گورکھپور-سلی گوڑی ایکسپریس وے پر منظوری کا انتظار، بہار کے آٹھ اضلاع میں زمین حصولیابی کا عمل متاثر ہونے کا خدشہ
Awaz E Bihar
••0 ویوز•3 منٹ پڑھیں
چار لین کے بجائے چھ لین تعمیر کرنے کی تجویز، مرکزی کابینہ کی منظوری میں تاخیر سے منصوبے کی رفتار پر سوال
پٹنہ: بہار کے آٹھ اضلاع سے گزرنے والے گورکھپور-سلی گوڑی ایکسپریس وے منصوبے پر زمین حصولیابی کے عمل میں تاخیر کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ مرکزی کابینہ سے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کے تحت تعمیر کی منظوری نہ ملنے کی وجہ سے منصوبے کی پیش رفت متاثر ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ بہار کے محکمہ تعمیراتِ سڑک نے مرکزی وزارتِ سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہ سے منصوبے کو جلد منظوری دینے کی درخواست کی ہے۔ ساتھ ہی چار لین کے بجائے چھ لین میں تعمیر کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔ گورکھپور سے سلی گوڑی تک مجوزہ ایکسپریس وے کی مجموعی لمبائی تقریباً 568 کلومیٹر ہے، جس میں لگ بھگ 417 کلومیٹر حصہ بہار سے گزرے گا۔ یہ سڑک مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، سیتامڑھی، شیوہر، مدھوبنی، سوپول، ارریہ اور کشن گنج اضلاع کو جوڑے گی۔ اس منصوبے سے اتر پردیش، بہار اور مغربی بنگال کے درمیان آمدورفت بہتر ہونے کے ساتھ شمال مشرقی ہندوستان تک رسائی میں بھی سہولت متوقع ہے۔ محکمہ تعمیراتِ سڑک کے مطابق، نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) نے منصوبے کو پی پی پی اسیسمنٹ کمیٹی کی منظوری کے لیے بھیجا ہے۔ اس مرحلے کی منظوری کے بعد تعمیراتی عمل کو آگے بڑھانے کی راہ ہموار ہوگی۔ کشن گنج کو چھوڑ کر دیگر متعلقہ اضلاع میں زمین حصولیابی کے لیے نوٹیفکیشن جاری کیے جاچکے ہیں۔ محکمہ کو خدشہ ہے کہ اگر رواں سال کے اختتام تک زمین حصولیابی کے اگلے مرحلے کا آغاز نہیں ہوا تو نئے سرے سے نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ اس سے منصوبے میں مزید تاخیر ہوسکتی ہے اور زمین مالکان سے متعلق کارروائی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ ریاستی حکومت پہلے بھی اس ایکسپریس وے کو چار لین کے بجائے چھ لین میں تعمیر کرنے کی تجویز پیش کرچکی ہے، لیکن اس پر ابھی تک حتمی اتفاق نہیں ہوا ہے۔ چھ لین کی تعمیر سے مستقبل میں بڑھتے ہوئے ٹریفک دباؤ کو سنبھالنے اور بہتر رابطہ کاری کی امید ہے، تاہم اس کے لیے مرکزی سطح پر منظوری ضروری ہے۔ گورکھپور-سلی گوڑی ایکسپریس وے کو شمالی بہار کی ترقی کے لیے اہم سمجھا جارہا ہے۔ اس سے زرعی پیداوار کی نقل و حمل، تجارت، صنعتی سرگرمیوں اور مذہبی سیاحت کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔ خاص طور پر سیتامڑھی سمیت شمالی بہار کے علاقوں کو بہتر سڑک رابطہ ملنے سے مسافروں کو سہولت ہوسکتی ہے۔اب سب کی نظریں مرکزی حکومت کی منظوری پر ہیں۔ اگر منظوری اور زمین حصولیابی کا عمل بروقت مکمل ہوتا ہے تو اس منصوبے کی تعمیر آگے بڑھ سکتی ہے، ورنہ تاخیر سے اس کی تکمیل کا راستہ مزید طویل ہونے کا خدشہ ہے۔