منگل، 13 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار

آواز ای بہار

ای پیپر
اہم خبریںقومیسیاستکھیلبہارقومیسیاستکھیلمضامینعالمی خبریںمزید
  • اہم خبریں
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • اہم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
آواز ای بہار
  • ہوم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
اردوहिन्दीEnglish

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

سبسکرائب

Email: awazebihar@gmail.com|Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا
  1. ہوم
  2. قومی
قومی

الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا

Awaz E Bihar•23 ستمبر، 2026 کو 07:19 PM•29 ویوز•3 منٹ پڑھیں

نئی دہلی : الیکشن کمیشن آف انڈیا نے اپنے دو ارکان کی جانب سے گزشتہ 10 ماہ کے دوران درج کیے گئے 14 اعتراضات سے متعلق رپورٹ پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارے میں مختلف آرا، تبصرے اور تکنیکی تجاویز معمول کی فیصلہ سازی کا حصہ ہیں۔ کمیشن نے تمام حتمی فیصلے اتفاقِ رائے سے ہونے کا دعویٰ کیا، تاہم ان اعتراضات میں اٹھائے گئے کئی مخصوص سوالات کا براہِ راست جواب نہیں دیا۔یہ وضاحت ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی ایک تحقیق کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں بتایا گیا تھا کہ الیکشن کمشنر ایس ایس سندھو اور وویک جوشی نے کمیشن کے مختلف اقدامات پر کم از کم 14 مرتبہ تحریری اعتراضات درج کیے۔ رپورٹ کے مطابق یہ اعتراضات ووٹر فہرستوں، نئے ووٹروں کے اندراج، ووٹروں کے نام حذف یا بحال کرنے، انتخابی ڈیٹا تک رسائی اور مغربی بنگال میں اپیلوں سمیت اہم معاملات سے متعلق تھے۔
کمیشن نے اپنے بیان میں کہا کہ کسی بھی ادارے میں غور و خوض کے دوران مختلف آرا سامنے آنا فطری ہے اور حتمی فیصلہ ہونے سے پہلے تحریری نوٹس، تبصرے، تکنیکی تجاویز اور داخلی نگرانی کا نظام معمول کی کارروائی کا حصہ ہیں۔ کمیشن کے مطابق ارکان کی جانب سے دی گئی تجاویز کا مقصد انتخابی عمل کو مزید بہتر بنانا اور ووٹروں کے حقوق کا تحفظ تھا۔الیکشن کمیشن نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ایس آئی آر سمیت انتخابی فہرستوں کی نظرثانی، تقریباً 40 نئی پہل اور دیگر انتخابی اصلاحات سے متعلق فیصلے مکمل کمیشن کی رضامندی سے کیے گئے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ صرف چند داخلی نوٹس اور تبصروں کو سامنے رکھ کر ادارے کے کام کا جائزہ لینا ’تصویر کا صرف ایک پہلو‘ پیش کرتا ہے۔
تاہم، رپورٹ میں جن مخصوص معاملات پر سوال اٹھائے گئے تھے، کمیشن کے بیان میں ان کی تفصیلی وضاحت نہیں ملتی۔ ان میں فارم 6 میں تبدیلی، انتخابی فہرست کے ڈیجیٹل ڈیٹا تک افسران کی رسائی اور مغربی بنگال میں ووٹروں کے خلاف دائر اپیلوں کی منظوری جیسے معاملات شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مئی میں وویک جوشی نے فارم 6 میں مجوزہ تبدیلی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ انتخابی قواعد میں ترمیم کے بغیر فارم میں اس نوعیت کی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ ایس ایس سندھو نے بھی اس رائے سے اتفاق کیا تھا۔ بعد میں اگست میں سندھو نے اس تبدیلی کو ’غیر مجاز اور غیر قانونی‘ قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر ہٹانے کی بات کہی تھی۔
انتخابی ڈیٹا کے معاملے میں بھی دونوں کمشنروں نے خدشات ظاہر کیے تھے۔ سندھو نے اگست میں کہا تھا کہ بعض ریاستی انتخابی افسران کو ای آر او نیٹ تک مکمل رسائی حاصل نہیں ہو رہی، جبکہ جوشی نے انتخابی ڈیٹا بیس کے ممکنہ مرکزی کنٹرول اور اس کے آڈٹ کی ضرورت پر سوال اٹھایا تھا۔
الیکشن کمیشن نے دوسری جانب کہا ہے کہ اس کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم سخت ڈیٹا سکیورٹی اور آڈٹ نظام کے تحت کام کرتے ہیں اور انتخابی افسران اپنے قانونی اختیارات کے مطابق ووٹروں کے اندراج اور نام حذف کرنے کا عمل انجام دیتے ہیں۔
شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

سی جے پی نے قومی دارالحکومت کی صورت حال کو کھلی ایمرجنسی سے تعبیر کیا
قومی

سی جے پی نے قومی دارالحکومت کی صورت حال کو کھلی ایمرجنسی سے تعبیر کیا

Awaz E Bihar•11 اکتوبر، 2026•14 ویوز
وزیر اعظم مودی نے تمل ناڈو کے لیے 13 ہزار کروڑ روپے سے زائد کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا، میٹرو کی توسیع و صنعتی ترقی پر زور
قومی

وزیر اعظم مودی نے تمل ناڈو کے لیے 13 ہزار کروڑ روپے سے زائد کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا، میٹرو کی توسیع و صنعتی ترقی پر زور

Awaz E Bihar•11 اکتوبر، 2026•7 ویوز
الیکشن کمیشن کے خلاف سی جے پی کے احتجاج پر پولیس کی سخت کارروائی، کئی رہنما حراست میں
قومی

الیکشن کمیشن کے خلاف سی جے پی کے احتجاج پر پولیس کی سخت کارروائی، کئی رہنما حراست میں

Awaz E Bihar•10 اکتوبر، 2026•16 ویوز