ٹماٹر، مرچ اور لہسن کی کلسٹر پر مبنی کاشت سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا: رام کرپال
Awaz E Bihar••2 ویوز•3 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 05 جنوری (اے بی این) وزیر زراعت رام کرپال یادو نے پیر کو کہا کہ ٹماٹر، مرچ اور لہسن کی کلسٹر پر مبنی کاشت نہ صرف چھوٹے اور پسماندہ کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرے گی، بلکہ بہار کو باغبانی پر مبنی کیش کراپ کی پیداوار، بین ریاستی تجارت اور برآمدات کے ایک مضبوط مرکز کے طور پر قائم کرے گی۔ مسٹر یادو نے آج جاری بیان میں کہا کہ ریاستی حکومت کسانوں کی آمدنی کو تیزی اور پائیدار انداز میں بڑھانے کے مقصد سے باغبانی پر مبنی نقدی فصلوں (کیش کراپس) کو زرعی ترقی کی بنیاد بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹماٹر، مرچ اور لہسن جیسی زیادہ قدر والی فصلوں کی کلسٹر پر مبنی کاشت کو ترجیحی بنیادوں پر فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس کے تحت ہر پنچایت میں 15 ایکڑ رقبے پر ایک منظم کلسٹر تیار کیا جا رہا ہے۔ وزیر زراعت نے کہا کہ یہ فصلیں محض پیداوار تک محدود نہیں بلکہ براہ راست نقد آمدنی دینے والی فصلیں ہیں، جن سے کم وقت میں زیادہ منافع ممکن ہے۔ روایتی کاشت کے مقابلے باغبانی فصلوں سے کسانوں کو کئی گنا زیادہ خالص آمدنی حاصل ہوتی ہے، اسی لیے ریاستی حکومت کیش کراپس پر مبنی زرعی ماڈل کو خصوصی ترجیح دے رہی ہے۔ مسٹر یادو نے بتایا کہ یہ منصوبہ وزیر اعظم قومی زرعی ترقیاتی اسکیم کے تحت مالی سال 2025-26 میں نافذ کیا گیا ہے اور یہ رعیت اور غیر رعیت، دونوں طرح کے کسانوں کے لیے یکساں طور پر دستیاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہار کی موافق آب و ہوا، زرخیز زمین اور محنتی کسان اس منصوبے کی کامیابی کی مضبوط بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی حکومت اور وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی رہنمائی میں بہار حکومت کا واضح ہدف ہے کہ کسان صرف پیدا کرنے والے نہ رہیں بلکہ منافع بخش زراعت کے شراکت دار بنیں۔ باغبانی اور کیش کراپس اسی سمت میں سب سے موثر ذریعہ ہیں۔ وزیر زراعت نے مزید کہا کہ اس پروگرام کے تحت کسانوں کو جدید، اعلیٰ پیداوار دینے والے اور موسمیاتی لحاظ سے موافق بیج، سائنسی و تکنیکی رہنمائی، پروسیسنگ، ذخیرہ اندوزی اور مارکیٹنگ سے براہ راست ربط، نیز کسان پیداواری تنظیموں (ایف پی او) کے ذریعے منظم منڈیوں تک رسائی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ کسانوں کو اپنی پیداوار کی بہتر اور مستحکم قیمت مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ شفاف ڈی بی ٹی نظام، جیو ٹیگنگ اور باقاعدہ فیزیکل تصدیق کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ منصوبے کا فائدہ حقیقی کسانوں تک بروقت پہنچے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ ٹماٹر، مرچ اور لہسن کی کلسٹر پر مبنی کاشت نہ صرف کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرے گی بلکہ بہار کو باغبانی پر مبنی کیش کراپ پیداوار، بین ریاستی تجارت اور برآمدات کا ایک طاقتور مرکز بنانے میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گی۔ یہ پہل بہار کی زراعت کو آمدنی، خود انحصاری اور جدیدیت کی نئی بلندیوں تک لے جانے والی ثابت ہوگی۔