منگل، 13 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار

آواز ای بہار

ای پیپر
اہم خبریںقومیسیاستکھیلبہارقومیسیاستکھیلمضامینعالمی خبریںمزید
  • اہم خبریں
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • اہم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
آواز ای بہار
  • ہوم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
اردوहिन्दीEnglish

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

سبسکرائب

Email: awazebihar@gmail.com|Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
گاندھی اور سرسید جیسی شخصیات ہمارے لیے مشعل راہ ہیں: معصوم عزیز کاظمی
  1. ہوم
  2. بہار
بہار

گاندھی اور سرسید جیسی شخصیات ہمارے لیے مشعل راہ ہیں: معصوم عزیز کاظمی

Awaz E Bihar•14 دسمبر، 2025 کو 05:33 PM•4 ویوز•6 منٹ پڑھیں

اردو زبان میں وہ وسعت، نزاکت اور تہذیبی گہرائی ہے جو انسان کے کردار اور فکر دونوں کی تعمیر کرتی ہے:پروفیسر عین تابش اس طرح کے تقریری مقابلے سے نئی نسل کی فکری و سماجی تربیت ہوتی ہے : مارکنڈے پانڈے تعلیم محض کتابوں تک محدود نہیں بلکہ تربیت، کردارسازی اور سماجی شعور کا نام ہے :ڈاکٹر مختار احمد فردین

