پٹنہ(پریس ریلیز) علامہ شوق نیموی ایک عبقری شخصیت ، مستند شاعر ، با کمال محقق ، بے مثال فقیہ اور پایہ محدث کا نام ہے، ایک ایسی شخصیت ،جس نے صرف علاقائی، صوبائی یا ملکی سطح پر نہیں، بلکہ عالمی سطح پر علمی شخصیتوں کو اپنے علمی و ادبی کارناموں سے متاثراور معاصرین و اکابرین کو اپنے تبحرِ علمی کا معترف کیا، وہ کثیر الجہات شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی شاعری میں جہاں ایک طرف دبستانِ دہلی کی داخلیت، تاثیر، حقیقت بیانی، آمد اور سوز و گداز کی بھرپور کیفیت پائی جاتی ہے، وہیں دوسری طرف دبستانِ لکھنو کی دلکشی، رعنائی اور شوخ بیانی بھی قدم قدم پر اپنے جلوے بکھیرتی نظر آتی ہے۔ان کے کلام میں جوا نفرادیت ،دلکشی اور رنگا رنگ خوبیاں ہیں ، وہ انہیں اردو کے ممتاز شعراءکی صف میں کھڑا کرتی ہیں۔ ان خیالات اور تاثرات کا اظہاراردو کے ممتاز دانشوران کا جنہوں نے اردو ڈائرکٹوریٹ، محکمہ کابینہ سکریٹریٹ، بہار پٹنہ کے زیر اہتمام آڈیٹوریم، فنیشور ناتھ رینو ، ہندی بھون ، نزد آکاشوانی ، چھجو باغ ،پٹنہ میں منعقد شوق نیموی یادگاری تقریب و بزم سخن پروگرام میں کیا۔ پروگرام کا آغاز شمع افروزی کے ذریعہ ہوا۔تقریب کی صدارت پروفیسر فاروق احمد صدیقی،سابق صدر شعبہ اردو، بی آر اے ، بہار یونیورسٹی، مظفر پورنےکی۔استقبالیہ و تعارفی کلمات ایس ایم پرویز عالم، ڈائرکٹر اردو ڈائرکٹوریٹ نے پیش کی۔صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے پروفیسر فاروق احمد صدیقی نےکہا کہ شوق نیموی کی شخصیت ہمہ جہت تھی۔ان کی شخصیت کا ایک ایسا درخشاں پہلو ہے کہ جس نے انھیں شوق نیموی سے علامہ شوق نیموی بنا دیا۔ انہوں نے علمِ حدیث کے میدان میں ایک بڑے حلقے کو متاثرکیا اور فنِ حدیث میں’’ آثار السنن ‘‘ جیسی لازوال اور بے مثال تصنیف چھوڑی جس نے اس وقت کے اکابر اورمشائخ علماکو اپنا گرویدہ بنا لیا۔انہوں نے کہا کہ آثا ر السنن علامہ شوق نیموی کی ایسی کتاب ہے جو انہیں کبھی مرنے نہیںدے گی۔آثار السنن کی تدریس آج بھی مدارس اسلامیہ میں ہو رہی ہیں، جس کے سبب و ہ صدیوں زندہ رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ میں نے بھی شوق نیموی کی کتاب آثار السنن اور سوز گداز مثنوی دونوں درسی کتاب کی شکل میں پڑھی ہے۔انہوں نے بتایا کہ وہ ماہر فنکار غزل تھے۔ ان کی مثنویاں عشقیہ تھیں۔ان کی شاعری خصوصاً مثنوی سوزوگداز اور نغمہ زار بدولت شعرو ادب نے ارتقائی منزل طئے کئے۔اس سے قبل استقبالیہ و تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے ایس ایم پرویز عالم ڈائرکٹر اردو ڈائرکٹور یٹ نے تمام مہمانان ومحبان اردوکا والہانہ استقبال کیا۔ ڈائرکٹر موصوف نےتقریب کی غرض و غایت پر روشنی ڈالتےہوئےکہاآج کی یہ تقریب شوق نیموی کی خدماتِ زبان و ادب کے اعتراف اور ان کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے مقصد سے منعقد کی گئی ہے۔