عطا کاکوی صوفی صفت اور اردو زبان و ادب کے خاموش خادم تھے:پروفیسر عابد حسین
Awaz E Bihar••1 ویوز•7 منٹ پڑھیں
عطا کاکوی بر صغیر کے ایک بلند پایہ قادر الکلام شاعر، معتبر محقق، دیدہ ور ناقد، شگفتہ زبان انشا پرداز، مستند ماہرزبان او رقد آور صحافی ہونے کے ساتھ ایک اعلیٰ مرتبت انسان بھی تھے۔ خوش طبعی ، اعلیٰ ظرفی، وسیع النظری، کشادہ دلی، منکسرالمزاجی،بذلہ سنجی ،خوداری اور علم دوستی ان کی شخصیت کے نمایاں اوصاف تھے۔ ان خیالات اور تاثرات کا اظہاراردو کے ممتاز دانشوران کا جنہوں نے اردو ڈائرکٹوریٹ، محکمہ کابینہ سکریٹریٹ، بہار پٹنہ کے زیر اہتمام آڈیٹوریم، فنیشور ناتھ رینو ، ہندی بھون ، نزد آکاشوانی ، چھجو باغ ،پٹنہ میں منعقد عطاکاکوی یادگاری تقریب و بزم سخن پروگرام میں کیا۔ پروگرام کا آغاز شمع افروزی کے ذریعہ ہوا۔تقریب کی صدارت پروفیسر عابد حسین ، سابق صدر شعبہ فارسی، پٹنہ یونیورسٹی، پٹنہ نےکی۔استقبالیہ و تعارفی کلمات ایس ایم پرویز عالم، ڈائرکٹر اردو ڈائرکٹوریٹ نے پیش کی۔مہمان اعزازی کی حیثیت سے شریک الحاج ارشا د اللہ نے اپنے خطاب میں عطاکاکوی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ عطا کاکوی بہار کےبڑے شاعر، ادیب و نقاد گذرے ہیں۔ انہوں نے کئی اہم کتابیں تصنیف کی ہیں۔ان سے ہماری دوملاقاتیں ہوئیں۔میں ان کی شخصیت سے کافی متاثر ہوا۔ان کی ہستی بہت ہی مایہ ناز اورعظیم تھی۔ادب کے حوالے سے ان کے کارنامے فراموش نہیں کئے جا سکتے۔جناب ارشاد اللہ نے اردو کی موجودہ صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس زبان کی بقا او رفروغ میں ہر سطح سے کوششیں کرنی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اپنے بچوں کو اردو پڑھائیں تبھی ہم اردو کو تحفظ اور فروغ دے سکیں گے۔اس سے قبل استقبالیہ و تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے ایس ایم پرویز عالم ڈائرکٹر اردو ڈائرکٹور یٹ نے تمام مہمانان ومحبان اردو وکاوالہانہ استقبال کیا۔ڈائرکٹر موصوف نے بتایا کہ اردو ڈائرکٹوریٹ کے زیر اہتمام ”یادگاری تقریبات منصوبہ “کے تحت ہر سال اردو کے مُقتَدر شاعروں، ادیبوں، محققوںاور ناقدوں کی یادگاری تقریب کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ اس منصوبہ کے تحت کُل 22ادیبوں،شاعروں اور محققوں کی یادگاری تقریبات کے انعقاد کی منظوری حکومت بہار سے حاصل ہے۔ رواں مالی سال 2025-26 میںاردو ڈائرکٹوریٹ کے زیر اہتمام11 یادگاری تقریبات کا انعقاد آپ علمی و ادبی شخصیات اور معزز سامعین کے سرگرم تعاون سے کر ایا جا چکا ہے۔اُسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر عطا کاکوی یادگاری تقریب کا انعقاد آج کیا گیا ہے۔ آج کی یہ تقریب عطا کاکوی کی خدماتِ زبان و ادب کے اعتراف اور ان کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے مقصد سے منعقد کی گئی ہے۔