وزیر اعلیٰ نے محکمہ اطلاعات وتعلقات عامہ کی بہار ڈائری و کیلنڈر 2026 کا اجراء کیا
Awaz E Bihar••0 ویوز•11 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 01جنوری:(اے بی این ) وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے 01انے مارگ واقع ’سنکلپ ‘ میں بہار حکومت کے اطلاعات و رابطہ عامہ محکمہ کے ذریعہ شائع کردہ بہار ڈائری 2026 اور کیلنڈر 2026، کا اجرا کر کے ریاست کے لوگوں کے سپرد کیا۔ بہار آج اعتماد اور عزم کے ساتھ ترقی کے سفر پر گامزن ہے، جہاں ترقیاتی اسکیموں سے آگے بڑھ کر لوگوں کی زندگی کا حصہ بن گئی ہے۔ کیلنڈر 2026 میں اس تبدیلی اور ترقی یافتہ بہار کے خواب کو پورا کرنے کے اہداف کے ساتھ ریاست میں شروع کیے جانے والے عوامی فلاحی کاموں کو شامل کیا گیا ہے۔ سات نشچے3.0 ایک’’ترقی یافتہ بہار‘‘ کی بنیاد ہے،جو ہر شہری کی زندگی میں موقع، سہولت اور احترام شامل کرتا ہے۔ ’’فی کس دو گناروزگار دوگنی آمدنی ‘‘خوشحال صنعت - مضبوط بہار،زراعت میں ترقی - ریاست کی خوشحالی،اعلی تعلیم - روشن مستقبل،‘’قابل رسائی صحت - محفوظ زندگی،‘’مضبوط بنیاد - جدید توسیع‘ اور’سب کے لیے احترام‘ - زندگی کے لیے آسان سمت کا تعین۔جیسے نشچے خود اعتمادی کی سمیت طیے کر تے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ جناب نتیش کمار کی قیادت میں سرمایہ کاری، صنعت، زراعت اور کوآپریٹیو نے ترقی کا ایک نیا مثلث بنایا ہے۔ تعلیم اور ہنرمندی کی ترقی کی اسکیموں نے نوجوانوں کو عالمی مقابلے کے لیے تیار کیا ہے، جبکہ ایک کروڑروزگار پیدا کرنے کا ہدف بہار کو خود کفیل بنا رہا ہے۔ آئی ٹی پالیسی 2024، اسٹارٹ اپ بہار، اور ڈیجیٹل اسکل سینٹرز نے اختراع کو نئی تحریک دی ہے۔ ثقافت، سیاحت اور دیہی انفراسٹرکچر میں تیزی سے بہتری آئی ہے۔ جے پی گنگا پتھ، میٹرو اور ہوائی اڈے کے منصوبے رابطے اور سرمایہ کاری کی علامت بن گئے ہیں۔ جیویکا سے منسلک1.40کروڑ خواتین بااختیار بننے کی مثالیں ہیں۔ دریں اثنا، صحت کی خدمات، کھیل، اور مکھانہ صنعت نے بہار کو ایک نئی شناخت دی ہے۔ گڈ گورننس، پالیسی میں استحکام اور عوام کی شراکت مشترکہ طور پر’’ترقی یافتہ بہار‘‘ کے روشن مستقبل کے خواب کو پورا کر رہی ہے۔ بہار کیلنڈر 2026 کے جنوری کے صفحے پر،سات نشچے 3.0 - ترقی، اعتماد، اور عوامی بہبود’’ کے تحت جامع، متوازن اور پائیدار ترقی کے لیے ایک ٹھوس روڈ میپ تیار کیا گیا ہے پہلا نشچے’’دو گنا روزگار - دوہری آمدنی‘‘ بہار میں صنعتی انقلاب کو فروغ دینے کے لیے،دوسرا نشچے’’خوشحال صنعت - مضبوط بہار‘‘۔ تیسرا نشچے زراعت میں ترقی - ریاست کی خوشحالی‘‘ کے لیے ،چوتھا نشچے ’اعلیٰ تعلیم روشن مستقبل‘ دور دراز دیہی علاقوں میں بہار طبی سہولتوں کو یقینی بنانے کے لیے پانچواں نشچے’’قابل رسائی صحت - محفوظ زندگی‘‘ عام لوگوں کے لیے نئے شہر اور سستی رہائش کے انتظام کے لیے، چھٹا نشچے مضبوط بنیاد - جدید توسیع‘‘ اور بہتر زندگی کے انتظام کے لیے ، ساتواںاور آخری نشچے ’’سب کا احترام - آسان زندگی‘‘ جیسے عزائم کے ساتھ متواز اور مسلسل ترقی کا ٹھوس روڈ میپ تیار کیا گیا ہے ، یہ نشچے سماج کے ہر طبقے کے معیار زندگی کو بہتر بنائیں گے اور بہار کو نئی بلندیوں پر لے جائیں گے، تاکہ بہار ملک کی سب سے ترقی یافتہ ریاستوں کی صف میں شامل ہو جائے۔ فروری کے مہینے کے صفحہ پر صنعتی ترقی ایک نئی کہانی لکھ رہی ہے: حالیہ برسوں میں بہار میں صنعت اور تجارت میں تیزی سے ترقی ہوئی ہے۔ وزیر اعلیٰ کی قیادت میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول بنایا گیا، جس میں پہلی بار مفت زمین اور مالی مراعات شامل ہیں۔ خواتین کو روزگار سے جوڑنے کے لیے خواتین کے روزگار جیسی خصوصی اسکیمیں شروع کی گئیں۔ بکسر، بیہٹا اور مغربی چمپارن میں نئے صنعتی مراکز سے روزگار میں اضافہ ہوا ہے۔ نواں نگر (بکسر) اور بیہٹا میں جدید صنعتوں نے روزگار میں اضافہ ہواہے۔ نرکٹیاگنج شوگر مل کی بحالی اور سودھا برانڈ کی توسیع نے زراعت اور ڈیری کے شعبوں کو مضبوط کیا ہے۔ صنعت، زراعت اور کوآپریٹیو کے تال میل سے بہار اقتصادی ترقی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ مارچ کے صفحہ پر ’’تعلیم اور ہنر‘‘ کے ذریعہ تعلیم سے مضبوط،ہنر سے مالامال نوجوان بہار بنانے کی سمیت میں تعلیم اور کو ہنر کے فروغ کو بہار نے تعلیم اور ہنر کی ترقی کو مستقبل کی تعمیر کی بنیاد بنایا ہے۔‘‘ اسکولوں میں معیاری تعلیم، اسکالرشپ اسکیم اور سائیکل اسکیم نے بچوں کو تعلیم سے جوڑ دیا ہے۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں جدید نصاب اور فنی تعلیم کو فروغ دیا گیا ہے۔ بہار اسٹوڈنٹ کریڈٹ کارڈ اسکیم کے تحت 4 لاکھ تک سود سے پاک قرض کی سہولت دی گَئی ہے۔ اسکل ڈیولپمنٹ مشن کے تحت نوجوانوں کو روزگار پر مبنی تربیت فراہم کی جارہی ہے۔ آئی ٹی آئی، پولی ٹیکنک، اور ڈیجیٹل اسکل سینٹرز نے نوجوانوں کو خود انحصاری کے ساتھ بااختیار بنایا ہے۔ تعلیم اور ہنر کا یہ انضمام بہار کے نوجوانوں کو عالمی مقابلے کے لیے تیار کر رہا ہے۔ اپریل کے صفحہ پر روزگار کا مطلب کہ نتیش سرکار کے توسط سے بہار میں روزگار پیدا کرنے کو خصوصی ترجیح دی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی قیادت میں ریاستی حکومت نے پولیس، صحت، تعلیم اور دیگر انتظامی خدمات میں بڑے پیمانے پر بھرتیاں کرکے نوجوانوں کو سرکاری نوکریاں اور روزگار فراہم کیا ہے۔ اسکل ڈیولپمنٹ اور روزگار کو فروغ دینے کے لیے پری ایگزامینیشن ٹریننگ، اسکل ڈیولپمنٹ اسکیم، انٹرپرینیور اسکیم، شرمک شکتی اسکیم، اور میڈل لائو ،نوکری پائی جیسی اسکیمیں کھیلوں اور روزگار دونوں کو فروغ دینے کے لیے نافذ کی جارہی ہیں۔ ریاستی حکومت نے اگلے پانچ برسوں میں 01کروڑ نوکری اور روزگار فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ شفاف بحالی اور ہنر پر مبنی مواقع نے نوجوانوں کا اعتماد بڑھایا ہے، جس سے خود انحصار بہار کی بنیاد مضبوط ہوئی ہے۔ مئی کے مہینے کے صفحہ پر سائنس اور ٹیکنالوجی کے تحت جدت اور مستقبل کی تعمیر پر زور دیا گیاہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بہار میں تکنیکی تعلیم، اختراع اور ڈیجیٹل ترقی پر توجہ مرکوزکی جارہی ہے ۔ آئی ٹی پارکس، اسٹارٹ اپ ہب، اور ریسرچ سینٹرز نے نوجوانوں کو نئے مواقع تلاش کرنے کے مواقع فراہم کیے ہیں۔ جون مہینہ کے صفحہ پر ’’ثقافتی ورثہ، بہار کی شناخت،کے تحت بھرپور تاریخی اور ثقافتی ورثے کے ساتھ، ہندو، بدھ، جین اور صوفی روایات کے مشترکہ ورثے کے تحفظ اور ترقی دونوں پر زور دے رہا ہے۔ ویشالی میں 72 ایکڑ اراضی پر بدھ سمیک درشن میوزیم-کم-میموریل استوپ کی تعمیر نے بودھ سیاحت کو بین الاقوامی سطح پرشناخت دی ہے۔ منیر شریف درگاہ جیسے تاریخی مذہبی مقامات پر سہولیات کی توسیع نے سماجی ہم آہنگی اور ثقافتی احترام کے جزبے کو تقویت دی ہے۔ پٹنہ کا پرکاش پنج ایک جدید یادگار کے طور پر ایک نئی شناخت قائم کر رہا ہے،وہیں پنورا دھام، سیتامڑھی کی مجوزہ ترقی مذہبی سیاحت کو ایک نئی جہت دینے کے لیے تیار ہے۔ عقیدے، تاریخ اور جدیدیت کے اپنے ہم آہنگ امتزاج کے ساتھ، بہار، مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے عقیدت مندو کی مقدس سرزمین،ملک اور بیرون ملک کے سیاحوں کو مدعو کر رہا ہے۔ روایت اور جدیدیت کے سنگم سے ابھرتا ہوا بہار ہندوستان کی ثقافتی روح کی ایک متحرک علامت بنتا جا رہا ہے۔ جولائی ماہ کے صفحہ پر ''دیہی ترقی، بااختیار پنچایتیں، اور ترقی پسند بہار،کے تحت بہار کے گاؤں ترقی کے لیے ایک نئی شناخت بن رہے ہیں۔ پکی سڑکیں، ہر گھر نل کا جل، بجلی، اور زرعی اسکیموں نے دیہی زندگی میں بہتری لائی ہے۔ اس سے خواتین کو بااختیار بنانے، نوجوانوں کے روزگار اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے، جس سے ریاست خود انحصاری کی طرف بڑھ رہی ہے۔ پنچایتی راج نظام نے مقامی قیادت کو بااختیار بنایا ہے۔ ڈیجیٹل پنچایت اور گرام سبھائوں نے شفاف فیصلہ سازی کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ پنچایت کی سرکاربھون انتظامی کاموں، سرکاری اسکیموں اور خدمات کے لیے سنگل اسٹاپ حل فراہم کرتی ہیں۔ بااختیار پنچایتیں بہار کو ترقی پسند اور خود انحصاری کی طرف لے جا رہی ہیں۔ اگست ماہ کے صفحہ پر، ’’ بنیادی انفراسٹرکچر کی توسیع، خوشحالی کی نئی بنیاد‘‘ کے تحت اچھی حکمرانی اور دور اندیش قیادت کے تحت بہار نے ترقی کی نئی رفتار پکڑی ہے۔ قومی شاہراہوں، ایکسپریس وے، اور تیز رفتار راہداریوں نے ریاست کے رابطے کو مضبوط کیا ہے، جب کہ اونٹا-سمریا، کچی درگاہ-بیدو پور گنگا پل، جے پی گنگا پتھ، اور ڈبل ڈیکر فلائی اوور پٹنہ کے ٹرانسپورٹیشن سسٹم کو ہموار کر رہے ہیں، شہریوں کو سفر کا بہتر تجربہ فراہم کر رہے ہیں۔ 2027 تک پٹنہ ریاست کے کسی بھی کونے سے صرف 3:30 گھنٹے کی دوری پر ہوگا۔ یہ پروجیکٹ صرف ڈھانچے ہی نہیں بلکہ تجارت، سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع بھی ہیں۔ بہار اب ترقی کے امکانات کو محسوس کر رہا ہے۔ ستمبر کے صفحہ پر ’’خواتین کو بااختیار بنانے، آدھی آبادی، مکمل حقوق‘‘ کے نعرے کے تحت خواتین کو بااختیار بنانے کو بہار میں ترقی کا سنگ بنیاد بنایا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کی قیادت میں پالیسی اور عملی دونوں سطحوں پر خواتین کی شرکت کو تقویت ملی ہے۔ریزرویشن سے ہر شعبے میں خواتین کی شرکت میں اضافہ ہوا ہے۔ جیویکا سے منسلک ہوکر1.40 کروڑ خواتین خود کفیل بن رہی ہیں، جب کہ ’’مہیلا سمواد‘‘ ان کی آواز کو نے پالیسی سازی میں سے جوڑا ہے۔ آنگن واڑی اور آشا کارکنوں نے صحت اور غذائیت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ سائیکل،پوشاک اور لڑکیوں کو بااختیار بنانے کی اسکیموں نے نہ صرف تعلیم بلکہ سماجی مسائل جیسے کہ لڑکیوں کی نسل کشی، جنسی تناسب، جہیز کے نظام اور بچوں کی شادی پر وروک میں بھی بے مثال بہتری قائم کی ہے۔ یہ اقدامات بہار کو جامع اور پائیدار ترقی کی طرف لے جا رہے ہیں۔ اکتوبر ماہ کے صفحہ پر بہار کے خواب پورا کے تحت صحت خدمات کی توسیع اور مضبوطی نے بہار کو ایک نئی شناخت دی ہے۔ پرائمری ہیلتھ مراکز سے لے کر سپر اسپیشلٹی ہسپتالوں تک جدید سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ پٹنہ میڈیکل کالج اینڈ ہسپتال (پی ایم اسی ایچ) کو ملک کا سب سے بڑا ہسپتال کی شکل میں بنایا جا رہا ہے۔ پانچ دیگر میڈیکل کالجوں (این ایم سی ایچ پٹنہ،اے ایم سی ایچ گیا،جے ایل این ایم سی ایچ بھاگلپور،ایس کے ایم سی ایچ مظفر پور، اورڈی ایم سی ایچ دربھنگہ) کو 2,500بیڈ اورآئی جی آئی ایم ایس کو 3,000بیڈ کی صلاحیت والا بنا یا جارہا ہے۔ فروری 2021 میں شروع ہونے والے ٹیلی میڈیسن سسٹم نے گائوں میں2.5 کروڑ سے زیادہ لوگوں کو فائدہ پہنچایا ہے۔ بہتر صحت خدمات نے بہار کے لوگوں کو صحت مند زندگی کا یقین دلایا ہے۔ نومبر کے صفحہ پر کھیل محکمہ کے تحت نوجوانوں کے حوصلہ کی اڑان کے تحت گزشتہ برسوں میں بہار نے کھیلوں کے شعبہ میں مسلسل ترقی کی ہے ۔ کھیلوں کو فروغ دینے کے لیے ’’میڈل لائیں، نوکری حاصل پائیں‘‘ اور ’’مشال 2024'جیسی پہل شروع کی گئی۔ کھیلوں کے جدید انفراسٹرکچر اور کھلاڑیوں کو مواقع فراہم کرنے کی پالیسی کی بدولت ریاست اب قومی اور بین الاقوامی مقابوں کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم بن رہی ہے۔ راجگیر انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم نے بہار کو کھیلوں کے نقشے پر ایک نئی شناخت دی ہے۔ ایشین ویمنز ہاکی چیمپئنز ٹرافی، ایشین رگبی چیمپئن شپ، ہاکی ایشیا کپ، اور کھیلو انڈیا یوتھ گیمز میں ہندوستانی ٹیم کی جیت نے کھلاڑیوں کو اعلیٰ سطح کے مقابلے کا تجربہ اور ریاست کے لیے عالمی شناخت فراہم کی۔ بہتر تربیت، جدید انفراسٹرکچر اور مواقع نے بہار کے نوجوانوں کے لیے کھیلوں کو کیریئر اور شناخت کا ایک طاقتور ذریعہ بنا دیا ہے۔ کیلنڈر کا آخری صفحہ (دسمبر ماہ) پرسپر فوڈ مکھانا پر روشنی ڈالتا ہے، جو بہار کو عالمی سطح پر شناخت دلا رہا ہے۔ اس اقدام کے تحت، دنیا کا 85 فیصداگایا جانے والا بہار کے متھیلا اور سیماچل علاقوں میں اگائی جانے والی مکھانہ (فاکس نٹ یا گورگان نٹ) بھارت کا سب سے قیمتی سپر فوڈ کے طور پر ابھرا ہے۔ ملکی اور عالمی منڈیوں میں اس کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس وقت بہار کا مکھانہ امریکہ، آسٹریلیا، جاپان، انگلینڈ، کینیڈا، فرانس اور خلیجی ممالک کو برآمد کیا جا رہا ہے۔ بہار میں تقریباً5لاکہ خاندان مکھانہ معیشت سے وابستہ ہیں۔ قومی مکھانہ بورڈ کے قیام نے مکھانہ کے کسانوں کے لیے خوشحالی اور بہبود کی نئی راہیں کھول دی ہیں۔ اس سے مکھانہ کے کسانوں کو ویلیو ایڈیشن اور مارکیٹنگ میں بہت مدد ملے گی۔ آبپاشی کی بہتر سہولیات، جدید ٹیکنالوجی، اور حساس حکومتی اقدامات نے مکھانہ کی کاشت کو ایک نیا حوصلہ دیا ہے۔ بہار ڈائری اور کیلنڈر کے اجراء کے موقع پر اطلاعات اوررابطہ عامہ کے وزیر جناب وجے کمار چودھری، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سکریٹری مسٹر دیپک کمار، چیف سکریٹری مسٹر پرتیئے امرت، وزیر اعلیٰ کے سکریٹری اور محکمہ اطلاعات و رابطہ عامہ کے سکریٹری مسٹر انوپم کمار، وزیر اعلیٰ کے سکریٹری مسٹر کمار روی، چیف منسٹر کے سکریٹری ڈاکٹر چندر سنگھ ،وزیر اعلیٰ کے او ایس ڈی مسٹر گوپال سنگھ اور اطلاعات و رابطہ عامہ محکمہ کے ڈائریکٹر مسٹر انل کمار موجودتھے۔