منگل، 13 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار

آواز ای بہار

ای پیپر
اہم خبریںقومیسیاستکھیلبہارقومیسیاستکھیلمضامینعالمی خبریںمزید
  • اہم خبریں
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • اہم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
آواز ای بہار
  • ہوم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
اردوहिन्दीEnglish

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

سبسکرائب

Email: awazebihar@gmail.com|Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
امریکی حملے کے خدشے سے ایران میں احتجاجی تحریک کے دوبارہ ابھرنے کا خوف
  1. ہوم
  2. عالمی خبریں
عالمی خبریں

امریکی حملے کے خدشے سے ایران میں احتجاجی تحریک کے دوبارہ ابھرنے کا خوف

Awaz E Bihar•3 فروری، 2026 کو 01:37 PM•0 ویوز•3 منٹ پڑھیں

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے موجودہ اور سابقہ چھ ایرانی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایرانی قیادت کو بڑھتے ہوئے خدشات لاحق ہیں کہ ممکنہ امریکی حملہ گزشتہ ماہ ملک بھر میں پھیلنے والے احتجاج کے بعد ایرانیوں کو ایک بار پھر سڑکوں پر نکلنے پر آمادہ کر سکتا ہے۔مباحثوں کی پیش رفت سے آگاہ چار موجودہ حکام کے مطابق اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں عہدیداروں نے ایرانی رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو آگاہ کیا کہ احتجاج کچلنے کے باعث عوامی غصہ اس حد تک پہنچ چکا ہے جہاں اب خوف رکاوٹ نہیں رہا۔
حکام نے انکشاف کیا کہ خامنہ ای کو بتایا گیا ہے کہ بڑی تعداد میں ایرانی دوبارہ سیکیورٹی فورسز کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیںاور یہ کہ بیرونی دباؤجیسے ایک محدود امریکی حملہ انہیں ''حوصلہ دے سکتا ہے'' اور سیاسی نظام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ذرائع نے خامنہ ای کے ردِعمل کے بارے میں بتانے سے انکار کیا۔ایک عہدیدار نے رائٹرزکو بتایا کہ اس کے بقول ''ایران کے دشمن'' اسلامی جمہوریہ کے خاتمے کے لیے مزید احتجاج چاہتے ہیں۔موضوع کی حساسیت کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک اور عہدیدار نے کہا: ''ممکن ہے کوئی حملہ، جس کے بعد مشتعل عوامی مظاہرے ہوں، حکمران نظام کے انہدام کا باعث بن جائے۔ یہ اعلیٰ حکام کا سب سے بڑا خدشہ ہے، اور ہمارے دشمن یہی چاہتے ہیں ''۔ان بیانات کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ قیادت کے اندرونی خدشات کی نشاندہی کرتے ہیں، جو مظاہرین اور امریکا کے حوالے سے تہران کے علانیہ مؤقف سے متصادم ہیں۔
گزشتہ ہفتے رائٹرز نے متعدد ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں، جن میں سیکیورٹی فورسز اور قیادت پر حملے بھی شامل ہیں تاکہ مظاہرین کو متحرک کیا جا سکے،اگرچہ غیر ملکی حکام نے اس بات کی تصدیق کی کہ صرف فضائی طاقت تہران میں اقتدار کا تختہ الٹنے کے لیے کافی نہیں۔ایسی کسی بغاوت کا امریکی حملے کے بعد سامنے آنا جون میں ایران کے جوہری پروگرام پر اسرائیلی اور امریکی بمباری کے بعد ایرانیوں کے ردِعمل کے برعکس ہوگا، جب حکومت مخالف مظاہرے دیکھنے میں نہیں آئے تھے۔تاہم اعتدال پسند دھڑے سے تعلق رکھنے والے ایک سابق سینئر عہدیدار کے مطابق جنوری کے اوائل میں احتجاج کچلے جانے کے بعد صورتحال بدل چکی ہے۔انہوں نے کہا:عوام شدید غصے میں ہیں اور مزید کہا کہ امریکی حملہ ایرانیوں کو دوبارہ بغاوت پر آمادہ کر سکتا ہے۔ ان کے الفاظ میں: ''خوف کی دیوار گر چکی ہے۔ اب کوئی خوف نہیں رہا ''۔تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایک امریکی طیارہ بردار جہاز اور اس کی معاون جنگی جہازوں کی آمد نے اس امکان کو بڑھا دیا ہے کہ اگر ٹرمپ چاہیں تو فوجی اقدام کر سکتے ہیں، خصوصاً ایران میں مظاہروں سے نمٹنے پر ان کی مسلسل دھمکیوں کے بعد۔اگرچہ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مداخلت کی دھمکیوں پر عمل نہیں کیا، تاہم بعد میں انہوں نے جوہری پروگرام سے متعلق رعایتوں کا مطالبہ کیا۔ دونوں فریق اس دیرینہ جوہری تنازع پر سفارتی مذاکرات کی بحالی کے لیے آمادگی ظاہر کر چکے ہیں۔ایرانی اپوزیشن کی متعدد شخصیات جو کبھی ریاستی نظام کا حصہ رہیں مگر بعد میں اختلافات پیدا ہوئے،جن میں سابق وزیرِ اعظم میر حسین موسوی بھی شامل ہیں، قیادت کو خبردار کر رہی ہیں کہ عوامی غصے میں اضافہ نظام کے انہدام کا باعث بن سکتا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

سوڈان میں سونے کی کان پر فضائی حملہ، کم از کم 72 کان کن ہلاک
عالمی خبریں

سوڈان میں سونے کی کان پر فضائی حملہ، کم از کم 72 کان کن ہلاک

Awaz E Bihar•12 اکتوبر، 2026•13 ویوز
آپریشن ’’فجر الیمن‘‘ جاری، حوثیوں کے ٹھکانوں اور اسلحہ گوداموں پر حملے جاری
عالمی خبریں

آپریشن ’’فجر الیمن‘‘ جاری، حوثیوں کے ٹھکانوں اور اسلحہ گوداموں پر حملے جاری

Awaz E Bihar•11 اکتوبر، 2026•6 ویوز
یمن میں لڑائی تیز، انسانی بحران سنگین ہونے کا خدشہ
عالمی خبریں

یمن میں لڑائی تیز، انسانی بحران سنگین ہونے کا خدشہ

Awaz E Bihar•7 اکتوبر، 2026•9 ویوز