اکابرین اردو ادب کی یادگاری تقریبات منعقد کرنے سے موجودہ نسل جہاں اپنے اکابرین کی ادبی خدمات اور ان کی تحریکات سے واقف ہوتی ہے وہیں وہ اکابرین کے علمی و ادبی اثاثے کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے کا حوصلہ پاتی ہے۔اس لئے اپنے اکابرین کو یاد کرنا، ان کی علمی و ادبی خدمات سے فائدہ حاصل کرنا اوراُسے آئندہ نسل تک منتقل کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔انہوں نے کہا کہ عطا کاکوی بر صغیر کے ایک بلند پایہ قادرالکلام شاعر تھے۔بہار کے نامور ناقد اور ادیب وہاب اشرفی کے مطابق وہ علم کے سمندر اور ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے۔اردو اور فارسی شعراءکے کلام پر ان کی گہری نگاہ تھی۔ انہوں نے تقریباً۷۰ برس تک اپنے خون جگر سے اردو اور فارسی دونوں زبانوں کے شعر و ادب کی آبیاری کی۔ ان کی تقریباً پچاس سے زائد بیش قیمت کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ عطا کاکوی نے درجنوں اردو اور فارسی شعراءکے کلام کا جو تقابلی جائزہ لیا ہے وہ ادب کابیش قیمت سرمایہ ہے ۔ انہوں نے درجنوں مخطوطات اور پچاس سے زائد تذکروں پر جو تحقیقی کام کیا ہے، وہ اردو اور فارسی ادب میں گراں قدر اضافے کی حیثیت رکھتا ہے۔بےدل شناسی اور مطالعہ شاد میں وہ اِستِناد کا درجہ رکھتے تھے۔’سفینہ ‘ نامی ایک معروف اور معتبر اردو رسالے کے وہ مُدیر بھی رہے ۔تاریخ گوئی میں عطا کاکوی خصوصی دسترس حاصل تھا۔ ان کے مضامین اعلیٰ تحقیقی معیار کے ہیں، جو سند کا درجہ رکھتے ہیں۔ایسی ہمہ جہت اور اعلیٰ مرتبت شخصیت کی فنکارانہ اور ادبی حیثیت کا اعتراف کرنا ہمارا ادبی فریضہ ہے۔صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے پروفیسر عابد حسین نےکہا کہ عطا کاکوی نے خاموشی سے اردو زبان وادب کے لئے کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ عطا کاکوی مطالعہ اور کتب بینی کے شوقین تھے۔ انہوں نے خدا بخش اورینٹل لائبریری کو اپنا گھر بنا لیا تھا۔وہ کثیر الجہات شخصیت کے حامل ہیں۔ وہ صوفی صفت آدمی تھے۔ان کا رنگ منفرد تھا وہ کبھی کسی سے مرعوب نہیں ہوئے۔خواہ نظم ہو یا نثر ہو، سبھی صنف میں انہوں نے اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔بیدل شناسی ان کا خاص مشغلہ تھا۔ وہ شاد عظیم آبادی کے خاص شاگردوں میں تھے۔مقالہ خوانی سیشن میںپروفیسر منظر حسین ، سابق ڈین فیکلکٹی و سابق صدر شعبہ اردو رانچی یونیورسٹی رانچی نےعطا کاکوی کی غزل گوئی کا فکری و فنی اختصاص کے موضوع پر اپنی گفتگو پیش کی۔انہوں نے کہا کہعطا کاکوی خاکساری وانکساری کے پیکر تھے۔انہوں نے کہا کہعطاکاکوی کی شاعری کی کئی جہتیں ہیں۔ ایک اہم جہت ان کی شاعری میں عشقیہ احساسات ہے اور ان کی شاعری کی ایک دوسری بڑی جہت علامت نگاری، استعارہ سازی ہے۔