منگل، 13 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار

آواز ای بہار

ای پیپر
اہم خبریںقومیسیاستکھیلبہارقومیسیاستکھیلمضامینعالمی خبریںمزید
  • اہم خبریں
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • اہم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
آواز ای بہار
  • ہوم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
اردوहिन्दीEnglish

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

سبسکرائب

Email: awazebihar@gmail.com|Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
راہی معصوم رضا نے اپنی تحریروں کے ذریعے مشترکہ ہندوستانی ورثے کو زندہ کیا: گورنر
  1. ہوم
  2. بہار
بہار

راہی معصوم رضا نے اپنی تحریروں کے ذریعے مشترکہ ہندوستانی ورثے کو زندہ کیا: گورنر

Awaz E Bihar•18 ستمبر، 2026 کو 07:47 PM•26 ویوز•2 منٹ پڑھیں

پٹنہ، 18 ستمبر (اے بی این) گورنر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) سید عطا حسنین نے کہا کہ راہی معصوم رضا نے ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت کو اپنی تحریروں میں زندہ رکھا اور عام لوگوں کی زندگی، رشتوں اور تجربات کو ادب میں مؤثر انداز میں پیش کیا۔مسٹر حسنین نے جمعرات کو ڈاکٹر رضا کی صد سالہ پیدائش کی تقریبات کے موقع پر بہار میوزیم، پٹنہ میں منعقد 'پٹنہ سیمینار' سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ راہی معصوم رضا شاعر، ناول نگار اور فلمی مکالمہ نگار ہونے کے ساتھ ساتھ ہندوستان کو سمجھنے اور سمجھانے والے بہترین ادیب تھے۔ ان کے الفاظ کتابوں سے نکل کر لوگوں کی زندگی اور یادوں کا حصہ بن گئے۔گورنر نے کہا کہ ڈاکٹر رضا نے ہندوستان کو عام لوگوں کی نظر سے دیکھا اور اسے اپنی تخلیقات میں پیش کیا۔ ان کی تحریروں میں گاؤں، گھر، خاندان، دوستی اور رشتوں کی گہری تصویر نظر آتی ہے۔ 'آدھا گاؤں' میں گنگولی صرف کہانی کا پس منظر نہیں ہے بلکہ خود کہانی کا ایک اہم حصہ بن جاتا ہے۔ انہوں نے تقسیم کے درد کو بھی عام لوگوں کے رشتوں اور زندگی کے ذریعے سامنے رکھا۔مسٹر حسنین نے کہا کہ راہی معصوم رضا کی زبان عام ہندوستانی زبان تھی، جس میں ہندی، اردو، بھوجپوری اور بول چال کے الفاظ قدرتی طور پر گھلے ملے تھے۔ وہ اپنی شناخت کے مختلف حصوں کو ساتھ لے کر چلتے تھے۔ غالب اور میر کے ساتھ کبیر اور تلسی بھی ان کی مشترکہ وراثت کا حصہ تھے۔ وہ خود فخر سے 'گنگاپتر کہتے تھے۔
شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

گردنی باغ کے علاوہ کہیں بھی دھرنا دیا تو ہوگی قانونی کارروائی
بہار

گردنی باغ کے علاوہ کہیں بھی دھرنا دیا تو ہوگی قانونی کارروائی

Awaz E Bihar•12 اکتوبر، 2026•9 ویوز
 سمراٹ چودھری نے سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے بینک کھاتوں میں امدادی رقم منتقل کی
بہار

سمراٹ چودھری نے سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے بینک کھاتوں میں امدادی رقم منتقل کی

Awaz E Bihar•12 اکتوبر، 2026•21 ویوز
پی ایم سی ایچ میں اب ایک ساتھ 2500 بستروں پر مریضوں کا جدید طبی سہولتوں کے ساتھ علاج ہوگا: سمراٹ چودھری
بہار

پی ایم سی ایچ میں اب ایک ساتھ 2500 بستروں پر مریضوں کا جدید طبی سہولتوں کے ساتھ علاج ہوگا: سمراٹ چودھری

Awaz E Bihar•12 اکتوبر، 2026•9 ویوز