کردار سازی بھی تعلیم کے بنیادی مقاصد میں سے ایک ہے۔ کردار سازی کے انمول مواقع کو لمحوں کے بہاؤ میں آکر کبھی ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان طلباء میں استفسار، سوال کرنے اور منطق کے استعمال کا فطری رجحان ہوتا ہے۔ اس رجحان کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ نوجوان نسل کو غیر سائنسی دقیانوسی تصورات کی مخالفت کی بھی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ نظریات کی قبولیت یا رد کی بنیاد بحث اور مکالمے پر ہونی چاہیے۔
صدر مملکت نے کہا کہ یونیورسٹی کے طلباء اور اساتذہ کو پوری عالمی برادری کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ ماحولیاتی تبدیلی، آلودگی، جنگ اور بدامنی، دہشت گردی، خواتین کا عدم تحفظ اور عدم مساوات جیسے بہت سے مسائل انسانیت کے سامنے ایک چیلنج بن کر کھڑے ہیں۔ زمانہ قدیم سے لے کر آج تک دنیا کی معروف یونیورسٹیوں نے فرد اور معاشرے کے مسائل کا حل تلاش کیا ہے اور معاشرے کے مقاصد کے حصول میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان مسائل کے بارے میں چوکس اور فعال رہیں۔
انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ جے این یو جیسی یونیورسٹیاں جدوجہد آزادی کے نظریات کو برقرار رکھنے، آئین کی اقدار کے تحفظ اور قوم کی تعمیر کے مقاصد کو حاصل کرنے میں موثر کردار ادا کریں گی۔

 

About awazebihar

Check Also

جموں و کشمیر میں پریس پلیٹ فارم کی موجودہ صورتحال تشویشناک: ڈاکٹر فاروق عبداللہ

سری نگر،3 مئی(یو این آ ئی) جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے صدراور رکن پارلیمان ڈاکٹر …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *