منگل، 13 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار

آواز ای بہار

ای پیپر
اہم خبریںقومیسیاستکھیلبہارقومیسیاستکھیلمضامینعالمی خبریںمزید
  • اہم خبریں
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • اہم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
آواز ای بہار
  • ہوم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
اردوहिन्दीEnglish

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

سبسکرائب

Email: awazebihar@gmail.com|Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
کسی تخلیق کے صنفی مزاج کو سمجھ کر ترجمے کا کام کیا جانا چاہیے:پروفیسر احمد بدر
  1. ہوم
  2. بہار
بہار

کسی تخلیق کے صنفی مزاج کو سمجھ کر ترجمے کا کام کیا جانا چاہیے:پروفیسر احمد بدر

Awaz E Bihar
•8 اکتوبر، 2026 کو 04:06 PM•13 ویوز•6 منٹ پڑھیں

لفظ اور معنی کے ما بین پوشیدہ مقاصدکو باریکی سے سمجھے بغیر مترجم کامیاب نہیں ہو سکتا :پروفیسر علی رفاد فتیحی کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس کے شعبہئ اردو میں منعقدہ ترجمہ ورک شاپ کے تیسرے دن ماہرین کا اظہار خیال

پٹنہ۔ ۸/ اکتوبر۔مترجم لفظ اور معنی کی دھوپ چھاؤں میں زندگی گزارتا ہے، کبھی وہ کامیاب ہوتا ہے اور کبھی ناکام۔اس کی سرخ روئی اس بات میں مضمر ہے کہ بنیادی متن میں مصنف نے جو مقاصد ظاہر یا پوشیدہ طور پر رکھ چھوڑے ہیں،وہاں تک پہنچنے کے وہ کون سے وسائل آزماتا ہے؟لفظوں کے جال میں اگر وہ پھنس گیا تو وہ معنی کے طلسمات سے کہیں بے خبر نہ ہو جائے۔معنی پر ارتکاز قائم کرتے ہوئے مصنف کے اسلوب سے وہ بھٹک جائے،اس وقت بھی اس کی نا کامی طے ہے۔اس لیے ایک مترجم کے لیے یہ لازم ہے کہ پہلے وہ مصنف کے مقاصد کو سمجھے، اس کے بعد ان کی زبا ن اور ان کے الفاظ کے وسائل کو اپنی قید میں لے آئے۔
قومی ترجمہ مشن،میسور اور شعبہئ اردو کے زیرِ اہتمام کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس،پٹنہ میں ہندوستانی زبانوں میں تراجم کے مسائل اور امکانات موضوع پر منعقدہ پانچ روزہ ورک شاپ سے خطاب کرتے ہوئے مشہور ماہرِ لسانیات اور نقاد، علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی کے سابق صدر شعبہئ لسانیات پروفیسر علی رفاد فتیحی نے مذکورہ باتیں کہیں۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ جس طرح ایک زبان کے اندر کئی زبانیں پیوست ہوتی ہیں،اسی طرح ہر مترجم کو ترجمے کے دوران زبان کی مختلف سطحوں کو پہچاننا چاہیے اور ان کے مطابق اپنی کار کردگی متعین کرنی چاہیے۔انہوں نے قواعد کے نظام،نحوی طریقہئ کا ر اور استعاراتی خوش سلیقگی کو بغور ملاحظہ کرنے کی سفارش کی۔ انہوں نے بر صغیر کے اردو کے دو مشہور ناولوں کے انگریزی تراجم کا ذکر کیا۔ڈپٹی نذیر احمد کے ناول’توبتہ النصوح‘کے انگریزی ترجمے میں معمولی ہندوستانی محاورے کی بے خبری کی وجہ سے کیسی اغلاط سامنے آئیں، اس کا بہ صراحت ذکر کیا۔اسی طرح عبدالصمد کے مشہور ناول’خوابوں کا سویرا‘ کا انگریزی ترجمے کے دوران مترجم نے کیسے بنیادی لفظ کو چھوڑ کر اپنے کام کو مکمل کر لیا،اس کے بارے میں انہوں نے نہایت عالمانہ بحث کی۔
ورک شاپ کے تیسرے دن پہلا کلاس ہندی اور انگریزی کے معروف ادیب کرشن سمدھا نے لیا۔انہوں نے اپنی تقریر کی بنیاد مختلف انگریزی متون پر رکھی اور شرکاء کو ان کی تعبیر و تشریح سے متعلق طرح طر ح کے سوالات کے مواقع دیے۔ انہوں ترجمے کے ایک خاص کام تعبیر اور شرحیات کو موضوع بنایا اور دونوں کے درمیان امتیازات کو واضح کرنے کی کوشش بھی کی۔ یہ بات بھی بتائی کہ انسانی سماج کے لیے دونوں بے حد ضروری چیزیں ہیں۔اس بات پر ان کی خاص توجہ رہی کہ کسی متن کی مختلف تعبیرات ممکن ہیں مگر پیش کش یا ترجمے کے موقع سے محل ِاستعمال کو سمجھتے ہوئے اپنا معقول متبادل سامنے لانا چاہیے۔انہوں نے مہاتما گاندھی کی خود نوشت،چارلس ڈکنس اور جارج آرویل کے ناولوں کے اقتباسات کے کثیرالمعنی اقتباسات پیش کیے اور مترجم کو عملی طور پر کس طرح اپنے کاموں کے درمیان پیش آنے والی مشکلات سے مقابلہ کرنا چاہیے،اس کی انہوں نے وضاحت کی۔انہوں نے متعدد تاریخی کرداروں اور کُتب کے حوالے سے اپنی تقریر کو اور بھی با معنی بنایا۔
