انجمن باغ و بہار میں یاد کئے گئے شعری مجموعہ" شاید"کے تخلیق کار۔ جونؔ ایلیا
Awaz E Bihar••0 ویوز•2 منٹ پڑھیں
بھاگل پور (پریس ریلیز) انجمن باغ و بہار ،برہ پورہ،بھاگل پور کے زیر اہتمام مدھے پور ہ مسجد چوک ڈاکٹر نظام الدین احمد کی صدارت میںترنم انوری روبی کی رہائش گاہ پر جون ایلیا ؔکے یوم پیدائش پر ایک ادبی نشست منعقد کی گئی۔ اس موقع پر انجمن کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد پرویز نے جون ایلیا کے حیات و فن کی روشنی میں کہا کہ جون ایلیا جدید اردو ادب کی تاریخ میںکسی تعارف کا محتاج نہیں۔وہ بیک وقت غزل گو،نظم نگار،قطعہ گو،مرثیہ نگار،مضمون نگار،صحافی، ڈراما نگار، تواریخ نگار،لغت نویس نگار،مترجم،انشائیہ نگار تھے۔ وہ بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے۔انہوں نے اپنی زندگی میں لگ بھگ 103نظمیں بھی لکھیں ہیں۔انہوں نے اپنی غزلوں میں نئی اور انوکھی ردیفیں قائم کیں۔ انہوںنے اپنی شاعری میں بڑی سادگی اور معصومیت کے ساتھ ذاتی،جذباتی اور نفسیاتی مسائل کو پیش کیا ہے۔ انکا اصل نام سید حسین اصغرایلیا قلمی نام جو ن ایلیا اور تخلص جون تھا۔انکے والد کا نام علامہ شفیق حسن ایلیا تھا جو عالم دین تھے اور ساتھ ہی ساتھ ادیب،شاعر اور فلسفی بھی تھے اور اہلیہ کا نام زاہد حنا جو مشہور ادیبہ اور کالم نگار تھیںجو بعد میں الگ ہو گئیں تھیں۔14 دسمبر 1931ء کو محلہ لکڑا،امروہہ ،یوپی میں پیدا ہوئے اور وفات 2002 ء کو کراچی میں۔ انہوں فارسی،اْردو اور فلسفے میں ایم۔اے کیا۔ اْن کی تمام صلاحیتوں کو ابھارنے اور سید جون اصغر سے اْنہیں جون ایلیا بنانے میں انکے والد،چچازاد بھائی کمال امروہی،رئیس امروہی اور انکے بھائیوں کی علمیت کا بڑا ہاتھ رہا ہے۔1956ء میں وہ امرہہ سے پاکستان چلے گئے۔1990ء میں انکا پہلا اور انکی زندگی میں شائع ہونے والا آخری مجموعہ" شاید"منظر عام پر آیا۔انکی تصانیف میں شاید،گویا، لیکن،زخم اْمید،مبادا،یعنی،گمان،رموز وغیرہ اہم ہیں۔انکی اہم نظموں میں شاید،فریب آرزو،خلوت،تمہارا فیصلہ جاناں،لباس،کاش اے کاش،اجنبی شام،وصال،اعلا ن رنگ،سلسلہ تمنا کا،قاتل،اْن کا جواب،شہید جیت گئے،اے وطن،ناکارہ،بت شکن،جوانی وغیرہ ہیں۔ اس موقع ڈاکٹر نظام الدین احمد نے کہا کہ جون ایلیا دور جدید کے ایک بڑے شاعر تھے،انکے لہجے میں بے باکی،بے ساختگی نظر آتی ہے۔ ڈاکٹراحتشام عالم نے کہا کہ جون ایلیا منفرد لب و لہجہ کے بہترین شاعر تھے۔