ہیرا گروپ کی تمام جائیدادوں پر سپریم کورٹ کی مہرثبت

جھوٹے دعویداروں کو خارج کردیاگیا / عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ
نئی دہلی ( پریس ریلیز/ مطیع الرحمن عزیز)گزشتہ روز ہیرا گروپ آف کمپنیز کی سماعت عزت مآب سپریم کورٹ میں واقع ہوئی ۔ جس میں کامیاب ایک گھنٹے بیس منٹ جرح اور مباحثے کے درمیان زمینوں کے پیمائش محکمہ کی رپورٹ پر بات چیت ہوئی۔ جس میں سپریم کورٹ نے ہیرا گروپ آف کمپنیز کی زمینوں پر اپنی دعوی داری کا کیس کرنے والوں کو اوندھے منہ گرتے ہوئے دیکھا۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق 4مارچ کے ڈی مارکیشن سروے رپورٹ کو دیکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ دعوی داروں کی تمام باتیں کالعدم اور باطل و جھوٹ پر منحصر ہیں۔ ہیرا گروپ کے علاوہ کسی بھی دعوی دار کے پاس نہ کوئی ٹھوس کاغذات ہیں اور نہ ثبوت۔ اس لئے ٹولی چوکی کی ایس اے کالونی کی زمینوں کو ہیرا گروپ کو سوپتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ ہیرا گروپ ان زمینوں پر اپنا مکمل حق تصرف رکھتی ہے۔ ہیرا گروپ آف کمپنیز کی سی ای او عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ چاہیں تو اسے اپنے استعمال میں لائیں یا فروخت کرکے مسئلہ کے حل کرنے میں پیش رفت کرنا چاہتی ہیں تو سپریم کورٹ ان زمینوں پر مہر ثبت کرکے دے گا تاکہ کسی بھی خرید وفروخت کرنے والے شخص کو شک و صبحہ کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ ان باتوں کی معلومات مطیع الرحمن عزیز ہیرا گروپ معاملات کے جانکار اور نوجوان صحافی نے اپنے جاری ایک بیان میں کیا ہے۔ واضح رہے کہ عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ سے ایک انٹر اور بات چیت کے دوران ان باتوں کا خلاصہ ہوا ہے کہ گزشتہ تمام سماعتوں کی طرح اس سماعت میں بھی سپریم کورٹ نے ہیرا گروپ کے حق میں فیصلہ صادر کیاہے۔
واضح رہے کہ ایس اے کالونی ہیرا گروپ آف کمپنیز کی وہ مہنگی زمین ہے جو حیدر آباد کے آبادی والے علاقے میں واقع ہونے کے ناطے اس کی قیمت دن بدن بڑھتی جا رہی تھی، جس کو پانے کی للک ہر ایک زمین مافیا کے خوابوں میں آ رہی تھی۔ جس کو ہتھیانے کی ناجائز کوشش میں دن رات زمین مافیاﺅں نے مقامی نیتاﺅں اور محکمہ کے لوگوں کے ساتھ مل کر اپنی کوششیں تیز کر دی تھی۔ ایس اے کالونی ٹولی چوکی کی یہی وہ زمین تھی جس پر عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ اور بورڈ آف ڈائرکٹرس کی غیر موجودگی میں کثیر منزلہ عمارت اس نظریہ سے بنا لیا گیا تھا کہ ہیرا گروپ کی سی ای او ابھی نظر بند ہیں اور ان کے آنے تک ان مہنگے فلیٹوں اور پلاٹوں کو فروخت کرکے کنارے ہو جائیں گے۔ لیکن اللہ کی مصلحت ایسی ہوئی کہ عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کو باطلوں کی تمام پلاننگ کے باوجود پہلے ضمنی عدالتوں اور ہائی کورٹ کے راستے سپریم کورٹ سے انصاف میسر ہوا اور وہ ضمانت پر رہا ہوئیں۔ سی ای او عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کا جب ایس اے کالونی ٹولی چوکی کی زمین پر دورہ ہوا تو وہاں کا نقشہ بدل چکا تھا۔ اور زمین مافیاﺅں نے خالص ہیرا گروپ کی زمینوں پر کثیر منزلہ عمارت بنا لیا تھا۔ اس بات کی شکایت محکمہ جات میں کی گئی۔ آخر کار سرکاری محکموں نے ان بلڈنگون کی جانچ پڑتال کرتے ہوئے اس کے چھتوں کے اکثر منزلوںمیں ہتھوڑے چلا کر زمین مافیاﺅں کی ناجائز کرتوت کا نقشہ بدل دیا۔
یہی کارروائی زمین مافیاﺅں نے ہیرا گروپ کی خالص پڑی زمینوں پر بھی قبضے کی چلائی گئی تھی۔ اور زمین مافیاﺅں کی ہٹ دھرمی اتنی بڑھ گئی تھی کہ وہ عدالتوں یہاں تک کہ سپریم کورٹ میں بھی اپنی دعویداری پیش کر رہے تھے۔ اس بات کو دیکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے ڈی مارکیشن سروے ڈپارٹمنٹ کو حکم دیا کہ ان زمینوں کی جانچ پڑتال اور پیمائش کرکے رپورٹ داخل کیا جائے۔ لہذا 4مارچ 2023کو بڑی مستعدی کے ساتھ پولس فورس کے درمیان ڈی مارکیشن پیمائش عمل میں لایا گیا۔ جس کی رپورٹ 25مارچ کو منظر عام پر آ گئی۔ اور وہی سروے رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی گئی اور یہ پایا گیا کہ تمام باطل زمین مافیاﺅں کی دعویداری ناجاجز اور لالچ پرمنحصر ہے۔ لہذا ہیرا گروپ کی تمام زمینوں پر اس کے اصل مالک عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کا قبضہ دیا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ اگر پھر بھی کسی طرح کی دقت کا سامنا ہوتا ہے تو سپریم کورٹ اپنی مہر ثبت کرکے ہیرا گروپ کی زمینوں پر اس کے حق تصرف کا اختیار دینے کے لئے تیار ہے۔ ان باتوں کو عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے ایک چھوٹی ویڈیو جاری کرکے سپریم کورٹ احاطہ سے اپنے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے مداحوں اور حمایتیوں کو خوشخبری دی اور پھر اس کے بعد ایک ذاتی چینل کو بھی انٹر ویو دے کر تمام تفصیلات سے عوام کو روبرو کرایا۔ کل ملا کر ہیرا گروپ کی فتوحات کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ اور عنقریب وہ دن دور نہیں جب ہیرا گروپ اپنے سرمایہ کاروں کے ساتھ مل کر کمپنی کو مزید اور آگے بڑھانے کے لئے میدان میں پوری طرح سے اتر جائے گا۔

About awazebihar

Check Also

منی پور میں دیہات پر حملہ، 25 دہشت گرد گرفتار، سیکورٹی سخت

امپھال، 29 مئی (یو این آئی) مسلح دہشت گردوں نے پیر کو منی پور کی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *