علمی مجلس بہار کے زیر اہتمام پھلواری شریف میں مشاعرہ کا انعقاد
Awaz E Bihar••11 व्यूज़•4 मिनट पढ़ें
پھلواری شریف علمی مجلس بہار کے زیر اہتمام مجلس کے جنرل سیکریٹری جناب پرویز عالم کے پھلواری شریف واقع دولت کدہ پرے گزشتہ شام ایک شاندار مشاعرہ کا انعقاد ہوا۔ جسکی صدارت استاد شاعر جناب مرغوب اثر فاطمی نے کی۔ انہوں نے اپنے جزبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 30 نومبر کو یہاں پر اردو ایکشن کمیٹی پھلواری شریف یونٹ کی شاندار اعزازیہ تقریب ہوئی اور یادگار کل ہند مشاعرہ بھی ہوا تھا۔ تب سےابتک میں یہیں ہوں ۔ اس دوران کئی ادبی محفلوں میں شرکت کا موقع ملا لیکن آج کی شام یاد گار اور رنگین شام ہو گئی۔ مبارکباد پیش کرتا ہوں علمی مجلس کے جنرل سیکریٹری جناب پرویز عالم کا جن کا دل بہت بڑا ہے۔ انہوں نے ہم لوگوں کو ایک جگہ جمع کر کے ماحول کو خوشگوار بنا دیا ۔ تمام لوگوں کے چہرے پر خوشی طاری ہوگئ۔ انکی بہترین ضیافت کیلئے بھی ہم شکر گزار ہیں۔ نظامت پرویز عالم نے بحسن خوبی انجام دیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ میری خوش نصیبی ہے کہ پھلواری شریف کے مستند شعراء نے ہمارے غریب خانہ پر مخصوص مگر پر لطف مشاعرہ میں شرکت کی۔ میں تمام شعراء اور سامعین کا شکر گزار ہوں جو میرے جلد بازی میں لئے گئے فیصلےاور دعوت پر تشریف لائے۔ اس طرح آج کی شام یادگار اور خوشگوار بن گئی۔ سچ پوچھئے تو پٹنہ شہر کے بعد پھلواری شریف ہی عظیم آباد کا دل ہے جہاں ایک سے بڑھ کر ایک شعراء اور ادیب بستے ہیں ۔ جناب اسحاق اثر سیکریٹری ثانی اردو ایکشن کمیٹی بہار نے اپنے خطاب میں کہا کہ گزشتہ 30 نومبر کو پھلواری شریف میں اردو ایکشن کمیٹی کے مقامی شاخ کے زیر اہتمام شاندار اور یادگار پروگرام ہوا جس کو برسوں تک یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کی مجلس میں شرکت کرنےسے انسان میں تازگی آتی ہے، ایک دوسرے سے اسی بہانے ملنے کا موقع ملتا ہے، کچھ اچھا سننے کو ملتا ہے اور وقت کا اچھا استعمال بھی ہو جاتا ہے۔ آج کے تمام شعراء کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ یہ لوگ جس مشاعرے میں پہنچ جاتے ہیں وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔ حسن اتفاق کہئے کہ آج کے مشاعرے میں سات شعراء اور سات ہی سامعین بھی موجود ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ سامعین کے بغیر کوئ بھی مشاعرہ کامیاب نہیں ہوتا۔ میرامشورہ ہے کہ اس طرح کی چھوٹی چھوٹی محفل سجتی رہنی چاہئے۔تمام سامعین ادب نواز ہیں جن کے اسماء گرامی یہ ہیں۔ جناب مختار اسد ایوبی، جناب شمیم الدین، جناب غیاث الدین، جناب تکریم خان ، جناب غنی حسین، جناب اسحاق اثر اور جناب پرویز عالم۔ آخر میں ناظم مشاعرہ جناب پرویز عالم نے تمام شعراء اور سامعین کا شکریہ اداکیا اور مشاعرہ کے اختتام کا اعلان کیا۔ شعراء کے منتخب اشعار قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔ تھا محبت کو یقیں بیٹھے دریچے رہ گئی سامنے نفرت کھڑی تلوار کھینچے رہ گئی (مرغوب اثر فاطمی) تمہاری بات میں پھر آ گیا نا دل ناداں دھوکہ کھا گیا نا محبت کرنے والوں سے یہ پوچھو یہ غم ہر ایک غم کو کھا گیا نا ! (نیاز نذر فاطمی) جس کے اندر بھی کوئی خاص صفت ہوتی ہے اس کی دنیا میں بڑی آؤ بھگت ہوتی ہے میں بھی بالوں کو حنا رنگ بناتا ہوں ظفر ان کے ہونٹوں پہ بھی لالی پرت ہوتی ہے (ظفر صدیقی) محبت کھو گئی جانے کہاں آہستہ آہستہ ہوئے ہم سے ہمارے بدگماں آہستہ آہستہ معاذ اللہ اب چاروں طرف ہے کس قدر یورش مٹا جاتا ہے سب اپنا نشاں آہستہ آہستہ (اسرار عالم سیفی) آنکھوں میں رچا ہے کوئی خواب طلسمریز دل پی رہا ہے جیسے شراب طلسمریز قوساب خس جمال، گلاتش شبائنے ہر اسم میں چھپا ہے نصاب طلسمریز (کلیم اختر) ماں باپ کی جو اپنے دعا ساتھ رکھے گا وہ فضل خدا داد سدا ساتھ رکھے گا اس کو کبھی آفات نہیں گھیر سکے گی جو لب پہ سدا صلے علی ساتھ رکھے گا (ڈاکٹر نصر عالم نصر) سخی سوغات اکثر بانٹتا ہے وہ مٹھی میں مقدر بانٹتا ہے نہیں سجاد کو کانٹوں سے نسبت ہمیشہ یہ گل تر بانٹتا ہے (میر سجاد)