پرویز شاہدی دبستان عظیم آباد کی شناخت کے پیکراور علمبردار تھے:پروفیسر مشتاق احمد
Awaz E Bihar••0 ویوز•7 منٹ پڑھیں
حکومت اردو کے فروغ کیلئے سنجیدہ اور سرگرم عمل : ایس ایم پر ویز عالم
اردو ڈائرکٹوریٹ کے تحت پرویز شاہدی یادگاری تقریب و بزم سخن میں دانشورانِ اردو کا اظہار خیال
پٹنہ(پریس ریلیز) پرویز شاہدی ترقی پسند شاعر اور تحریک کے سرگرم کارکن تھے۔ان کا تعلق دبستان عظیم آباد سے تھا۔ انہوں نے غزل گوئی اور نظم گوئی دونوں میں کامیاب طبع آزمائی کی ہے۔انھوں نے اپنی غزلوں میں فکر و احساس کے ساتھ انفرادیت کو قائم رکھا ہے، تونظموں میں احساسات وجذبات کو بڑی کامیابی اور فن کارانہ چابکدستی کے ساتھ نظموں کے پیرائیہ میں ڈھالا ہے۔پرویز شاہدی نے بنگالی زبان پر مہارت حاصل کی اور بنگالی زبان کے کئی شاہکاروں کو اردو جامہ پہنایا۔ وہ کمیونسٹ پارٹی کی تحریک کے ایک ستون کی حیثیت سے وابستہ رہے اور اس کی سرگرمیوں میں عملی حصہ لیتے رہے۔ نتیجے میں انہیں نظر بند ہونا پڑا اور تقریباً ڈیڑھ سال تک قیدوبند کی زندگی گزاری۔ ان خیالات اور تاثرات کا اظہاراردو کے ممتاز دانشوران نے اردو ڈائرکٹوریٹ، محکمہ کابینہ سکریٹریٹ، بہار پٹنہ کے زیر اہتمام آڈیٹوریم، فنیشور ناتھ رینو ، ہندی بھون ، نزد آکاشوانی ، چھجو باغ ،پٹنہ میں منعقد پرویز شاہدی یادگاری تقریب و بزم سخن پروگرام میں کیا۔ پروگرام کا آغاز شمع افروزی کے ذریعہ ہوا۔تقریب کی صدارت پروفیسر مشتاق احمد ، پرنسپل سی ایم کالج، دربھنگہ نےکی۔استقبالیہ و تعارفی کلمات ایس ایم پرویز عالم، ڈائرکٹر اردو ڈائرکٹوریٹ نے پیش کی۔صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے پروفیسر مشتاق احمدنےکہا کہ پرویز شاہدی دبستان عظیم آباد کی شناخت کے پیکر ہی نہیں علمبردار بھی تھے۔وہ تہذیب غزل کے پاسدار تھے۔پرویز شاہدی کی جمالیات روایتی جمالیات نہیں تھی بلکہ ان کی شاعری میں شاستری سنگیت کی جمالیات کاعنصر بھی شا مل تھا۔صدر موصوف نے کہا کہ پرویز شاہدی اردو کے پہلے شاعر ہیںجنہوں نے جو سرگم کے رند پر شاعری کی۔انہوں نے کہا کہ پرویز شاہدی کی شاعری نے ترقی پسندیت، مارکسیت اور بنگال کی صحت مند اور ترقی یافتہ فضا کو معطرکردیا۔انہوں نے کہا کہ پرویز شاہدی کی شاعری صداقت ، بغاوت، اخوت اور شکست ریخت کی وجودی فطر ت کاحسین امتزاج ملتاہے۔ انہوں نے کہا کہ پرویز شاہدی آخری وقت تک اپنی شاعری اور منفرد نظریات کی بدولت وہ لوگوںمیں نمایاں ہمیشہ نمایاں رہے۔انہوں نے کہا کہ وحشت کی لفظیات کی روشنی میں پرویز شاہدی کی شاعری کا محاسبہ کیا جانا چاہئے۔اس سے قبل استقبالیہ و تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے ایس ایم پرویز عالم ڈائرکٹر اردو ڈائرکٹور یٹ نے تمام مہمانان ومحبان اردوکا والہانہ استقبال کیا۔انہوں نے پروگرام کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بہاراردو کے فروغ کے لئے سنجیدہ او رسرگرم عمل ہے۔