منگل، 13 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار

آواز ای بہار

ای پیپر
اہم خبریںقومیسیاستکھیلبہارقومیسیاستکھیلمضامینعالمی خبریںمزید
  • اہم خبریں
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • اہم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
آواز ای بہار
  • ہوم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
اردوहिन्दीEnglish

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

سبسکرائب

Email: awazebihar@gmail.com|Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
خامنہ ای نے ایران کے انتظامی اموراپنے مشیر لاریجانی کو سونپ دیے
  1. ہوم
  2. عالمی خبریں
عالمی خبریں

خامنہ ای نے ایران کے انتظامی اموراپنے مشیر لاریجانی کو سونپ دیے

Awaz E Bihar•23 فروری، 2026 کو 04:28 PM•0 ویوز•4 منٹ پڑھیں

تہران،23فروری(ایجنسی)۔جہاں ایک طرف ایران پر امریکہ کے حملوں کے امکانات بڑھ رہے ہیں اور دوسری طرف کسی معاہدے تک پہنچنے کا امکان بھی موجود ہے، وہیں ایرانی قیادت بد ترین صورت حال کے لیے تیاریاں کر رہی ہے۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق اعلیٰ ایرانی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے اپنے معتمد ترین ساتھیوں میں سے ایک علی لاریجانی کو امریکہ کے ساتھ تصادم کے بڑھتے ہوئے امکانات کے پیش نظر ملک کے معاملات چلانے کی ذمے داری سونپ دی ہے۔ اس لیے کہ ان کے (خامنہ ای) اپنے اور ان کے بیٹے مجتبیٰ کے قتل کے خدشات بھی شامل ہیں۔
اس سے قبل6 اعلیٰ ایرانی حکام، پاسداران انقلاب کے 3 ارکان اور سابق سفارت کاروں نے واضح کیا کہ لاریجانی جنوری کے اوائل میں ملک میں مظاہروں کے آغاز اور امریکی دھمکیوں کے بعد سے عملی طور پر حساس سیاسی اور سیکیورٹی معاملات سنبھال رہے ہیں۔ تب سے 67 سالہ لاریجانی، جو ایک تجربہ کار سیاست دان، پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر اور اس وقت سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ ہیں، عملی طور پر ملکی امور چلا رہے ہیں۔ اس صورتحال نے صدر مسعود پزیشکیان کو پس پشت ڈال دیا ہے، جو دل کے سرجن سے سیاست دان بنے اور جنہیں اپنے عہدے پر ایک مشکل سال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ان چھ حکام اور پاسداران انقلاب کے ارکان نے بتایا کہ خامنہ ای نے لاریجانی اور چند قریبی سیاسی و فوجی ساتھیوں کو سخت ہدایات جاری کی ہیں تاکہ کسی بھی امریکی یا اسرائیلی حملے، اور سپریم لیڈر سمیت اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے والی قتل کی کوششوں کے سامنے "اسلامی جمہوریہ" کی بقا کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ایرانی سپریم لیڈر کی ہدایات میں ہر اس فوجی یا سرکاری عہدے کے لیے چار متبادل افراد کا تعین کیا گیا ہے جس پر وہ خود تقرری کرتے ہیں اور تمام کمانڈروں کو چار ممکنہ جانشین نامزد کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنے قریبی ساتھیوں کے ایک محدود حلقے کو یہ اختیار بھی دیا ہے کہ اگر ان سے رابطہ منقطع ہو جائے یا وہ مارے جائیں تو وہ فیصلے کر سکیں۔حکام نے انکشاف کیا کہ ایران اب اس بنیاد پر کام کر رہا ہے کہ جوہری معاملے پر سفارتی مذاکرات جاری رہنے کے باوجود امریکی حملے ناگزیر اور قریب ہیں اور اس نے اپنی تمام افواج کو الرٹ کی اعلیٰ ترین سطح پر کر دیا ہے۔
تہران نے اسرائیل کو نشانہ بنانے کے لیے عراق کے ساتھ اپنی مغربی سرحد کے قریب اور اپنے جنوبی ساحلوں پر بھی بیلسٹک میزائلوں کے لانچ پیڈ نصب کر دیے ہیں۔ اس نے میزائلوں کے تجربات کے لیے کئی بار اپنی فضائی حدود بند کی ہیں اور خلیج میں مشقیں کی ہیں جن میں آبنائے ہرمز کی عارضی بندش بھی شامل ہے۔
جنگ چھڑنے کی صورت میں پاسداران انقلاب کے خصوصی دستے، پولیس، انٹیلی جنس اور بسیج فورسز بڑے شہروں کی سڑکوں پر تعینات کی جائیں گی تاکہ بدامنی کو روکا جا سکے اور غیر ملکی انٹیلی جنس اداروں سے وابستہ عناصر کا سراغ لگایا جا سکے۔ایرانی قیادت کے منصوبوں میں خود سیاسی نظام کی بقا کے منظرنامے بھی شامل ہیں، جن میں یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ اگر خامنہ ای اور اعلیٰ حکام مارے گئے تو ملک کی قیادت کون کرے گا۔ قیادت اس پر بھی غور کر رہی ہے کہ ’ایران کی ڈیلس‘ کون ہو سکتا ہے، جو وینزویلا کی نائب صدر ڈیلس روڈریگز کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد ملک چلانے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کیے تھے۔حکام کے مطابق لاریجانی اس فہرست میں سرِفہرست ہیں، جن کے بعد پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور سابق صدر حسن روحانی ہیں، باوجود اس کے کہ روحانی کو سپریم لیڈر کے حلقوں سے دور کر دیا گیا تھا۔
یہ معلومات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایرانی اور امریکی فریقین آئندہ جمعرات کو جنیوا میں جوہری مذاکرات کے تیسرے دور کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس سے قبل مسقط اور سوئس شہر میں دو ادوار ہو چکے ہیں جنہیں اچھا قرار دیا گیا تھا۔ یہ پیش رفت ایک طرف خطے میں امریکی فوجی نقل و حرکت میں اضافے اور دوسری طرف ایران کی فوجی تیاریوں کے دوران سامنے آئی ہے۔
شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

سوڈان میں سونے کی کان پر فضائی حملہ، کم از کم 72 کان کن ہلاک
عالمی خبریں

سوڈان میں سونے کی کان پر فضائی حملہ، کم از کم 72 کان کن ہلاک

Awaz E Bihar•12 اکتوبر، 2026•13 ویوز
آپریشن ’’فجر الیمن‘‘ جاری، حوثیوں کے ٹھکانوں اور اسلحہ گوداموں پر حملے جاری
عالمی خبریں

آپریشن ’’فجر الیمن‘‘ جاری، حوثیوں کے ٹھکانوں اور اسلحہ گوداموں پر حملے جاری

Awaz E Bihar•11 اکتوبر، 2026•6 ویوز
یمن میں لڑائی تیز، انسانی بحران سنگین ہونے کا خدشہ
عالمی خبریں

یمن میں لڑائی تیز، انسانی بحران سنگین ہونے کا خدشہ

Awaz E Bihar•7 اکتوبر، 2026•9 ویوز