منگل، 13 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار

آواز ای بہار

ای پیپر
اہم خبریںقومیسیاستکھیلبہارقومیسیاستکھیلمضامینعالمی خبریںمزید
  • اہم خبریں
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • اہم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
آواز ای بہار
  • ہوم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
اردوहिन्दीEnglish

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

سبسکرائب

Email: awazebihar@gmail.com|Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
وزیر پنچایتی راج دیپک پرکاش کا آئینی بحران ختم
  1. ہوم
  2. بہار
بہار

وزیر پنچایتی راج دیپک پرکاش کا آئینی بحران ختم

Awaz E Bihar•5 اگست، 2026 کو 07:45 PM•5 ویوز•2 منٹ پڑھیں

گورنر نے ایم ایل سی نامزد کردیا ‘سپریم کورٹ کے سوالات اور اپوزیشن کے حملوں کے درمیان حکومت نے نکالا راستہ، دیویش کمار کے استعفے کے بعد خالی نشست پر نامزدگی، مارچ 2027 تک رہے گی رکنیت‘ اپندر کشواہا خوش

پٹنہ، 5 اگست (اے بی این): بہار حکومت کے وزیر پنچایتی راج دیپک پرکاش کے وزیر کے عہدے پر منڈلا رہا آئینی بحران بالآخر ختم ہو گیا۔ ریاستی گورنر نے انہیں بہار قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) کا رکن نامزد کر دیا ہے۔ راج بھون کی جانب سے جاری سرکاری نوٹیفکیشن کے بعد ان کے وزیر کے عہدے کی آئینی حیثیت پر اٹھنے والے تمام قانونی اور سیاسی سوالات ختم ہو گئے ہیں۔ نامزدگی کی خبر سامنے آتے ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنوں اور ان کے حامیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔دیپک پرکاش گزشتہ چھ ماہ سے کسی بھی ایوان کے رکن بنے بغیر وزیر کے عہدے پر فائز تھے۔ آئین کے مطابق کسی بھی وزیر کے لیے حلف لینے کے چھ ماہ کے اندر اسمبلی یا قانون ساز کونسل کا رکن بننا لازمی ہوتا ہے، ورنہ وزارت برقرار نہیں رہ سکتی۔ اسی بنیاد پر اپوزیشن مسلسل حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہی تھی اور معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے بھی ان کے وزیر رہنے کی آئینی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے ریاستی حکومت سے جواب طلب کیا تھا۔آئینی پیچیدگی کو ختم کرنے کے لیے ریاستی حکومت نے فوری قدم اٹھایا۔ قانون ساز کونسل کے رکن دیویش کمار نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جس کے بعد ریاستی کابینہ کی سفارش پر گورنر نے خالی ہونے والی نشست پر دیپک پرکاش کو قانون ساز کونسل کا رکن نامزد کر دیا۔اس نامزدگی کے ساتھ ہی حکومت نے ممکنہ آئینی بحران پر قابو پا لیا ہے اور وزیر کے عہدے سے متعلق پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال ختم ہو گئی ہے۔ تاہم، چونکہ دیپک پرکاش کو دیویش کمار کی خالی کی گئی نشست پر نامزد کیا گیا ہے، اس لیے وہ مارچ 2027 تک ہی قانون ساز کونسل کے رکن رہیں گے، جس کے بعد دوبارہ انتخاب یا نامزدگی کی ضرورت ہوگی۔
شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

گردنی باغ کے علاوہ کہیں بھی دھرنا دیا تو ہوگی قانونی کارروائی
بہار

گردنی باغ کے علاوہ کہیں بھی دھرنا دیا تو ہوگی قانونی کارروائی

Awaz E Bihar•12 اکتوبر، 2026•9 ویوز
 سمراٹ چودھری نے سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے بینک کھاتوں میں امدادی رقم منتقل کی
بہار

سمراٹ چودھری نے سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے بینک کھاتوں میں امدادی رقم منتقل کی

Awaz E Bihar•12 اکتوبر، 2026•21 ویوز
پی ایم سی ایچ میں اب ایک ساتھ 2500 بستروں پر مریضوں کا جدید طبی سہولتوں کے ساتھ علاج ہوگا: سمراٹ چودھری
بہار

پی ایم سی ایچ میں اب ایک ساتھ 2500 بستروں پر مریضوں کا جدید طبی سہولتوں کے ساتھ علاج ہوگا: سمراٹ چودھری

Awaz E Bihar•12 اکتوبر، 2026•9 ویوز