منگل، 13 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار

آواز ای بہار

ای پیپر
اہم خبریںقومیسیاستکھیلبہارقومیسیاستکھیلمضامینعالمی خبریںمزید
  • اہم خبریں
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • اہم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
آواز ای بہار
  • ہوم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
اردوहिन्दीEnglish

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

سبسکرائب

Email: awazebihar@gmail.com|Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
وندے ماترم کو قانونی لزوم دینا مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ :مسلم پرسنل لا بورڈ
  1. ہوم
  2. قومی
قومی

وندے ماترم کو قانونی لزوم دینا مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ :مسلم پرسنل لا بورڈ

Awaz E Bihar•31 جولائی، 2026 کو 07:32 PM•50 ویوز•4 منٹ پڑھیں

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے ترمیمی بل منظور کرکے وندے ماترم کی توہین کو قابلِ سزا جرم قرار دینے کے اقدام پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملک کے آئینی، سیکولر اور جمہوری مزاج کے منافی اور شہریوں کی مذہبی آزادی پر ایک سنگین حملہ قرار دیا ہے ۔ بورڈ کے مطابق قانون سازی کے ذریعے کسی مخصوص مذہبی تصور یا عقیدے کو ملک کے تمام شہریوں پر مسلط کرنا دستورِ ہند کی بنیادی روح سے متصادم ہے ۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے جاری کردہ اپنے بیان میں کہا کہ وندے ماترم کو قانونی جبر کے ذریعے تمام طبقات اور مذہبی برادریوں پر لازم کرنے کی کوشش نہ صرف نازیبا بلکہ دستور کے بنیادی اصولوں کے بھی خلاف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دستور سازی کے مرحلے میں دستور ساز اسمبلی نے گہرے غور و خوض کے بعد وندے ماترم کے ابتدائی دو بندوں کو ہی قومی سطح پر قبول کیا تھا، جبکہ اس کے دیگر حصوں کے مذہبی مفاہیم کو ملک کے سیکولر کردار کے ساتھ ہم آہنگ نہیں سمجھا گیا تھا۔ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ وندے ماترم کے بعض مندرجات ایسے مذہبی تصورات پر مبنی ہیں جن میں وطن کو ایک دیوی کی صورت میں پیش کرکے اس کی وندنا کی دعوت دی گئی ہے ۔ مسلمان کے لیے یہ تصور اس کے بنیادی عقیدۂ توحید سے صریحاً متصادم ہے ۔
انہوں نے واضح کیا کہ مسلمان صرف اللہ وحدۂ لاشریک کی عبادت کرتا ہے اور اس کی ذات، صفات، حقوق واختیارات میں کسی بھی درجے کا شرک اس کے ایمان کے منافی ہے ۔ چنانچہ کسی مسلمان کو اس کے عقیدے کے خلاف کسی مذہبی مفہوم کے حامل گیت، نعرے یا عمل میں شرکت پر مجبور کرنا ناقابلِ قبول ہے ۔انہوں نے کہا کہ دستورِ ہند کی دفعہ 25ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل اور اس کی پیروی کی آزادی عطا کرتی ہے ، جبکہ دفعہ 19اظہارِ رائے کی آزادی کی ضمانت فراہم کرتی ہے ۔ ان آئینی ضمانتوں کا واضح تقاضا ہے کہ کسی شہری کو اس کے مذہبی عقیدے اور ضمیر کے خلاف کسی گیت، نعرے ، نظریے یا علامت کو اختیار کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ترجمان نے سپریم کورٹ کے معروف فیصلہ BijoeEmmanuelبنام ریاستِ کیرالہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالتِ عظمیٰ نے حتیٰ کہ قومی ترانے جن گن من کے معاملے میں بھی یہ اصول تسلیم کیا کہ اگر کسی شخص کا مذہبی عقیدہ اسے کسی مخصوص عمل میں شرکت سے روکتا ہو تو اسے محض عدمِ شرکت کی بنیاد پر سزا نہیں دی جاسکتی۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ اظہارِ رائے کی آزادی میں بعض حالات میں خاموش رہنے کا حق بھی شامل ہے اور احترام کے ساتھ عدمِ شرکت کو بے احترامی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ وطن سے محبت اور وطن کی پوجا دو الگ تصورات ہیں۔ مسلمان اپنے وطن سے محبت کو اپنے دینی و شہری فریضے کا حصہ سمجھتے ہیں، لیکن وہ وطن کو معبود یا دیوی کا درجہ نہیں دے سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ حب الوطنی کا معیار کسی مخصوص نعرے یا گیت کی ادائیگی نہیں بلکہ ملک، اس کے آئین، عوام اور ان کے حقوق کے ساتھ وفاداری ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ ایسے حساس اور تقسیم پیدا کرنے والے اقدامات کے بجائے ملک کو درپیش حقیقی مسائل-بے روزگاری، مہنگائی، غربت، تعلیم، صحت، معاشی عدمِ مساوات اور سماجی ناانصافی-کے حل پر توجہ مرکوز کرے ۔ عوام کی توجہ بنیادی مسائل سے ہٹا کر جذباتی اور مذہبی تنازعات کو ہوا دینا نہ ملک کے مفاد میں ہے اور نہ ہی جمہوریت کے ۔ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ ایک مضبوط اور متحد ہندوستان وہی ہوگا جہاں ہر شہری کو مساوی عزت، انصاف اور آزادی حاصل ہو، جہاں کسی کی حب الوطنی کو اس کے مذہبی عقیدے کے ترازو میں نہ تولا جائے اور جہاں آئین کی بالادستی، مذہبی آزادی اور شہری حقوق کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جائے ۔
شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

سی جے پی نے قومی دارالحکومت کی صورت حال کو کھلی ایمرجنسی سے تعبیر کیا
قومی

سی جے پی نے قومی دارالحکومت کی صورت حال کو کھلی ایمرجنسی سے تعبیر کیا

Awaz E Bihar•11 اکتوبر، 2026•14 ویوز
وزیر اعظم مودی نے تمل ناڈو کے لیے 13 ہزار کروڑ روپے سے زائد کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا، میٹرو کی توسیع و صنعتی ترقی پر زور
قومی

وزیر اعظم مودی نے تمل ناڈو کے لیے 13 ہزار کروڑ روپے سے زائد کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا، میٹرو کی توسیع و صنعتی ترقی پر زور

Awaz E Bihar•11 اکتوبر، 2026•7 ویوز
الیکشن کمیشن کے خلاف سی جے پی کے احتجاج پر پولیس کی سخت کارروائی، کئی رہنما حراست میں
قومی

الیکشن کمیشن کے خلاف سی جے پی کے احتجاج پر پولیس کی سخت کارروائی، کئی رہنما حراست میں

Awaz E Bihar•10 اکتوبر، 2026•16 ویوز