گورنمنٹ طبی کالج و اسپتال پٹنہ میں نئے طلباء و طالبات کے انڈکشن پروگرام اور ٹرانزیشنل کیوریکولم کی اختتامی تقریب منعقد
Awaz E Bihar••0 ویوز•3 منٹ پڑھیں
پٹنہ (پریس ریلیز) ڈاکٹر محمد شفاعت کریم، اسسٹنٹ پروفیسر، گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ نے ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے بتایا کہ آج مورخہ ۱۶ دسمبر بروز منگل گورنمنٹ طبی کالج و اسپتال پٹنہ کے اجمل خاں آڈیٹوریم میں رواں سال کے سیشن میں داخلہ لینے والے طلباء و طالبات کے لئے اختتامی تقریب منعقد کی گئی۔ جس میں پری طب کے طلباء کے لئے ۶ روزہ انڈکشن پروگرام، اور یو جی اور پی جی کے طلباء کے لئے ۱۵ دنوں کا انڈکشن پروگرام اور ٹرانزیشنل کیوریکولم منعقد کیا گیا تھا جس کا آغاز ۲۵ نومبر کو ہوا تھا۔ اس موقع پر بہار اردو ایکشن کمیٹی کے صدر اور روز نامہ قومی تنظیم کے مدیر اعلی ڈاکٹر ایس ایم اشرف فرید مہمان خصوصی کے طور پر شامل ہوئے۔ مہمان اعزازی کے طور پر ڈاکٹر محمد امتیاز کریمی ، سابق چیرمین ، بی پی ایس سی بھی شامل ہوئے۔ اس کے علاوہ ارشد پرویز، سابق چیرمین گورنمنٹ اردو لائبریری، مولانا (ڈاکٹر) ابو الکلام قاسمی شمسی، سابق پرنسپل مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی پٹنہ، انوا لہدٰی ، سکریٹری اردو ایکشن کمیٹی نےبھی خاص مہمان کی حیثیت سے شرکت کی۔ پروگرام کی صدارت کالج کے پرنسپل پروفیسر (ڈاکٹر) محمد محفوظ الرحمن نے کی، پروگرام کی نظامت پی جی اسکالر ڈاکٹر امین عبید اللہ نے کی اور ڈاکٹر محمد تنویر عالم صدر شعبہ کلیات نے جملہ تشکر پیش کیا۔پروگرام کا آغاز مصباح الدین ، پی جی اسکالر کی قرآن کی تلاوت سے ہوا۔ بتاتا چلوں کہ اس اختتامی پروگرام کے ساتھ ساتھ اردو زبان میں گورنمنٹ طبی کالج کے خدمات کے موضوع پر مہمانا ن نے اپنے تاثرات پیش کئے۔ ڈاکٹر محمد شمیم اختر، صدر شعبہ ماہیت الامراض نے اسی موضوع پر پر جوش اور مدلل تقریر دی۔ ڈاکٹر امتیاز کریمی صاحب نے طلباء سے خطاب میں کہا کہ اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ آپ سب کو مقابلہ جاتی امتحانات میں بھی حصہ لینا چاہئے۔ ارشد فیروز صاحب نے کہا کہ کالج کی ترقی طلباء کی ترقی کے ساتھ ہی وابستہ ہے۔ مولانا ابو الکلام قاسمی صاحب نے مدرسہ شمس الہدٰی پٹنہ اور گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کے باہم تعلقات کو تاریخی پس منظر میں پیش کیا۔ ڈاکٹر ایس ایم اشرف فرید نے مجلس سے خطاب میں حکیم عبد المجید اور حکیم اجمل خان صاحب کا ذکر کرتے ہوئے طب اور اردو کے حوالے سے بتایا کہ موجودہ وقت میں اردو ہی طب کی زبان ہے اور اسے یونانی طب میں خوب خوب فروغ حاصل ہوا ہے۔