ڈائرکٹر موصوف نے بتایا کہ اردو ڈائرکٹوریٹ کے زیر اہتمام ”یادگاری تقریبات منصوبہ “کے تحت ہر سال اردو کے مُقتَدر شاعروں، ادیبوں، محققوںاور ناقدوں کی یادگاری تقریب کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ اس منصوبہ کے تحت کُل 22ادیبوں،شاعروں اور محققوں کی یادگاری تقریبات کے انعقاد کی منظوری حکومت بہار سے حاصل ہے۔ رواں مالی سال 2025-26 میںاردو ڈائرکٹوریٹ کے زیر اہتمام کُل12 یادگاری تقریبات کا انعقاد آپ علمی و ادبی شخصیات اور معزز سامعین کے سرگرم تعاون سے کرایا جا چکا ہے۔اُسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پرآج کی یہ تقریب پرویز شاہدی کی خدماتِ زبان و ادب کے اعتراف اور ان کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے مقصد سے منعقد کی گئی ہے۔یادگاری تقریبات کے انعقاد کا بنیادی مقصد کسی عظیم اور باوقار شخصیت کی زندگی ،ادبی خدمات اور کارناموں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ہے۔اس نوعیت کی تقریبات کے ذریعہ ہم نہ صرف مرحوم ادیبوں، شاعروں، محققوں اور ناقدوں کی علمی ،ادبی، سماجی اور قومی خدمات کو یاد کرتے ہیںبلکہ اُن کے افکار و نظریات کو بھی زندہ رکھتے ہیں تاکہ نئی نسل اُن سے رہنمائی حاصل کر سکے۔ایسی تقریبات معاشرے میں علم و ادب، شعر و سخن اور تہذیبی اقدار کے فروغ کا سبب بنتی ہے۔نئی نسل اپنے اکابرین کی علمی خدمات اور اُن کے ادبی اثاثے سے واقف ہوتی ہے اور آئندہ نسل تک منتقل کرنے کا حوصلہ پاتی ہے۔ ڈائرکٹر موصوف نے کہا کہ پرویز شاہدی کا شمار بہار کے ان چند بڑے شعرا میں ہوتا ہے، جنہیں بہار کے شعر و ادب کی آبرو کہا جاتا ہے ۔ وہ ترقی پسند شعرا میں صف اوّل کے شاعر تسلیم کئے جاتے ہیں، وہ ترقی پسند نظریات میں یقین رکھنے والے ایک ایسے شاعرہیں، جنہوں نے حاشیے پر پڑے ہوئے لوگوں کے دکھ درد کو اپنی روح میں جذب کیا اور پھر فنکارانہ حسن کے ساتھ اُسے شاعری کا روپ دے کر دنیا کے سامنے پیش کردیا۔ وہ زندگی اور فن کے باہمی رشتوں میں یقین رکھتے ہیں۔ پرویز شاہدی ایک سچے محب وطن، سیکولر نظریات اور صحت مند اقدار کے حامل شاعر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری اجتماعی شعور سے بھرپوراور سماجی انصاف سے محروم دکھی انسانیت کے دل کی آواز بن گئی۔پرویز شاہدی نے بیک وقت نظم اور غزل دونوں صنفوں کو اپنا وسیلۂ اظہار بنایا ۔ اُن کی نظمیں جس قدر خوبصورت اور مو ٔثرہیں ان کی غزلیں بھی اسی قدر فکر و فن کا نادر امتزاج ہیں۔ڈائرکٹر موصوف نے مزید کہا کہ دبستانِ ادب بہار میں پرویز شاہدی اپنے کلام کی انفرادیت، کلاسیکی اور رومانی حسن اور متوازن اشتراکی تیور کے سبب نمایاں شناخت اور معزز مقام کے حامل ہیں۔لہٰذا ان کی شاعری کے تعلق سے مخلصانہ احتساب کی ضرورت ہے۔پرویز شاہدی پر مقالہ پیش کرتے ہوئے معروف ادیب و ناقدسلطان آزاد نے پرویز شاہدی فکر و فن کے موضوع پراپنی باتیں پیش کیں۔انہوں نے کہا کہ پرویز شاہدی کی شاعری امتیازانہ خصوصیات سے مملو ہیں۔پرویز شاہدی اردو شعرا میں مخصوص لب و لہجہ کی وجہ سے منفرد پہچان رکھتے ہیں۔ ان کے کلام کی خصوصیت ان کی رومانیت ہے۔ حالاں کہ ان کی رومانی نظموں پر انقلابی مزاج کا رنگ بھی نظر آتا ہے۔ ان کے منفرد اسلوب ،پرجوش لہجہ اورانقلابیت ورومانیت نے ان کی شاعری کو خا ص جہت عطا کی ہے۔ ڈاکٹر محمد امان اللہ ،سنیئر اسسٹنٹ پروفیسر بی آر اے بہار یونیورسٹی مظفر پور نے پرویز شاہدی کی رباعیات کے حوالے سے گفتگو پیش کی۔انہوں نے کہا کہ پرویز شاہدی کی رباعیات رومانیت سے بھی لبریز ہیں۔ انہوں نے اپنی رباعیات میں عوامی مزاج اور رجحان کو پیش نظر رکھا، یہی وجہ ہے کہ عوام میں ان کے مشاعرے کی دھوم رہی۔فکری اعتبار سے مختلف النوع موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں۔انہوں نے رباعی کو نئے اسلوب سے آشنا کیا۔ رباعی کے روایتی موضوعات ، حکمت ، اخلاق و عادات کو اپنا موضوع بنایا۔وہ عصری حسیت کا ادراک رکھتے تھے۔ انہوں نے فنکارانہ چابکدستی سے ہر سلگتے ہوئے مسئلے کو شعری قالب ادا کیا۔ڈاکٹر شبنم پروین ، اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو ، ویشالی مہیلا کالج نے پرویز شاہدی پر’’رومان و انقلاب کا شاعر‘‘ کے موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ پرویز شاہدی نے اردو شاعری میں خاموش دلوں کی صدا کو لفظوں میں پیش کیا۔ ان میں تخلیقی جذبہ بدرجہ اتم موجود تھا، جس نے ان کی شاعری کو پروان چڑھایا۔پرویز شاہدی کو ان کے لطافت اظہار ، گہرائی وگیرائی اور جمالیاتی توازن نے ان کو اپنے ہم عصر شعرا میں ایک خاص مقام عطا کیا۔ان کی شاعری میں انقلاب اور رومانی احساسات کا خوشگوار امتزاج ملتا ہے۔ طلبا / طالبات کی پیش کش کےتحت محمد غلام غوث اور محمد شاہ جہاں ، بی آر اے ، بہار یونیورسٹی، مظفر پور نے پرویز شاہدی پراپنی کاوشیں پیش کیں۔اس موقع پر پرویز شاہدی کے بھانجے اشتیاق یوسف کوگلدستہ اور شال پیش کرکے عزت افزائی گئی۔ اشتیاق یوسف نے کلکتہ میں مقیم پرویز شاہدی کی بیٹی ثمینہ اور ٹورنٹو ، کناڈا میں مقیم ان کے بھانجے کا اردو ڈائرکٹوریٹ کے نام ایک پیغام پڑھ کر سنایا۔دوسرے اجلاس میں پروفیسر شاکر خلیق (دربھنگہ )کی صدارت میں اور اثر فریدی کی نظامت میں محفل سخن کا انعقاد ہوا ۔ڈاکٹر محمد آفتاب عالم اطہر ( گیا)روح الحق ہمدم (موتیہاری)، پنکج کرن (مظفر پور)، ڈاکٹر نوتن سنگھ (جموئی)،شمس تبریز(کٹیہار)اختر واصف (پٹنہ) بیت اللہ انصاری (چھپرہ )نے اپنے کلام سے سامعین کو خوب خوب محظوظ کیا۔اس موقع پر ڈائرکٹر ایس ایم پرویز عالم کی دلکش شاعری سے بھی سامعین لطف اندوز ہوئے۔یاد گاری تقریب کی نظامت محمد ہاشم نے بحسن و خوبی انجام دیا۔تقریب میں محبان اردو ، طلبا و طالبات سمیت متعدد اہم شخصیات میں پروفیسر اعجاز علی ارشد،پروفیسر توقیر عالم،ظفر صدیقی،ڈاکٹر اے کے علوی، ڈاکٹر زر نگار یاسمین، ڈاکٹر افشاں بانو،ماسٹر محمد اسیدپرسونوی، صابر سہرساوی، ڈاکٹر سرور حسین مشتاق احمد نوری، شائستہ انجم نوری، اشفاق عادل،منیر سیفی، قسیم احمد، معین گریڈیہوی، ڈاکٹر نصر اللہ نصر نستوی، اعجاز رسول، رخسانہ خاتون،اصغر حسین کامل،مصلح الدین کاظم وغیرہ موجود تھے۔ ڈائرکٹرایس ایم پرویز عالم کے تشکراتی کلمات پر تقریب کا اختتام ہوا۔