یادگاری تقریبات کے انعقاد کا بنیادی مقصد کسی عظیم اور باوقار شخصیت کی زندگی، ادبی خدمات اور کارناموں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ہے۔اس نوعیت کی تقریبات کے ذریعہ ہم نہ صرف مرحوم ادیبوں، شاعروں، محققوں اور ناقدوں کی علمی ،ادبی، سماجی اور قومی خدمات کو یاد کرتے ہیںبلکہ اُن کے افکار و نظریات کو بھی زندہ رکھتے ہیں تاکہ نئی نسل اُن سے رہنمائی حاصل کر سکے۔ایسی تقریبات معاشرے میں علم و ادب، شعر و سخن اور تہذیبی اقدار کے فروغ کا سبب بنتی ہے۔نئی نسل اپنے اکابرین کی علمی خدمات اور اُن کے ادبی اثاثے سے واقف ہوتی ہے اور آئندہ نسل تک منتقل کرنے کا حوصلہ پاتی ہے۔ ڈائرکٹر موصوف نے شوق نیموی کے حوالے سے بتایا کہ بہار کے آسمانِ شعر و ادب پر جگمگاتے ہوئے مشاہیر کی کہکشاں کے درمیان شوق نیموی کا تابناک وجود بلاشہ اہمیت کا حامل ہے۔ شوق اپنے کلام کی گوناگوں خوبیوں کے سبب اردو کے ممتاز غزل گو شعراءمیں شمار کئے جاتے ہیں۔ انھوں نے غزل، مثنوی، رباعیات، قطعات اور قصیدہ وغیرہ میں طبع آزمائی کی اورکامیابی کے جوہر بکھیرے۔انہوں نے کہا کہ علاّمہ محمد ظہیر احسن شوق نیموی ایک جید عالمِ دین ، بلند پایہ محدّث، دیدہ ور محقق، ممتاز ماہرِ زباں اور قادر الکلام شاعر تھے۔ ان کی علمی و ادبی شخصیت کا ہر پہلو مثالی اور تابناک تھا۔ اپنے عہد کے اکابر میں ان کا مرتبہ اعلیٰ اور ممتاز تھا۔علاّمہ شوق نیموی ایک کثیر الجہات اور نا بغۂ روزگار شخصیت کے مالک تھے۔جہاں اُن کی کتاب ’آثار السنن ‘ بڑی مقبول و مشہور تصنیف ہے، اور مِصر کی یونیورسٹیوں میں داخلِ نصاب رہی ہے،وہیں اُن کی تصنیف ’مثنوی سوز و گداز‘نے اُنہیں شعر و سخن میں لازوال اور ممتاز مقام عطا کیا۔ شاعری کے علاوہ نثری اصناف میں بھی ان کی خدمات قابلِ تحسین ہیں۔ الفاظ کی بندش ، زبان کی صحت، محاوروں کے دلنشیں استعمال کے حوالے سے ان کے مطالعہ کی وسعت اور خداداد شعر گوئی کی صلاحیت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ان کی تصنیف کردہ کتابیں اہلِ زبان و ادب کے لئے بیش قیمت سرمایہ ہیں۔ شوق اردو، فارسی اور عربی زبان کے بڑے عالم اور اعلیٰ پائے کے محقق تھے۔ انھیں دینی علوم پر بھی اچھی دسترس حاصل تھی۔انہوں نے مختلف موضوعات پر تقریباًدو درجن نہایت معتبر اور مستند کتابیں لکھیں۔ دنیائے شعر و ادب میں شوق کا نام نہایت احترام سے لیا جاتا ہے۔ معروف ادیب ڈاکٹر اے کے علوی نے’’شوق نیموی او ران کاغزلیہ کلام‘‘ کے موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ شوق نیموی ایک عظیم محقق و محدث اور بلند پایہ او ربلند مرتبہ شاعر و ادیب تھے۔سادگی ،روانی، برجستگی شوق نیموی کی شاعری کی خاص محاسن ہیں۔ انہوں نے پوری دنیا میں اپنی مستحکم علمی شناحت قائم کی۔