منگل، 13 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار

آواز ای بہار

ای پیپر
اہم خبریںقومیسیاستکھیلبہارقومیسیاستکھیلمضامینعالمی خبریںمزید
  • اہم خبریں
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • اہم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
آواز ای بہار
  • ہوم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
اردوहिन्दीEnglish

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

سبسکرائب

Email: awazebihar@gmail.com|Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
فرانس میں سیکڑوں سپر مارکیٹوں پر سائبر حملہ، فریج گرم ہونے سے خوراک خراب، کئی مقامات پر آگ لگی
  1. ہوم
  2. عالمی خبریں
عالمی خبریں

فرانس میں سیکڑوں سپر مارکیٹوں پر سائبر حملہ، فریج گرم ہونے سے خوراک خراب، کئی مقامات پر آگ لگی

Awaz E Bihar
•13 اکتوبر، 2026 کو 04:31 PM•0 ویوز•4 منٹ پڑھیں

فرانس میں سیکڑوں سپر مارکیٹوں کے ریفریجریشن نظام پر بڑے پیمانے پر سائبر حملے کے نتیجے میں فریج اور فریزر کا درجۂ حرارت بڑھ کر 50 ڈگری سیلسیئس تک پہنچ گیا، جس سے بڑی مقدار میں خوراک خراب ہوگئی اور کئی اسٹوروں میں آگ لگنے کے واقعات پیش آئے۔فرانس کی بڑی خوردہ کمپنیوں انٹرماریشے، کوآپریٹو یو، ای لی کلیرک اور دیگر اداروں نے پیر کو اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے غیر معمولی قرار دیا۔خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق، انٹرماریشے اور اس کے ذیلی برانڈ نیٹو کے کم از کم 300 اسٹوروں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ کوآپریٹو یو کے 100 سے زیادہ مراکز متاثر ہوئے۔ کیریفور نے بتایا کہ اس کے 80 سپر مارکیٹوں میں سائبر حملے کے اثرات دیکھے گئے، جبکہ مونوپری کے تقریباً 490 اسٹوروں میں سے پانچ فیصد متاثر ہوئے۔ ای لی کلیرک نے بھی اپنے متعدد اسٹوروں کو نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کی۔
پیرس کے پراسیکیوٹر دفتر کے مطابق، اس بڑے سائبر حملے نے فرانس کی کئی بڑی غذائی خوردہ کمپنیوں کے انٹرنیٹ سے منسلک ریفریجریشن نظام کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں خوراک کا نقصان ہوا اور آگ لگنے کے واقعات پیش آئے۔حملے کے بعد وزیر اعظم سباستیاں لیکورنو نے فرانس کی قومی سائبر سکیورٹی ایجنسی (اے این ایس ایس آئی) کو تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ ان کے دفتر کے ایک عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ فرانس یورپی ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے، کیونکہ دوسرے ملک بھی اس حملے سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ حکام یہ بھی جانچ رہے ہیں کہ آیا فرانس کی دیگر کمپنیوں کو بھی خطرہ لاحق ہے۔انٹرماریشے کے چیف ایگزیکٹو تھیری کوتیار نے بی ایف ایم ٹی وی کو بتایا کہ اس غیر معمولی حملے سے فرانس بھر میں ایک ہی دن کے دوران کئی کروڑ یورو کا نقصان ہوسکتا ہے۔
