منگل، 13 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار

آواز ای بہار

ای پیپر
اہم خبریںقومیسیاستکھیلبہارقومیسیاستکھیلمضامینعالمی خبریںمزید
  • اہم خبریں
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • اہم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
آواز ای بہار
  • ہوم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
اردوहिन्दीEnglish

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

سبسکرائب

Email: awazebihar@gmail.com|Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
ساکشی چودھری کی جدوجہد رنگ لائی، دولتِ مشترکہ کھیلوں میں طلائی تمغہ
  1. ہوم
  2. کھیل
کھیل

ساکشی چودھری کی جدوجہد رنگ لائی، دولتِ مشترکہ کھیلوں میں طلائی تمغہ

Awaz E Bihar•2 اگست، 2026 کو 05:48 PM•22 ویوز•3 منٹ پڑھیں

ساکشی چودھری کو برسوں سے ہندوستانی باکسنگ کا مستقبل سمجھا جاتا تھا۔ 15 برس کی عمر میں جونیئر عالمی چیمپئن اور 18 سال کی عمر تک مسلسل دو یوتھ عالمی خطابات جیتنے والی بھوانی کی اس باکسر سے توقع تھی کہ وہ سینئر سطح پر بھی ملک کے لیے بڑے اعزازات جیتیں گی، لیکن بار بار کندھے کی چوٹ نے ان کے کیریئر کی رفتار روک دی۔
جب ان کی ہم عصر باکسر دولتِ مشترکہ کھیل، ایشیائی کھیل اور اولمپکس میں حصہ لے رہی تھیں، ساکشی چوٹ کے باعث ایک کے بعد ایک موقع گنواتی رہیں۔ پھر 2026 کے دولتِ مشترکہ کھیلوں کے انتخاب سے قبل انہیں ایک اور بڑے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔ 54 کلوگرام زمرے میں ایشیائی چیمپئن پریتی پوار کی مضبوط دعویداری کے باعث ساکشی نے کوچوں کے مشورے پر 51 کلوگرام زمرے میں اترنے کا فیصلہ کیا۔
وزن تبدیل کرنا صرف چند کلو کم کرنے کا نام نہیں ہوتا، بلکہ رفتار، طاقت اور برداشت کو برقرار رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ ساکشی نے یہ مشکل مرحلہ کامیابی سے طے کیا، لیکن اصل امتحان ابھی باقی تھا۔ ہندوستانی ٹیم میں جگہ بنانے کے لیے انہیں دو عالمی چیمپئن، نکہت زرین اور میناکشی ہڈا کو شکست دینا تھی۔
ساکشی نے پہلے نکہت اور پھر ٹرائلز میں میناکشی کو شکست دے کر ثابت کر دیا کہ وہ صرف سابق یوتھ چیمپئن نہیں بلکہ عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ بقول مبصرین، یہ کامیابیاں گلاسگو میں پیش آنے والے ہر مقابلے سے زیادہ مشکل تھیں۔دولتِ مشترکہ کھیلوں میں ساکشی نے غیر معمولی اعتماد کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے چاروں مقابلے متفقہ فیصلے سے جیتے۔ جنوبی افریقہ کی لیتھابو مودوکانالے، شمالی آئرلینڈ کی کیٹلن فرائرس، کینیڈا کی ایمبر جین وال اور فائنل میں انگلینڈ کی روبی وائٹ ان کے سامنے بے بس نظر آئیں۔فائنل میں بھی ساکشی نے اپنی لمبی پہنچ، درست پنچ اور بہترین حکمت عملی کی بدولت روبی وائٹ کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا اور متفقہ فیصلے سے اپنے پہلے ہی دولتِ مشترکہ کھیلوں میں طلائی تمغہ جیت لیا۔
ساکشی کی یہ کامیابی صرف گلاسگو میں چار فتوحات کا نتیجہ نہیں بلکہ برسوں کی محنت، چوٹوں سے واپسی، وزن کا زمرہ تبدیل کرنے اور عالمی چیمپئن حریفوں کو شکست دینے کی جدوجہد کا ثمر ہے۔
ہندوستانی خواتین کی باکسنگ کے لیے بھی یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ قومی سطح پر مقابلہ اس قدر سخت ہو چکا ہے کہ دولتِ مشترکہ کھیلوں کی ٹیم میں جگہ بنانے کے لیے پہلے عالمی چیمپئن باکسروں کو شکست دینا پڑتی ہے۔
اب ساکشی کی نظریں ایشیائی کھیلوں، عالمی چیمپئن شپ اور 2028 اولمپکس پر ہیں، جہاں وہ ایک سابق جونیئر اسٹار نہیں بلکہ دولتِ مشترکہ کھیلوں کی چیمپئن کی حیثیت سے اتریں گی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

ورلڈ کپ سے پہلے فیلڈنگ اور ڈیتھ اوورز میں گیندبازی بہتر کرنا ہوگی: گِل
کھیل

ورلڈ کپ سے پہلے فیلڈنگ اور ڈیتھ اوورز میں گیندبازی بہتر کرنا ہوگی: گِل

Awaz E Bihar•4 اکتوبر، 2026•7 ویوز
میں میدان پر بلے کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا چاہتا تھا: کے ایل راہل
کھیل

میں میدان پر بلے کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا چاہتا تھا: کے ایل راہل

Awaz E Bihar•4 اکتوبر، 2026•9 ویوز
ہندوستان نے ایشیائی کھیلوں کی کرکٹ کا طلائی تمغہ جیتا
کھیل

ہندوستان نے ایشیائی کھیلوں کی کرکٹ کا طلائی تمغہ جیتا

Awaz E Bihar•3 اکتوبر، 2026•7 ویوز