پٹنہ: مرزا اسد اللہ خاں غالب کی یومِ پیدائش پر پُروقار ادبی نشست کا انعقاد
Awaz E Bihar••1 ویوز•4 منٹ پڑھیں
پٹنہ : اردو کے عظیم اور ہمہ گیر شاعر مرزا اسد اللہ خاں غالب کی یومِ پیدائش کے موقع پر اکبر رضا جمشید اردو ادب ایوارڈ کمیٹی کے زیرِ اہتمام ایک پُروقار اور یادگار ادبی نشست منعقد ہوئی۔ یہ تقریب افضل پور میں اکبر رضا جمشید کی رہائش گاہ پر منعقد کی گئی، جس کی صدارت اردو ڈائریکٹوریٹ، حکومتِ بہار کے ڈائریکٹر ایس ایم پرویز عالم نے کی۔ محفل میں شعر و ادب سے وابستہ شخصیات، دانش وروں، صحافی اور اہلِ ذوق کی بڑی تعداد موجود تھی۔پروگرام کا آغاز کمیٹی کے کنوینر پرویز عالم کے استقبالیہ کلمات سے ہوا، جنہوں نے حاضرین کا خیر مقدم کرتے ہوئے غالب کی ہمہ گیر شخصیت اور اردو زبان و ادب میں ان کے بے مثال مقام پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر غالب کی یاد میں کیک کاٹا گیا، جس سے تقریب میں ایک خوشگوار اور یادگار فضا قائم ہوئی۔اپنے صدارتی خطاب میں ایس ایم پرویز عالم نے کہا کہ غالب محض ایک کلاسیکی شاعر نہیں بلکہ ایک آفاقی تخلیق کار تھے، جن کی شاعری میں انسانی جذبات، فکری گہرائی اور فنی ندرت کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غالب کا کلام زمان و مکان کی قیود سے ماورا ہے اور آج بھی نئی نسل کو سوچنے اور سوال کرنے کی تحریک دیتا ہے۔تقریب کے میزبان اکبر رضا جمشید نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غالب نے اردو شاعری کو فکری وسعت اور اسلوبی وقار عطا کیا، جس کی مثال ادب کی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غالب کی یاد میں ایسی محافل کا انعقاد نئی نسل کو اردو ادب سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔پروگرام کی نظامت معروف افسانہ نگار فخرالدین عارفی نے نہایت شستہ، بلیغ اور منفرد انداز میں انجام دی۔ انہوں نے دورانِ نظامت مرزا اسد اللہ خاں غالب کے معرکتہ الآرا اشعار پیش کر کے محفل کو فکری و جمالیاتی حُسن عطا کیا۔ غالب کی فنی عظمت پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غالب محض الفاظ کے شاعر نہیں بلکہ معنی کے معمار ہیں؛ ان کے یہاں فکر کی گہرائی، احساس کی لطافت اور اظہار کی ندرت اس طرح باہم پیوست ہے کہ ہر شعر ایک مستقل کائنات کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ غالب نے روایت کی پاسداری کرتے ہوئے جدت کی ایسی راہیں متعین کیں جن پر بعد کی پوری اردو شاعری نے سفر کیا۔ غالب کے اشعار قاری کو محض لطف ہی نہیں دیتے بلکہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں، اور یہی وصف انہیں اردو ادب میں ایک لازوال اور ہمہ گیر مقام عطا کرتا ہےاس موقع پر محسن رضا رضوی نے غالب کی زمین میں ایک خوبصورت منظوم خراجِ عقیدت پیش کیا، جسے سامعین نے بے حد سراہا۔ انہوں نے غالب کے فکری تنوع اور جمالیاتی شعور کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ غالب کی شاعری ہر قاری کو اپنی سطح پر مخاطب کرتی ہے۔سید اسمٰعیل حسنین نقوی نے غالب کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا کلام انسانی دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑتا ہے اور ان کے اشعار آج بھی زندگی کے مختلف پہلوؤں کی ترجمانی کرتے ہیں۔ڈاکٹر آصف سلیم نے غالب کی شخصیت، ان کے خطوط اور ان کے فکری رویّے پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غالب کی نثر بھی شاعری کی طرح ادب کا قیمتی سرمایہ ہے۔معروف صحافی ڈاکٹر انوارالہدیٰ نے اپنے تاثرات میں کہا کہ غالب اپنے منفرد اندازِ بیان، رمزیت اور فکری ندرت کے سبب اردو شاعری میں ایک منفرد اور بلند مقام رکھتے ہیں، جس تک پہنچنا ہر شاعر کے لیے آسان نہیں۔سلطان آزاد نے کہا کہ غالب کی شاعری میں عقل و جذبہ، روایت و جدت اور فکر و احساس کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ڈاکٹر اے کے علوی نے بھی غالب کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ غالب کی تخلیقات اردو ادب کا ایسا روشن باب ہیں جو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔تقریب میں معروف شاعر کاظم رضا، شاعر اشفاق عادل ڈاکٹر مظاہر الحق اور شمیم قاسمی نے بھی منظوم خراجِ عقیدت پیش کیا، جس سے محفل کا ادبی رنگ مزید نکھر گیا۔ آخر میں پرویز عالم کے ذریعہ شکریہ کے کلمات ادا کیے گئے اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ آئندہ بھی اردو ادب کے فروغ اور عظیم ادبی شخصیات کی یاد میں ایسی بامعنی تقریبات کا اہتمام کیا جاتا رہے گا۔