گیا(پریسریلیز) طلباءہمارا مستقبل ہیں۔ مہاتما گاندھی اور سرسید احمد خاں جیسی عظیم ہستیوں کی حیات وخدمات پر گفتگو کرکے وہ نہ صرف اپنی علمی بصیرت بڑھا رہے ہیں بلکہ قوم کی اصلاح اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو رہے ہیں۔اس طرح کے تقریری مقابلے گاندھی و سرسید کی فکری روایت کو نئی نسل تک پہنچانے کا مؤثر ذریعہ فراہم کرتے ہیں اور گاندھی و سرسید کے موضوعات نے طلباء میں فکری حرارت اور جذبہ پیدا کیا۔یہ باتیں گیا کالج گیاجی میں منعقدہ مہاتماگاندھی اور سرسید کی خدمات اور اردو زبان و ادب کے موضوع پر تقریری مقابلے میں معروف ادیب و محقق اور سابق آئی جی جناب معصوم عزیز کاظمی نے صدارتی کلمات ادا کرتے ہوئے کہیں۔ انھوں نے اردو زبان کی اہمیت پر بھی گفتگو کی اور کہا کہ اردو زبان کی شیرینی اور شائستگی نے ہمارےمعاشرے میں ہم آہنگی کی فضا پیدا کی ہے۔اس تقریری مقابلے میں معروف شاعر اورسابق صدر شعبہ انگریزی مرزا غالب کالج گیا پروفیسر عین تابش نے بطور مہمان خصوصی اپنے خطاب میں کہا کہ آج طلباء نے گاندھی جی اور اردو زبان و ادب پر جس طرح سے اظہار خیال کیا ہے اس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہوگی اور ایک طویل عرصے کے بعد ایسی پہل قابل ستائش ہے۔ اس نوعیت کی سرگرمیاں نہ صرف تعلیمی ماحول کو فعال بناتی ہیں بلکہ نوجوان نسل میں تحقیق، مکالمہ اور تعمیری سوچ کو بھی پروان چڑھاتی ہیں۔اردو زبان میں وہ وسعت، نزاکت اور تہذیبی گہرائی ہے جو انسان کے کردار اور فکر دونوں کی تعمیر کرتی ہے۔اس موقع پر گیا کالج کے مالی نگراں ڈاکٹر مارکنڈے پانڈے نے بطور مہمان اعزازی شرکت کی اور کہا کہ علم اور تربیت ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ ایک مہذب معاشرہ انہی دونوں ستونوں پر قائم ہوتا ہے۔ اس طرح کے تقریری مقابلے سے نئی نسل کی فکری و سماجی تربیت ہوتی ہے۔اس پروگرام کے دوسرے مہمان اعزازی حیدرآباد سے تشریف لائے معروف ادیب اور آل انڈیا اردو ماس سوسائٹی فار پیس کے صدر ڈاکٹر مختار احمد فردین نے کہا کہ تعلیم محض کتابوں تک محدود نہیں بلکہ تربیت، کردارسازی اور سماجی شعور کا نام ہے۔ گاندھی اور سرسید کی شخصیات محض تاریخ کا حصہ نہیں، بلکہ یہ دونوں ہمارے سماجی و فکری سفر کے رہنما ہیں۔ انہوں نے طلبا کو مطالعہ، نظم و ضبط، معاشرتی ذمہ داری، اور مثبت سوچ اپنانے کی تلقین کی۔ اس موقع پر معروف افسانہ نگار و صحافی ڈاکٹر سید احمد قادری نے طلباء کی علمی لگن کو سراہتے ہوئے کہا کہ آج کے نوجوان اگر گاندھی اور سرسید جیسے مفکرین کے نظریات کو سمجھیں تو معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔معروف فکشن نگار اور ممبر ساہتیہ اکادمی نئی دہلی ڈاکٹر احمد صغیر نے اپنی گفتگو میں طلباء کو مطالعہ، تحقیق اور تخلیقی سرگرمیوں کو اپنی تعلیمی زندگی میں مرکزی حیثیت دینے پر زور دیا۔اس موقع پر نیو سورج فوڈ پروڈکٹس کے ایم ڈی اور ادیب وناقد ڈاکٹرمحمد امتیاز عالم نے کہا کہ تعلیم اور ادب کی یہ محفل اصلاح کے جذبے کو زندہ کرتی ہے اور یہ مقابلہ طلباء کی صلاحیتوں کا امتحان ہے، جو انہیں قیادت کی طرف لے جائے گا۔سہسرام سے تشریف لائے ڈاکٹر اے کے علوی نے بچوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ آپ عظیم شخصیات کی سوانح حیات کو پڑھیں اور ان سے سیکھیں۔ گیا کالج میں آپ کی بہترین تربیت کی جارہی ہے۔ ڈاکٹر شکیل علائی نے کہا کہ گاندھی جی کے نظریات آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔آئی کان انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر سید عابد کلیم نے کہا کہ طلباء کی تربیت کے لیے ایسے تقریری مقابلے بہت ضروری ہیں۔ اس تقریری مقابلے میں بی اے اور ایم اے کے طالب علموں کے لیے الگ الگ انعامات رکھے گئے تھے ۔ جس میں ایم اے سے پہلا دوسرا اور تیسرا انعام باالترتیب محمد شمیم احمد، ماہرہ خاتون اور کشفی فاطمہ کو دیا گیا جب کہ بی اے سے نکہت ناز، نیہا آفرین،عظمیٰ نہال کو باالترتیب پہلے دوسرے اور تیسرے انعامات کا حقدار قرار دیا گیا۔ساتھ ہی ایم اے اور بی اے کے طالب علموں چاندنی خانم، علیشہ ملک، انس پرویز اور محمد اظہر حسین کوتشجیعی انعامات کا حقدار قرار دیا گیا۔ اس مقابلے میں حصہ لینے والے سبھی طلبا کو سرٹیفیکٹ سے بھی نوازا گیا۔اس تقریری مقابلے میں جج کے فرائض سہسرام سے تشریف لائے معروف ادیب و ناقد ڈاکٹر اے کے علوی اور ڈاکٹر امتیاز عالم نے ادا کیے ۔ آل انڈیا اردو ماس سوسائٹی فار پیس کے صدر معروف سماجی رہنما اور ماہر تعلیم نے اس پروگرام میں حیدرآباد سے تشریف لاکر پروگرام کی رونق کو دوبالا کردا۔ انھوں نے اپنی سوسائٹی کی جانب سے تعلیم ، صحافت ، اردو زبان و ادب اور مختلف میدان میں کام کرنے والی مختلف شخصیات کو اردو انمول رتن ایوارڈ سے بھی نوازا ۔ڈاکٹر مختار احمد فردین نے گیا کالج گیاجی کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر ستیش سنگھ چندر، معروف ادیب جناب معصوم عزیز کاظمی،معروف و مقبول شاعرپروفیسر عین تابش ، معروف افسانہ نگار ڈاکٹر سید احمد قادری،نیو سورج فوڈ پروڈکٹ کے جنرل مینیجر ڈاکٹر امتیاز عالم، کالج کے مالی نگراں ڈاکٹر مارکنڈے پانڈے ،معروف فکشن نگار ڈاکٹر احمد صغیر، شاعر اور ادیب جناب ہریندر گری شاد،معروف ادیب ڈاکٹر شکیل علائی،معروف شاعرہ ڈاکٹر تبسم فرحانہ، ڈائرکٹر آئیکون کمپیوٹر انسٹی ٹیوٹ جناب سید عابد کلیم،حاجی جمال الدین لائبریری کے سرپرست ڈاکٹر آفتاب عالم اور ڈاکٹر محمد منہاج الدین ، استاد شعبہ اردو گیا کالج گیا کو اردو انمول رتن ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس انعامی تقریب کے بعد روزنامہ تاثیر کے زیر اہتمام ایک مذاکرہ بعنوان نئی نسل صحافت اور اردو زبان کا بھی انعقاد ہوا جس میں ڈاکٹر مختار احمد فردین، ڈاکٹر سید احمد قادری،ڈاکٹر امتیاز عالم اور اسٹنگ نیوز کولکاتہ کے صحافی جناب شہاب الدین نے شرکت کی اور نئی نسل کے لیے اردو زبان و ادب اور صحافت کے میدان میں کیریئرکے امکانات پر تفصیلی روشنی ڈالی اور نوجوانوں کو محنت کرنے اور لکھنے کی مشق کرنے کی تلقین کی۔ پروگرام کے آغاز میں گیا کالج کا کل گیت پیش کیا گیا ساتھ ہی شمع روشن کر کے پروگرام کی شروعات کی گئی۔صدر شعبہ اردو ڈاکٹر عبدالحی نے سبھی مہمانوں کا گلدستے سے استقبال کیا اور اس تقریب کی غرض و غایت بیان کی ساتھ ہی مہمانوں کا تعارف پیش کیا۔ اس تقریری مقابلے کی نظامت شعبے کے استاد ڈاکٹر محمد منہاج الدین نے بحسن و خوبی انجام دی ۔ کلمات تشکر صدر شعبہ اردو ڈاکٹر عبدالحی نے ادا کیے۔اس تقریب میں گیا کالج گیا جی کے صدر شعبہ ہندی پروفیسر رام ادئے کمار، شعبہ فلسفہ کے اساتذہ ڈاکٹر پنکج کماربھارتی اور ڈاکٹر انوپ پرساد ، سماجی کارکن سنیل کمار اور دیگر اساتذہ کے ساتھ ساتھ بی اے اور ایم اے کے طلبا کی بڑی تعداد موجود تھی۔ تقریب کا اختتام راشٹرگان جن گن من کی پیش کش پر ہوا.
شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

گردنی باغ کے علاوہ کہیں بھی دھرنا دیا تو ہوگی قانونی کارروائی
بہار

گردنی باغ کے علاوہ کہیں بھی دھرنا دیا تو ہوگی قانونی کارروائی

Awaz E Bihar•12 اکتوبر، 2026•10 ویوز
 سمراٹ چودھری نے سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے بینک کھاتوں میں امدادی رقم منتقل کی
بہار

سمراٹ چودھری نے سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے بینک کھاتوں میں امدادی رقم منتقل کی

Awaz E Bihar•12 اکتوبر، 2026•21 ویوز
پی ایم سی ایچ میں اب ایک ساتھ 2500 بستروں پر مریضوں کا جدید طبی سہولتوں کے ساتھ علاج ہوگا: سمراٹ چودھری
بہار

پی ایم سی ایچ میں اب ایک ساتھ 2500 بستروں پر مریضوں کا جدید طبی سہولتوں کے ساتھ علاج ہوگا: سمراٹ چودھری

Awaz E Bihar•12 اکتوبر، 2026•9 ویوز