وہ اپنی گوناگوں کارناموں سے پوری دنیا میں مشہور ہوئے۔ معروف افسانہ نگار و ناقد احمد صغیر نے’’ شوق نیموی کی شعری نگارشات‘‘ کے موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا۔انہوں نے شوق نیموی کی معروف مثنویوں سوز و گداز ،نغمۂ زار اور زہر عشق پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ جذبات نگاری، کرداری نگاری کا خوبصورت امتزاج ملتا ہے۔ان کی شاعری میں دلکشی اور فضا آفرینی ہے۔ان کی شاعری میں حسن و عشق کی رودادبھی ہے۔شوق نیموی نے حسن وعشق کو اپنی غزل کا موضوع بنایا۔ان کے فکری انداز نے انہیںمعروف و ممتازبنا دیا۔معروف ادیبہ رعنا کوثرنے شوق نیموی :ایک کثیر الجہات شخصیت کے موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ علامہ شوق نیموی کی شخصیت کثیر الجہات تھی۔وہ اپنے دور کے ممتاز عالم دین تھے۔ آثارالسنن لکھ کر انہو ں نے عالمی سطح پر اپنی خاص شناخت قائم کی۔علامہ شوق نیموی نے علم حدیث کےعلاوہ اردو شعرو ادب کی بڑی خدمات انجام دی ہیں۔ ان کے ادبی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے انہو ں نے تمام اصناف سخن میں طبع آزمائی کی۔ انہوں نے قواعد اور لغت نویسی میں بھی اپنا تعاون دیا۔ طلبا / طالبات کی پیش کش کےتحت پر یم ناتھ کمار، ریسرچ اسکالر، للت نارائن متھلا یونیورسٹی، دربھنگہ اور عبادہ شکیل ، ایم اے اردو،مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدر آباد نےشوق نیموی پر پراپنی کاوشیں پیش کیں۔دوسرے اجلاس میں مشتاق دربھنگوی کی صدارت میں اور معروف افسانہ نگار فخر الدین عارفی کی بہترین اور خوبصورت نظامت میں محفل سخن کا انعقاد ہوا ۔اعجاز دائود نگری(اورنگ آباد) اقبال اختردِل (اورنگ آباد)، ڈاکٹر مستفیض احد (مظفر پور)، پرویز انور(پٹنہ)،نعیم صبا (پٹنہ)، صبا اختر شوخ(موتیہاری)،ارون گوپال (مغربی چمپارن )اور محترمہ چاندنی ثمر (مظفر پور)اپنے کلام سے سامعین کو خوب محظوظ کیا۔اس موقع پر ڈائرکٹر ،اردو ڈائرکٹور یٹ ایس ایم پرویز عالم نے منفرد لب و لہجہ میں اپنی خوبصورت اور دلکش شاعری سے سامعین کا دل جیت لیا۔یاد گاری تقریب کی نظامت محمد ہاشم نے بحسن و خوبی انجام دیا۔تقریب میں محبان اردو سمیت، یونیورسٹی کے طلبا و طالبات سمیت متعدد اہم شخصیات میں پروفیسر اعجاز علی ارشد، پروفیسر توقیر عالم،پروفیسر ہمایوں اشرف،اکبر رضا جمشید، ڈاکٹر زر نگار یاسمین،انوار الحسن وسطوی،ڈاکٹر آصف سلیم،اشتیاق یوسف، اقبال احمد، سراج الدین انصاری، اسرار سیفی، شمیم جاں باز،عرفان بیلہاری،رہبر گیاوی، ظفر صدیقی،منیر سیفی ،سلطان آزاد،اشفاق عادل، اسحاق اثر، نصر اللہ نصر، مکرم حسین ندوی،حذیفہ شکیل،اثر فریدی ، معین گریڈیہوی،مصلح الدین کاظم وغیرہ موجود تھے۔ افریدہ حبیب کے تشکراتی کلمات پر تقریب کا اختتام ہوا۔