سوڈان میں سونے کی کان پر فضائی حملہ، کم از کم 72 کان کن ہلاک
Awaz E Bihar
••12 ویوز•3 منٹ پڑھیں
سوڈان اور مصر کی متنازع سرحد کے قریب سونے کی ایک کان پر فضائی حملے میں کم از کم 72 کان کن ہلاک ہوگئے۔ سوڈان میں جنگ کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دینے والی تنظیم 'ایمرجنسی لائرز' نے یہ اطلاع دیتے ہوئے حملے کا الزام مصری فوج پر عائد کیا ہے۔ خرطوم میں قائم تنظیم نے اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مصری لڑاکا طیاروں نے سوڈان کے شمالی علاقے وادی میں شہری کان کنوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق 72 شہری ہلاک ہوگئے۔ ہفتے کو ہونے والے اس مبینہ حملے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے اور مصر نے اس پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اس سال جبل العقیادات کے پہاڑی سرحدی علاقے میں یہ دوسرا حملہ ہے۔ یہ علاقہ سونے کی کان کنی کے لیے مشہور ہے۔ جون میں بھی اسی مقام پر اسی نوعیت کے حملے میں 23 کان کن ہلاک ہوگئے تھے۔ ان حملوں کا الزام بھی مبینہ طور پر مصر پر عائد کیا گیا تھا۔ اس وقت مصری فوج نے کہا تھا کہ اس نے اپنی سرحدوں کے اندر غیر قانونی سونے کی کان کنی کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی ہے۔ سوڈان اور مصر کے درمیان سرحدی علاقے پر تنازع ہے اور دونوں ممالک قدرتی وسائل سے مالا مال حلايب مثلث پر دعویٰ کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا اور مقامی حقوق انسانی کی تنظیموں کی جانب سے شیئر کی گئی ایسی تصاویر، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی، میں ملبے کے درمیان درجنوں لاشیں اور کفن میں لپٹی لاشیں دکھائی گئی ہیں۔ کان کنوں نے بھی علاقے میں فضائی حملے کی اطلاع دی ہے۔ اپریل 2023 سے سوڈانی فوج اور نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان جاری جنگ میں دو لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ایک سنگین انسانی بحران پیدا ہوگیا ہے۔ اس بحران نے بڑی تعداد میں لوگوں کو سونے کی خطرناک کان کنی کی جانب دھکیل دیا ہے، جس سے حاصل ہونے والی آمدنی دونوں متحارب فریقوں کی جنگی سرگرمیوں میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ معدنی ذخائر سے مالا مال یہ دشوار گزار پہاڑی علاقہ سیکڑوں کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے اور اس میں متنازع حلايب مثلث بھی شامل ہے۔ ایمرجنسی لائرز نے کہا کہ حملہ سوڈانی حدود کے اندر ہوا۔ تنظیم کے مطابق سونے اور معدنی وسائل سے مالا مال سرحدی علاقوں پر بار بار حملے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ مصری حکام سوڈان کے قدرتی وسائل پر اپنا کنٹرول بڑھانا اور مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔تاہم، مصری فوج نے جون میں کہا تھا کہ اس کی کارروائی مصری سرزمین کے اندر کی گئی تھی۔ فوج کے مطابق، اس دوران 223 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں 136 غیر ملکی شہری شامل تھے۔ اس نے علاقے میںغیر قانونی سونے کی کان کنی اور اسلحے کی اسمگلنگ کے خلاف مہم چلانے کا اعلان بھی کیا تھا۔سوڈانی فوج کے سربراہ عبدالفتاح البرہان کی حمایت کرنے کے باوجود مصر اپنی سرحد کے قریب جاری جنگ کو اپنی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔ بحیرۂ احمر سے لیبیا تک پھیلی دونوں ممالک کی سرحد تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل ہے۔ دریائے نیل کے مشرق میں واقع اس سرحدی علاقے کو کئی برسوں سے سونے کی غیر قانونی تجارت، اسمگلنگ اور انسانی اسمگلنگ کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ مصر ان سرگرمیوں کو روکنے کی کوشش کرتا رہا ہے، جس میں بڑے پیمانے پر ملک بدری کی کارروائیاں بھی شامل ہیں۔