منگل، 13 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار

آواز ای بہار

ای پیپر
اہم خبریںقومیسیاستکھیلبہارقومیسیاستکھیلمضامینعالمی خبریںمزید
  • اہم خبریں
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • اہم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
آواز ای بہار
  • ہوم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
اردوहिन्दीEnglish

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

سبسکرائب

Email: awazebihar@gmail.com|Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
راجستھان اور ہریانہ نے پانی کے مسئلے کے حل کے لیے کیا معاہدہ
  1. ہوم
  2. قومی
قومی

راجستھان اور ہریانہ نے پانی کے مسئلے کے حل کے لیے کیا معاہدہ

Awaz E Bihar•29 جون، 2026 کو 05:15 PM•15 ویوز•4 منٹ پڑھیں

راجستھان اور ہریانہ حکومتوں نے یمنا واٹر پروجیکٹ کی تعمیر اور نفاذ کے سلسلے میں پیر کو یہاں ایک اہم معاہدے پر دستخط کیے جس سے دونوں ریاستوں میں پانی سے متعلق تین دہائی پرانا مسئلہ حل ہو جائے گا۔مرکزی وزارتِ داخلہ نے پیر کو بتایا کہ اس موقع پر مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ، راجستھان کے وزیرِ اعلیٰ بھجن لال شرما، ہریانہ کے وزیرِ اعلیٰ نائب سنگھ سینی، مرکزی وزیرِ جل شکتی سی آر پاٹل اور مرکزی حکومت و ریاستی حکومتوں کے اعلیٰ حکام موجود تھے۔ مسٹر شاہ نے کہا کہ اس معاہدے سے ہریانہ اور راجستھان کے لوگوں کا پانی سے جڑا تقریباً تین دہائی پرانا مسئلہ آج حل ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ وفاقی تعاون (کوآپریٹو فیڈرلزم) کے منتر کی ایک بہترین مثال ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ریاستیں وفاقی تعاون کی سوچ کو آگے بڑھائیں تو تین دہائی پرانے مسئلے کا بھی آسانی سے حل نکالا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت یمنا نہر سے جولائی سے اکتوبر تک تین زیرِ زمین پائپ لائنوں کے ذریعے تقریباً 580 مکعب میٹر پانی راجستھان پہنچایا جائے گا۔ ان تین پائپ لائنوں کا قطر 3.6 میٹر سے بھی زیادہ ہے جن کے ذریعے راجستھان اور ہریانہ ریاستوں کے لوگوں کے لیے پینے کے پانی کا انتظام ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ دونوں ریاستوں کے لیے فائدے کا سودا ہے۔ معاہدے میں مالی ذمہ داری، لاگت کی شراکت داری، پانی کی تقسیم اور پانی چھوڑنے کے پروٹوکول اور دیکھ بھال کا باریکی سے دھیان رکھا گیا ہے۔ اس سائنسی طور پر مکمل معاہدے میں بنیادی ڈھانچے کے آپریشن، دیکھ بھال، مانیٹرنگ کے نظام، شفافیت کے اقدامات اور تنازعات کے حل کے طریقہ کار کو بھی بہت اچھے طریقے سے شامل کیا گیا ہے۔ اس پروجیکٹ کا مقصد مغربی یمنا نہر سے زیرِ زمین پائپ لائن کے ذریعے راجستھان کو اس کے حصے کا پانی پہنچانا ہے۔ اس سے ریاست، اپر یمنا بیسن کے استعمال کے قابل سطحِ زمین کے پانی کی تقسیم پر 1994 کے معاہدے کے تحت ملے پانی کا صحیح طریقے سے استعمال کر پائے گی۔ اس پروجیکٹ سے راجستھان کے خشک اور کم بارش والے علاقوں میں پینے کے پانی کی مسلسل فراہمی ہوگی اور سماجی و اقتصادی ترقی کو فروغ ملے گا، جس سے لاکھوں لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔ یہ معاہدہ مرکزی حکومت اور معاہدے میں شامل ریاستی حکومتوں کی متحدہ کوششوں سے پروجیکٹ کو وقت پر لاگو کرنے کی بنیاد رکھنے کا کام کرے گا۔
مرکزی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ ہریانہ، راجستھان اور خاص طور پر مرکزی واٹر کمیشن نے اس معاہدے کا جو خاکہ تیار کیا ہے وہ آنے والی کئی دہائیوں تک غیر متنازع معاہدے کے طور پر قائم رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیرِ جل شکتی مسٹر پاٹل کی صدارت میں چند ہی دنوں میں اس مسئلے کا حل نکل آیا۔ اس معاہدے کے بعد راجستھان کے سیکر، چورو اور جھنجھنو کے ساتھ ساتھ ہریانہ کے بھیوانی اور فتح آباد علاقوں میں بھی پینے کا پانی پہنچانے کا انتظام ہو جائے گا۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ اس معاہدے سے راجستھان اور ہریانہ، خاص طور پر راجستھان، میں پینے کے پانی کے مسئلے کے حل میں بہت مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ جو پانی کسی کام نہیں آ رہا تھا، اس معاہدے کے بعد اب وہ پانی لوگوں کی پیاس بجھانے اور بڑے تالابوں میں جمع ہو کر زیرِ زمین پانی کی سطح (گراؤنڈ واٹر لیول) بڑھانے کے کام آئے گا۔ وزیرِ داخلہ نے کہا کہ ہریانہ، راجستھان اور جل شکتی کی وزارت نے حکومت کے وفاقی تعاون کے پیغام کو سچے معنوں میں عملی جامہ پہنایا ہے۔
شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

سی جے پی نے قومی دارالحکومت کی صورت حال کو کھلی ایمرجنسی سے تعبیر کیا
قومی

سی جے پی نے قومی دارالحکومت کی صورت حال کو کھلی ایمرجنسی سے تعبیر کیا

Awaz E Bihar•11 اکتوبر، 2026•14 ویوز
وزیر اعظم مودی نے تمل ناڈو کے لیے 13 ہزار کروڑ روپے سے زائد کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا، میٹرو کی توسیع و صنعتی ترقی پر زور
قومی

وزیر اعظم مودی نے تمل ناڈو کے لیے 13 ہزار کروڑ روپے سے زائد کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا، میٹرو کی توسیع و صنعتی ترقی پر زور

Awaz E Bihar•11 اکتوبر، 2026•8 ویوز
الیکشن کمیشن کے خلاف سی جے پی کے احتجاج پر پولیس کی سخت کارروائی، کئی رہنما حراست میں
قومی

الیکشن کمیشن کے خلاف سی جے پی کے احتجاج پر پولیس کی سخت کارروائی، کئی رہنما حراست میں

Awaz E Bihar•10 اکتوبر، 2026•16 ویوز