منگل، 13 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار

آواز ای بہار

ای پیپر
اہم خبریںقومیسیاستکھیلبہارقومیسیاستکھیلمضامینعالمی خبریںمزید
  • اہم خبریں
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • اہم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
آواز ای بہار
  • ہوم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
اردوहिन्दीEnglish

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

سبسکرائب

Email: awazebihar@gmail.com|Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
نیپال میں تباہ کن سیلاب زندگی بے بس
  1. ہوم
  2. عالمی خبریں
عالمی خبریں

نیپال میں تباہ کن سیلاب زندگی بے بس

Awaz E Bihar•26 اگست، 2026 کو 07:35 PM•31 ویوز•3 منٹ پڑھیں

نیپال ٹورزم بورڈ (این ٹی بی) کے مطابق بدھ کو تبت کی سرحد کے قریب نیپال کے ضلع راسوا میں آنے والے شدید اچانک سیلاب کے بعد ابتدائی طور پر لاپتہ قرار دیے گئے 384 سیاحوں اور مسافروں میں کم از کم 105 ہندوستانی شہری اور 37 غیر مقیم ہندوستانی (این آر آئیز) شامل ہیں۔
اچانک آنے والا سیلاب مقامی وقت کے مطابق تقریباً صبح 8:30 بجے راسوا گڑھی-تیمورے کے علاقے میں دریائے بھوٹے کوشی میں آیا۔ اس کے نتیجے میں راسوا اور پڑوسی اضلاع نوواکوت اور دھادِنگ کے بعض علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ کم از کم آٹھ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔شدید سیلابی ریلے میں گاڑیاں، سامان، پل اور دیگر بنیادی ڈھانچے بہہ گئے، جبکہ کئی پن بجلی منصوبوں کو بھی نقصان پہنچا۔ متاثرہ علاقوں میں آبادیوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے اور امدادی و بچاؤ کارروائیاں جاری ہیں۔نیپال ٹورزم بورڈ کی مرتب کردہ ابتدائی فہرست کے مطابق 384 مسافر لاپتہ ہیں، جن میں 291 غیر ملکی اور 93 نیپالی شہری شامل ہیں۔
اب تک شناخت کیے گئے غیر ملکی شہریوں میں 105 کا تعلق ہندوستان سے ہے۔ فہرست میں آسٹریلیا، نیدرلینڈز، امریکا، ملائیشیا، برطانیہ اور جنوبی افریقہ کے شہری بھی شامل ہیں، جبکہ کئی دیگر افراد کی قومیت کی تصدیق ابھی باقی ہے۔
این ٹی بی نے کہا کہ یہ اعداد و شمار ابتدائی ہیں اور سفری ایجنسیوں، گائیڈز، مقامی حکام اور سکیورٹی اداروں کے تعاون سے ان کی تصدیق کی جارہی ہے۔ حکام نے اہل خانہ اور مسافروں سے اپیل کی ہے کہ تصدیقی عمل مکمل ہونے تک کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچیں۔اب تک شناخت کیے گئے 105 ہندوستانی شہریوں میں 59 سمرت ٹورز اینڈ ٹریولز اور 46 لیف ہالی ڈے کے ذریعے سفر کررہے تھے۔ 37 این آر آئیز کو ہمالین گلیشیئر کے تحت الگ فہرست میں درج کیا گیا ہے۔
ابتدائی ایجنسی وار ریکارڈ کے مطابق ٹریکرز سوسائٹی سے وابستہ 92، سمرت ٹورز اینڈ ٹریولز کے 71، لیف ہالی ڈے کے 55، ہمالین گلیشیئر کے 52 اور کیلاش جرنی کے 31 مسافر شامل ہیں۔
فش ٹیل ٹورز اینڈ ٹریولز نے 20 غیر ملکی مسافروں کی اطلاع دی، جن میں تین امریکی اور 17 ملائیشین شہری شامل ہیں۔ ہمالین گلیشیئر نے 37 غیر ملکی مسافروں کی اطلاع دی، جبکہ الپائن ایکو ٹریک کے ذریعے سفر کرنے والے 16 افراد میں 12 برطانوی اور چار جنوبی افریقی شہری شامل ہیں۔
ٹورزم بورڈ، ٹورسٹ پولیس اور دیگر سیاحتی ادارے سیلاب کے وقت متاثرہ علاقے میں موجود یا وہاں سے گزرنے والے افراد کی موجودگی اور سلامتی کا پتا لگانے کے لیے مسلسل کوششیں کررہے ہیں۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ سفری ایجنسیاں اور متعلقہ ادارے اپنے ریکارڈ کی دوبارہ جانچ کررہے ہیں، اس لیے لاپتہ ہندوستانی شہریوں کی تعداد میں تبدیلی ہوسکتی ہے۔
دریں اثنا، نیپال میں بھارتی سفارتی مشن نے بھی قدرتی آفت سے متاثرہ بھارتی شہریوں کے لیے ہنگامی رابطہ نمبرز جاری کیے ہیں۔
حکام نے تباہی کی شدت کا جائزہ لینے اور لاپتہ افراد کی تلاش جاری رکھنے کے لیے امدادی ٹیموں اور سکیورٹی اہلکاروں کو متحرک کردیا ہے۔
سیلاب نے سرحدی علاقے میں آمدورفت کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ یہ علاقہ تبت جانے والے سیاحوں اور مسافروں کے لیے اہم راستہ ہے، جن میں ماؤنٹ کیلاش اور مانسروور جھیل جانے والے افراد بھی شامل ہیں۔
کئی علاقوں میں مواصلاتی نظام اور اہم راستے متاثر ہونے کے باعث حکام دور دراز اور منقطع آبادیوں تک پہنچنے اور قدرتی آفت سے ہونے والے مکمل نقصان کا اندازہ لگانے کے لیے تیزی سے کام کررہے ہیں۔
شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

سوڈان میں سونے کی کان پر فضائی حملہ، کم از کم 72 کان کن ہلاک
عالمی خبریں

سوڈان میں سونے کی کان پر فضائی حملہ، کم از کم 72 کان کن ہلاک

Awaz E Bihar•12 اکتوبر، 2026•12 ویوز
آپریشن ’’فجر الیمن‘‘ جاری، حوثیوں کے ٹھکانوں اور اسلحہ گوداموں پر حملے جاری
عالمی خبریں

آپریشن ’’فجر الیمن‘‘ جاری، حوثیوں کے ٹھکانوں اور اسلحہ گوداموں پر حملے جاری

Awaz E Bihar•11 اکتوبر، 2026•6 ویوز
یمن میں لڑائی تیز، انسانی بحران سنگین ہونے کا خدشہ
عالمی خبریں

یمن میں لڑائی تیز، انسانی بحران سنگین ہونے کا خدشہ

Awaz E Bihar•7 اکتوبر، 2026•9 ویوز