منگل، 13 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار

آواز ای بہار

ای پیپر
اہم خبریںقومیسیاستکھیلبہارقومیسیاستکھیلمضامینعالمی خبریںمزید
  • اہم خبریں
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • اہم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
آواز ای بہار
  • ہوم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
اردوहिन्दीEnglish

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

سبسکرائب

Email: awazebihar@gmail.com|Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
آزادی اسکوائر پر آیت اللّٰہ علی خامنہای کا انگوٹھی پہنے ہاتھ کا دیو قامت مجسمہ نصب
  1. ہوم
  2. عالمی خبریں
عالمی خبریں

آزادی اسکوائر پر آیت اللّٰہ علی خامنہای کا انگوٹھی پہنے ہاتھ کا دیو قامت مجسمہ نصب

Awaz E Bihar•6 جولائی، 2026 کو 03:43 PM•93 ویوز•3 منٹ پڑھیں

ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہای کی میت کو گرینڈ مصلیٰ سے آزادی اسکوائر تک لے جایا گیا، جہاں لاکھوں افراد نے ان کے آخری سفر میں شرکت کی۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق تہران کے مرکز میں واقع آزادی اسکوائر پر خامنہ ای کے انگوٹھی پہنے ہاتھ کا دیو قامت مجسمہ نصب کیا گیا ہے، جو مختصر عرصے میں ان کی آخری رسومات کے دوران مزاحمت کی نئی علامت بن کر ابھرا ہے۔ شہید خامنہ ای کے حامیوں کا کہنا ہے کہ 28 فروری کے امریکی و اسرائیلی حملے کے بعد یہی انگوٹھی ان کی شناخت کی ایک نمایاں علامت بن گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق یہ یادگار صرف 4 دن میں تیار کی گئی اور اسے قومی استقامت، مزاحمت اور اتحاد کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملے میں آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کی بیٹی، داماد، بہو اور 14 ماہ کی پوتی بھی شہید ہوئی تھیں، جن کے تابوت بھی عوام کے لیے رکھے گئے ہیں۔ ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی 7 روزہ آخری رسومات کا آغاز جمعے کو (3 جولائی سے) تہران سے ہو گیا ہے، جس میں 100 سے زائد ممالک کے وفود شرکت کر رہے ہیں جبکہ انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے 2 کروڑ سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے۔ شرکاء نے ایرانی پرچم تھام رکھے تھے، جبکہ خامنہای اور ان کے بیٹے و متوقع جانشین مجتبیٰ خامنہای کی تصاویر بھی اٹھا رکھی تھیں۔ سیاہ لباس میں ملبوس شرکاء نے ایرانی پرچم کے سرخ، سفید اور سبز رنگ بھی اوڑھ رکھے تھے اور ایران کے حق میں نعرے لگائے۔ عوامی جلوس سے قبل خامنہای کے تابوت کو ایرانی اعلیٰ حکام اور غیر ملکی شخصیات کے لیے رکھا گیا، جبکہ بعد ازاں اسے شیشے کے ایک خصوصی حصار میں عوامی دیدار کے لیے رکھا گیا، اس کے ساتھ ان کی بیٹی، داماد، بہو اور 14 ماہ کی پوتی کے تابوت بھی موجود تھے۔
آج تہران میں مرکزی جنازے کے جلوس کے بعد خامنہ ای کی میت کو قم منتقل کیا جائے گا، جہاں منگل کو شیعہ دینی مرکز میں مزید مذہبی تقریبات منعقد ہوں گی۔ اس کے بعد بدھ کو میت کو عراق لے جایا جائے گا، جہاں نجف اور کربلا میں مذہبی رسومات ادا کی جائیں گی، بعد ازاں جمعرات کو میت دوبارہ ایران واپس لائی جائے گی، جہاں مشہد میں ایک اور جنازے کے جلوس کا انعقاد کیا جائے گا
شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

سوڈان میں سونے کی کان پر فضائی حملہ، کم از کم 72 کان کن ہلاک
عالمی خبریں

سوڈان میں سونے کی کان پر فضائی حملہ، کم از کم 72 کان کن ہلاک

Awaz E Bihar•12 اکتوبر، 2026•13 ویوز
آپریشن ’’فجر الیمن‘‘ جاری، حوثیوں کے ٹھکانوں اور اسلحہ گوداموں پر حملے جاری
عالمی خبریں

آپریشن ’’فجر الیمن‘‘ جاری، حوثیوں کے ٹھکانوں اور اسلحہ گوداموں پر حملے جاری

Awaz E Bihar•11 اکتوبر، 2026•6 ویوز
یمن میں لڑائی تیز، انسانی بحران سنگین ہونے کا خدشہ
عالمی خبریں

یمن میں لڑائی تیز، انسانی بحران سنگین ہونے کا خدشہ

Awaz E Bihar•7 اکتوبر، 2026•9 ویوز