مشہور مصنف اور جمشید پور کریم سٹی کالج کے استاد پروفیسر احمد بدر نے مترجمین کے درپیش چیلینجیز کو مو ضوع بناتے ہوئے اس بات پر خاص توجہ دلائی کہ ترجمے کے بغیر دنیا ترقی نہیں کر سکتی مگر اس بات پر انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ہندوستان جیسے ملک میں مترجمین کی سخت کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی متن کا تعلق جس صنف سے ہو،اس کے مخصوص تقاضوں کو سمجھتے ہوئے جو ترجمہ کیا جائے گا وہ کامیاب ہوگا۔انہوں نے کہا کہ مترجم کا کام صرف ایک زبان سے دوسری زبان میں مواد کی منتقلی نہیں ہے۔ان کے مطابق مترجمین کے فرائض اس سے بڑھ کر ہیں۔انہوں نے کہا کہ مترجم کو اپنے موضوع کا محقق بھی ہونا چاہیے ورنہ لفظ و بیان ہی نہیں،جزئیات کی ترجمانی میں بھی اس سے فاش غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہو بہ ہو ترجمہ ہونا ہی چاہیے مگر مترجم اگر دونوں زبانوں کے پس منظر سے پورے طور پر آگاہ نہیں ہے تو طرح طرح کی دشواریاں پیدا ہوں گی۔ انہوں نے بتایاکہ تاریخ،مذہب اور تہذیب و ثقافت کے معاملات میں ترجمے کے دورران ہماری زبانوں میں طرح طرح کے مسائل ابھرتے ہیں۔اگر کوئی لفظ غم کا ترجمان ہے تو ترجمے میں غمگینی کا احساس پیدا ہونا چاہیے اور اگر اصل متن میں غصے کی کیفیت ہے تو ترجمے میں آگ اُگلنا چاہیے۔ اگر ان معاملات میں مترجمین سنجیدہ ہوں تو وہ کامیابی سے ہم کنار ہو سکتے ہیں۔
آج آن لائن موڈ میں ڈاکٹر بشودیپ گوگوئی نے فن ترجمہ کی مقامیت پر گفتگو کی۔آسامی زبان سے تعلق رکھنے والے ماہر مترجم نے فنِ ترجمہ کی کاروباری جہات پر تفصیل سے گفتگو کی اور بتایا کہ انگریزی جیسی زبان سے اردو یا ہندی میں ترجمہ کرتے ہوئے ہم کس حد تک مقامیت پسند ہو سکتے ہیں۔اس کے انہوں نے متعدد پہلو واضح کیے۔ انہوں نے مشینی ترجمہ،اے۔آئی۔ ترجمہ اور کمپیوٹر معاون ترجمے کے متعدد مراحل کا ذکر کیا اور یہ بتایا کہ نئے علمی میدانوں میں ہمارے لیے روزگار کے بھی بڑے وسائل ہیں۔اردو کے ریسرچ اسکالروں کو انہوں نے ترغیب دلائی کہ اپنی زبان کی عالمی حیثیت کو سمجھتے ہوئے ترجمے کے میدان میں اُتریں توانہیں گھر پر بیٹھے ہوئے بڑی رقم حاصل ہو سکتی ہے۔ انہوں سے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ انگریزی سے اردو ترجمہ کرنے والے خال خال ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ترجمے کی عالمی منڈی میں مشینی ترجمے کے بعد تصحیح و اضافہ یا ترتیب و تدوین کے کام بڑی مقدار میں موجود ہیں۔ یہ روزگار کا بڑا وسیلہ ہے جس کی طرف اردو کے طالب علموں کو بڑھنا چاہیے۔
ہر خطیب کا تعارف اور تقریر کے بعد اس پر اجمالی تاثر ورک شاپ کے مقامی کوآرڈینیٹر پروفیسر صفدر امام قادری نے دیا۔ورک شاپ کے اختتام پر میسور سے تشریف فرما ڈاکٹر نوشاد عالم نے تمام شرکا اور ماہرین کا شکریہ ادا کیا۔حسب ِروایت ورک شاپ میں سوال و جواب کا سلسلہ بھی قایم رہا اور شایان، شاذیہ حسن، ذو القرنین،محمد آصف علی،ذکرہ جمیل وغیرہ نے اپنے سوالات پوچھے اور ماہرین نے ان کے جوابات دیے۔۹/اکتوبر کو مشہور شاعر ڈاکٹر سنجئے کمار کندن (پٹنہ)،ڈاکٹر شبیہہ راحت (احمد آباد)اور پروفیسر مشرف علی (بنارس) کے خطابات ہوں گے۔

شیئر کریں:

Awaz E Bihar

تجربہ کار صحافی اور مصنف

متعلقہ خبریں

گردنی باغ کے علاوہ کہیں بھی دھرنا دیا تو ہوگی قانونی کارروائی
بہار

گردنی باغ کے علاوہ کہیں بھی دھرنا دیا تو ہوگی قانونی کارروائی

Awaz E Bihar•12 اکتوبر، 2026•9 ویوز
 سمراٹ چودھری نے سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے بینک کھاتوں میں امدادی رقم منتقل کی
بہار

سمراٹ چودھری نے سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے بینک کھاتوں میں امدادی رقم منتقل کی

Awaz E Bihar•12 اکتوبر، 2026•21 ویوز
پی ایم سی ایچ میں اب ایک ساتھ 2500 بستروں پر مریضوں کا جدید طبی سہولتوں کے ساتھ علاج ہوگا: سمراٹ چودھری
بہار

پی ایم سی ایچ میں اب ایک ساتھ 2500 بستروں پر مریضوں کا جدید طبی سہولتوں کے ساتھ علاج ہوگا: سمراٹ چودھری

Awaz E Bihar•12 اکتوبر، 2026•9 ویوز