ٹی وی رپورٹ کے مطابق، ہیکروں نے دور سے ریفریجریشن نظام کو جبراً ڈی فراسٹ کرنے پر مجبور کیا، جس کے نتیجے میں تازہ اور منجمد اشیائے خورونوش کا ذخیرہ تباہ ہوگیا۔ انٹرماریشے نے اے ایف پی کو بتایا کہ متاثرہ اسٹوروں کو تازہ اور منجمد خوراک کی تمام متاثرہ اشیا پھینکنی پڑیں گی۔کوآپریٹو یو کے چیف ایگزیکٹو ڈومینک شیلشر نے کہا کہ اتوار کی رات سے کمپنی کے ریفریجریشن نظام میں خلل پڑا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ تازہ خوراک کے تحفظ اور عوام کو غذائی اشیا کی فراہمی کے لیے ضروری آلات کو نشانہ بنانا انتہائی سنگین اور ناقابل قبول ہے۔انہوں نے کہا کہ کمپنی کی ٹیمیں نظام کو جلد از جلد معمول پر لانے کے لیے کام کر رہی ہیں اور حملے کی مکمل حقیقت سامنے لانے کے لیے تحقیقات ضروری ہیں۔
لیکورنو کے دفتر سے وابستہ ایک ذریعے کے مطابق، فرانس کی سائبر سکیورٹی ایجنسی نے ڈنمارک کی کمپنی ڈینفوس کے فراہم کردہ سافٹ ویئر میں ایک خامی کی نشاندہی کی ہے۔ڈینفوس نے کہا کہ اسے فرانس میں ریفریجریشن نظام کے انتظام سے متعلق محدود تعداد میں واقعات کا علم ہے۔ کمپنی کے مطابق، متاثرہ آلات میں فرسودہ فرم ویئر استعمال ہو رہا تھا۔ اس نے کہا کہ وہ صارفین کو طویل عرصے سے سافٹ ویئر اپ ڈیٹ رکھنے اور پرانے آلات تبدیل کرنے کا مشورہ دیتی رہی ہے۔سائبر سکیورٹی کمپنی کلیرٹی نے 9 اگست کو اپنی ایک تحقیق میں ڈینفوس کے نظام میں ایسی خامیوں کی نشاندہی کی تھی، جن کے ذریعے حملہ آور حفاظتی تصدیق کے عمل کو نظرانداز کرسکتے تھے۔
فرانس کی خوردہ تجارت کی تنظیم ایف سی ڈی نے ڈینفوس سے مکمل شفافیت کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق، بعض متاثرہ اسٹوروں میں کام دوبارہ شروع ہوچکا ہے۔
سائبر خطرات سے متعلق تجزیہ کار فیلکس ایمے نے رائٹرز کو بتایا کہ اسپین، پرتگال، پولینڈ، جرمنی اور بیلجیم بھی اس حملے سے متاثر ہوئے ہیں۔
سائبر سکیورٹی تجزیہ کار اسٹیون لاشانس نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ اس نوعیت کے حملے بالکل نئے نہیں، تاہم اتنے بڑے پیمانے پر ان کا ہونا غیر معمولی ہے۔ ان کے مطابق، انٹرنیٹ سے منسلک آلات میں کسی خامی کا پتہ چلنے کے بعد حملہ آور دور بیٹھ کر ان تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں اور ان کے افعال کو کنٹرول کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہاہم ایسے بنیادی نظام استعمال کر رہے ہیں جو انٹرنیٹ سے براہ راست منسلک ہیں اور ہیک کیے جاسکتے ہیں۔ یہ ایک نئی حقیقت ہے۔انہوں نے اس واقعے کو عالمی سطح پر خبردار کرنے والا ایک اہم واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے حملوں کی روک تھام کے لیے قومی اور بین الاقوامی اقدامات ناگزیر ہیں۔
لاشانس نے خبردار کیا کہ اگرچہ اس بار خوردہ کمپنیوں کو خوراک کے نقصان کی صورت میں لاکھوں یورو کا خسارہ اٹھانا پڑا ہے، لیکن مستقبل میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے یا اسپتالوں کو بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
شیئر کریں:

Awaz E Bihar

تجربہ کار صحافی اور مصنف

متعلقہ خبریں

سوڈان میں سونے کی کان پر فضائی حملہ، کم از کم 72 کان کن ہلاک
عالمی خبریں

سوڈان میں سونے کی کان پر فضائی حملہ، کم از کم 72 کان کن ہلاک

Awaz E Bihar•12 اکتوبر، 2026•14 ویوز
آپریشن ’’فجر الیمن‘‘ جاری، حوثیوں کے ٹھکانوں اور اسلحہ گوداموں پر حملے جاری
عالمی خبریں

آپریشن ’’فجر الیمن‘‘ جاری، حوثیوں کے ٹھکانوں اور اسلحہ گوداموں پر حملے جاری

Awaz E Bihar•11 اکتوبر، 2026•6 ویوز
یمن میں لڑائی تیز، انسانی بحران سنگین ہونے کا خدشہ
عالمی خبریں

یمن میں لڑائی تیز، انسانی بحران سنگین ہونے کا خدشہ

Awaz E Bihar•7 اکتوبر، 2026•10 ویوز