منگل، 13 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار

آواز ای بہار

ای پیپر
اہم خبریںقومیسیاستکھیلبہارقومیسیاستکھیلمضامینعالمی خبریںمزید
  • اہم خبریں
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • اہم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
آواز ای بہار
  • ہوم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
اردوहिन्दीEnglish

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

سبسکرائب

Email: awazebihar@gmail.com|Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
امریکا ایران کے جوہری مواد پر قبضے کے لیے خصوصی فوجی آپریشن پر غور کر رہا ہے، رپورٹ
  1. ہوم
  2. عالمی خبریں
عالمی خبریں

امریکا ایران کے جوہری مواد پر قبضے کے لیے خصوصی فوجی آپریشن پر غور کر رہا ہے، رپورٹ

Awaz E Bihar•26 جولائی، 2026 کو 03:41 PM•11 ویوز•3 منٹ پڑھیں

ایک امریکی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگر ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سفارتی کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں تو امریکا ایران کی محفوظ جوہری تنصیبات میں موجود افزودہ یورینیم کے ذخائر پر قبضہ کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر خصوصی فوجی آپریشن کے امکان پر غور کر رہا ہے۔امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی اسپیشل آپریشنز فورسز ایک ایسے ممکنہ آپریشن کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں، جسے بعض ماہرین نے عسکری اعتبار سے تاریخ کے پیچیدہ ترین مشنز میں سے ایک قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس کارروائی کے لیے ایران کے اندر وسیع لاجسٹک انتظامات اور سخت سکیورٹی تعاون درکار ہوگا۔سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے نائب ڈائریکٹر جوزف راجرز کے مطابق ایران کے موجودہ جوہری مواد کو اپنے کنٹرول میں لینے کے لیے فوجی آپشن سب سے مؤثر راستہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ سفارتی مذاکرات میں خاطر خواہ پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔
رپورٹ میں فوجی منصوبہ بندی سے واقف ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے کے تحت جوہری تنصیبات کے گرد حفاظتی حصار قائم کرنے، رکاوٹیں اور دھماکہ خیز مواد ہٹانے اور محفوظ راہداریاں بنانے کے لیے ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی درکار ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد اسپیشل فورسز کی محدود تعداد افزودہ یورینیم تک رسائی حاصل کرکے اسے ایران سے باہر منتقل کرنے کی ذمہ داری سنبھالے گی۔رپورٹ کے مطابق اس کارروائی میں امریکی بحریہ کی سیل ٹیم 6، رینجرز کی دوسری بٹالین اور خطرناک مواد و دھماکہ خیز اشیا سے نمٹنے والی 21 ویں کمپنی بھی شامل ہو سکتی ہے، جسے افزودہ یورینیم کو محفوظ طریقے سے منتقل کرنے کی ذمہ داری سونپی جا سکتی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے 2025 میں اندازہ لگایا تھا کہ ایران کے پاس 20 ہزار پاؤنڈ سے زائد افزودہ یورینیم موجود ہے۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی ایسے آپریشن کی کامیابی کے لیے جوہری تنصیبات کے گرد مضبوط حفاظتی حصار، زمینی اور فضائی انخلا کے محفوظ راستے اور ممکنہ ایرانی حملوں کا مؤثر جواب دینا ضروری ہوگا۔
امریکی قومی سلامتی کونسل میں ایران سے متعلق امور کے سابق ڈائریکٹر رچرڈ گولڈ برگ نے کہا کہ سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ امریکی افواج محفوظ انخلا مکمل ہونے تک اپنی پوزیشن برقرار رکھ سکیں۔ ان کے مطابق انٹیلی جنس اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے اصفہان کی جوہری تنصیب کے اطراف دفاعی انتظامات مزید مضبوط کر دیے ہیں، اضافی فورسز تعینات کی ہیں اور بعض مقامات پر دھماکہ خیز مواد بھی نصب کیا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے اصفہان کی تنصیب کی سرنگوں میں بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں، جبکہ نطنز کے قریب واقع جبل بیکیکس کو بھی ممکنہ ہدف قرار دیا گیا ہے، جہاں حالیہ عرصے میں سینکڑوں سینٹری فیوجز منتقل کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
رچرڈ گولڈ برگ کے مطابق اگر فضائی حملوں سے اس تنصیب کو تباہ کرنا ممکن نہ ہوا تو خصوصی فوجی کارروائی کے ذریعے اسے ناکارہ بنانے کا آپشن اختیار کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے کسی بھی آپریشن کی کامیابی کا انحصار تنصیب کے ڈیزائن اور اس کی کمزوریوں سے متعلق درست انٹیلی جنس معلومات پر ہوگا۔امریکی محکمہ دفاع اور وائٹ ہاؤس نے تاحال ایسی کسی منصوبہ بندی کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی ہے، جبکہ رپورٹ میں شامل معلومات باخبر ذرائع اور ماہرین کی آرا پر مبنی ہیں۔
شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

سوڈان میں سونے کی کان پر فضائی حملہ، کم از کم 72 کان کن ہلاک
عالمی خبریں

سوڈان میں سونے کی کان پر فضائی حملہ، کم از کم 72 کان کن ہلاک

Awaz E Bihar•12 اکتوبر، 2026•12 ویوز
آپریشن ’’فجر الیمن‘‘ جاری، حوثیوں کے ٹھکانوں اور اسلحہ گوداموں پر حملے جاری
عالمی خبریں

آپریشن ’’فجر الیمن‘‘ جاری، حوثیوں کے ٹھکانوں اور اسلحہ گوداموں پر حملے جاری

Awaz E Bihar•11 اکتوبر، 2026•6 ویوز
یمن میں لڑائی تیز، انسانی بحران سنگین ہونے کا خدشہ
عالمی خبریں

یمن میں لڑائی تیز، انسانی بحران سنگین ہونے کا خدشہ

Awaz E Bihar•7 اکتوبر، 2026•9 ویوز