انہوں نے کہا کہ عطا کاکوی کا عہد معاشرتی زندگی کے اتھل پتھل کا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عطا کاکوی کومحققوں نے نقادوں نے وہ مقام نہیں دیا جس کا وہ مستحق تھے۔ یقینا یہ قابل افسوس امر ہے۔ڈاکٹر علاء الدین خان، اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو چھپرہ نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ عطاکاکوی کا تعلق ادبی خانوادے سے تھا۔عطاکاکوی نے ادب کی مختلف اصناف کو ایک نئی جہت عطا کی۔ وہ بڑے شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک صاحب اسلوب اور صاحب طرز انشا پرداز پربھی تھے۔ان کی تحریری وں میں روایات کی خوشبو کے ساتھ جدید فکری رجحانات کا عکس بھی ملتا ہے۔ ان کی شخصیت ایک مکمل ادیب کی صورت میں پروان چڑھی۔انہوں نے ادب میں اپنی ایک خاص شناخت قائم کی۔ڈاکٹر ایمن عبیدنے عطا کاکوی کی ادبی و سماجی شعور اور شاعری میں ان کا مقام کے حوالے سےگفتگو کی۔انہوں نے بتایا کہ عطا کاکوی کے ادبی کارنامے کئی جہتو ںپر محیط ہیں۔ وہ شاعر ،صحافی ، محقق ، انشاء پردازتھے۔عطاکاکوی کی تخلیق کردہ کتابیں انہیں باریک بیں ناقد ثابت کرتے ہیں۔ہزاروں سے زائد غزلیں ، رباعیاں، مرثیہ وغیرہ انہوں نے کہی ہیں۔طلبا / طالبات کی پیش کش کےتحت انور امام اور آمنہ خاتون پٹنہ یونیورسٹی نے عطا کاکوی پراپنی کاوشیں پیش کیں۔اس موقع پر پروفیسر اعجاز علی ارشد کی کتاب ’’یادوں کے درمیاں‘‘ کا اجرا مہمان اعزازی الحاج محمد ارشاد اللہ ، چیئر مین بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈ پٹنہ اور اسٹیج پرتشریف فرمامعزز شرکا کے دست خاص سےعمل میں آیا۔دوسرے اجلاس میں غفران اشرفی ( گیا)کی صدارت میں اور اثر فریدی کی نظامت میں محفل سخن کا انعقاد ہوا ۔جلال اصغر فریدی ،ڈاکٹر ضیاءالرحمن جعفری ،،ڈاکٹر بدر محمدی ، مشتاق سیوانی صاحب، پرویز انور ،ثناءاللہ ثنا ، محترمہ تبسم فرحانہ اور ڈاکٹر سَوَرَاکچھی سَوَرَا (کھگڑیا)نے اپنے کلام سے سامعین کو خوب خوب محظوظ کیا۔محفل سخن میں ڈائرکٹر ایس ایم پرویز عالم نے بھی خوبصورت لب و لہجہ میںاپنی دلکش شاعری پیش کی۔یاد گاری تقریب کی نظامت محمد ہاشم نے بحسن و خوبی انجام دیا۔تقریب میں محبان اردو ، طلبا و طالبات سمیت متعدد اہم شخصیات میں پروفیسر اعجاز علی ارشد، پروفیسر توقیر عالم، پروفیسر مشتاق احمد، ڈاکٹر ریحان غنی ، پروفیسر جاوید حیات،فخر الدین عارفی،پروفیسر شہاب ظفر اعظمی، ڈاکٹر سرورحسین، مشتاق احمد نوری،ڈاکٹر زر نگاریاسمین، اشرف النبی قیصر، سلطان آزاد،مصلح الدین کاظم، ظفر صدیقی،معین گریڈیہوی، ماسٹر محمد اسید ،اشفاق عادل،اثرفریدی، عرفان بیلہاروی،سرورسلام، سہیل فاروقی، اصغر حسین کامل،پرویز عالم وغیرہ موجود تھے۔ ڈائرکٹرایس ایم پرویز عالم کے تشکراتی کلمات پر تقریب کا اختتام ہوا۔