منگل، 13 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار

آواز ای بہار

ای پیپر
اہم خبریںقومیسیاستکھیلبہارقومیسیاستکھیلمضامینعالمی خبریںمزید
  • اہم خبریں
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • اہم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
آواز ای بہار
  • ہوم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
اردوहिन्दीEnglish

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

سبسکرائب

Email: awazebihar@gmail.com|Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
 80 لاکھ سے زائد سوڈانیوں کو خوراک کی ضرورت ہوگی: اقوام متحدہ
  1. ہوم
  2. عالمی خبریں
عالمی خبریں

80 لاکھ سے زائد سوڈانیوں کو خوراک کی ضرورت ہوگی: اقوام متحدہ

Awaz E Bihar•20 جنوری، 2026 کو 03:19 PM•0 ویوز•5 منٹ پڑھیں

اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں نے سوڈان میں غذائی خدمات میں پیدا ہونے والے بڑے بحران کے بارے میں خبردار کردیا ہے۔ یہ بحران جنگ، نقل مکانی اور صحت و خوراک کی خدمات میں کمی کی وجہ سے مسلسل بڑھ رہا ہے۔
زمینی حالات 2026 کے دوران صورتحال مزید بگڑنے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے ہم آہنگیِ انسانی امور (اوچا) کے مطابق 2026 میں 84 لاکھ سے زائد افراد کو غذائی امداد کی ضرورت ہوگی جن میں پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 50 لاکھ بچے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 34 لاکھ سے زائد حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین صحت کی سہولیات کی کمی اور غذائی قلت کا شکار ہوں گی۔ اوچا کی رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ سوڈان بھر میں 42 لاکھ بچے اور خواتین شدید غذائی قلت کا شکار ہوں گے جن میں پانچ سال سے کم عمر کے 8 لاکھ 24 ہزار سے زیادہ بچے انتہائی شدید غذائی قلت کا شکار ہوسکتے ہیں۔ امدادی کاموں کی نگرانی اور تشخیص کے معیاری طریقہ کار کے تحت کیے گئے 61 میں سے 31 سروے کے نتائج رواں سال کے دوران شدید غذائی قلت کے پھیلاؤ کی تصدیق کر رہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے بتایا ہے کہ ان میں سے ایک سروے نے صورتحال کے قحط کے دہانے پر پہنچنے کی بھی نشاندہی کی ہے۔ اس سروے کے مطابق کل آبادی کا تقریباً 34.2 فیصد حصہ قحط کے دہانے پر پہنچ سکتا ہے۔ سوڈان میں کردفان اور دارفور کے علاقوں میں فوجی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اقوام متحدہ نے رواں ماہ کے اوائل میں بتایا تھا کہ سڑکوں کی بندش اور رکاوٹوں کی وجہ سے کئی علاقوں میں خوراک، طبی امداد اور منڈیوں تک رسائی متاثر ہوئی ہے جن میں جنوبی کردفان کا دارالحکومت کادوقلی اور الدلنج شہر شامل ہیں۔ کئی مہینوں سے "ریپڈ سپورٹ فورسز" اور ان کی حلیف "سوڈان پیپلز لبریشن موومنٹ" نے کادوقلی اور الدلنج کا سخت محاصرہ کر رکھا ہے۔ وہ توپ خانے اور ڈرونز سے بمباری جاری رکھے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے 8 لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔ نقل مکانی کرنے والوں میں سے اکثریت کادوقلی کے جنوب مغرب میں باغی گروپ کے زیرِ کنٹرول علاقوں کی طرف چلی گئی ہے۔
مقامی رپورٹس کے مطابق منڈیوں اور فوجی مراکز پر حملوں میں 12 سے زائد افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ ہبیلا اور کرتالا کے قصبوں میں بھی عسکری کارروائیاں جاری ہیں۔ فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان زمینی جنگ میں شدت آنے کے ساتھ ساتھ شہروں اور بستیوں پر حملہ کرنے والے ڈرونز اب لڑائی میں بڑا کردار ادا کر رہے ہیں۔ رواں جنوری کے دوران العبید شہر اور اس کے گردونواح میں ڈرون حملوں کا سلسلہ دیکھا گیا۔ ان ڈرون حملوں کا الزام ایک دوسرے پر لگایا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق العبید اور گردونواح میں ان ڈرون حملوں میں بچوں اور خواتین سمیت 13 سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ شہر کی اہم تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مقامی رپورٹس کے مطابق شمالی کردفان کو تزویراتی علاقوں سے جوڑنے والے راستوں پر شدید جھڑپیں ہو رہی ہیں جس سے سپلائی لائنز اور شہریوں کی نقل و حرکت منقطع ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ خاص طور پر وہ راستہ جو مغربی سوڈان کو دارالحکومت ام درمان سے جوڑتا ہے کے منقطع ہونے کا خدشہ ہے جہاں فریقین ایک دوسرے سے علاقوں کا کنٹرول چھیننے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امدادی ادارے جنگ کے پھیلاؤ کو 2026 میں غذائی عدم تحفظ کے خدشات، صحت و پانی کی سہولیات کی تباہی اور نقل مکانی کی بڑھتی ہوئی لہر سے جوڑ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ ضرورت مندوں کی تعداد موجودہ تخمینوں سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر نئے بے گھر ہونے والوں اور محصور علاقوں میں پھنسے ہوئے لوگوں کے لیے صورتحال زیادہ سنگین ہے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ٹرک نے سوڈان میں دونوں فریقوں کی جانب سے معاشرے کی عسکریت پسندی میں اضافے کے خلاف خبردار کیا اور اس خدشے کا اظہار کیا کہ کردفان کے شہروں میں بھی الفاشر جیسا منظرنامہ دہرایا جا سکتا ہے۔ یاد رہے الفاشر میں سوڈانی عوام خوف اور جہنم جیسی زندگی گزار رہے ہیں۔
وولکر ٹرک نے پورٹ سوڈان میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جدید فوجی سازوسامان، خاص طور پر ڈرونز کے پھیلاؤ نے دونوں فریقوں کی عسکری صلاحیتوں کو بڑھا دیا ہے۔ اس صورت حال میں دشمنی طویل ہو گئی ہے اور شہریوں کا بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جنگی جرائم کے مرتکب افراد ، چاہے ان کا تعلق کسی بھی گروہ سے ہو، کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کا دفتر ان خلاف ورزیوں کی دستاویزات تیار کر رہا ہے تاکہ احتساب کی راہ ہموار کی جا سکے۔
شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

سوڈان میں سونے کی کان پر فضائی حملہ، کم از کم 72 کان کن ہلاک
عالمی خبریں

سوڈان میں سونے کی کان پر فضائی حملہ، کم از کم 72 کان کن ہلاک

Awaz E Bihar•12 اکتوبر، 2026•13 ویوز
آپریشن ’’فجر الیمن‘‘ جاری، حوثیوں کے ٹھکانوں اور اسلحہ گوداموں پر حملے جاری
عالمی خبریں

آپریشن ’’فجر الیمن‘‘ جاری، حوثیوں کے ٹھکانوں اور اسلحہ گوداموں پر حملے جاری

Awaz E Bihar•11 اکتوبر، 2026•6 ویوز
یمن میں لڑائی تیز، انسانی بحران سنگین ہونے کا خدشہ
عالمی خبریں

یمن میں لڑائی تیز، انسانی بحران سنگین ہونے کا خدشہ

Awaz E Bihar•7 اکتوبر، 2026•9 ویوز