بہار میں این ڈی اے قانون ساز کونسل کی تمام آٹھ سیٹوں پر جیت کے لیے جدوجہد کر رہا ہے: پرشانت کشور
Awaz E Bihar
••2 ویوز•3 منٹ پڑھیں
کشن گنج، (اے بی این) جن سُراج کے معمار اور بانکی پور کے ایم ایل اے پرشانت کشور نے پیر کے روز کہا کہ بہار قانون ساز کونسل کے انتخابات میں نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) جیت کے لیے جدوجہد کر رہا ہے اور اس کی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ مسٹر کشور نے کہا کہ این ڈی اے کے لیڈروں کی طرف سے تمام سیٹوں پر جیت کے دعوے کے باوجود انتخاب میں ان کی حالت اچھی نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نتیش کمار کے ہٹنے کے بعد این ڈی اے کی سیاسی زمین کھسک گئی ہے اور اس انتخاب سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ سمراٹ چودھری کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیے انتخاب جیتنا ممکن نہیں ہے۔ جن سراج کے لیڈر نے آج کشن گنج میں دانشوروں کے ساتھ بات چیت کے دوران کہا کہ جمہوریت میں اصل طاقت عوام کے ہاتھوں میں ہوتی ہے اور یہ طاقت کسی ایک انتخاب سے بنتی یا بگڑتی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہار میں اگلے چار سال تک این ڈی اے کی حکومت رہے گی اور تیجسوی یادو اپوزیشن لیڈر بنے رہیں گے، لیکن اگر لوگوں نے کونسل کے انتخابات میں صحیح طریقے سے ووٹنگ کی اور بی جے پی کو ہرانے کے لیے جن سراج کا ساتھ دیا، تو موجودہ نظام پر قابو پایا جا سکے گا۔ اس سے عوام کو ایک نیا متبادل ملے گا اور لیڈروں کے دلوں میں بھی خوف پیدا ہوگا۔ مسٹر کشور نے کہا کہ اب جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) اور بی جے پی الگ الگ ہیں اور ان میں تال میل کی کمی ہے، جس کا اثر آئندہ انتخابات میں دکھائی دے گا۔ جن سراج کے لیڈر نے کہا کہ بہار کی سیاست میں عوام کے پاس اپنی طاقت کا استعمال کرنے کا سنہری موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ووٹرز بی جے پی کو ہرانے کے لیے جن سراج کی حمایت کرتے ہیں، تو اس سے موجودہ سیاسی نظام پر دباؤ بنے گا اور لیڈروں کو عوام کے تئیں مزید جوابدہ ہونا پڑے گا۔مسٹر کشور نے راگھوپور کشتی حادثے میں 13 سے زائد بچوں کی موت پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دسہرہ کے موقع پر لیڈر اپنی اپنی تصویریں کھنچوا کر گھر لوٹ گئے، جبکہ متاثرہ خاندان گہرے صدمے اور غم میں ڈوبے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے انہوں نے کل راگھو پور جا کر متاثرہ خاندانوں کے ساتھ پورا دن گزارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بانکی پور کے ایم ایل اے نے کہا کہ حادثے میں 13 سے زیادہ بچوں کی موت ہوئی ہے۔ کل دسہرہ ہے اور تمام لیڈر اپنے اپنے گھروں میں تہوار منا رہے ہوں گے، لیکن جن خاندانوں نے اپنے بچوں کو کھو دیا ہے، وہ دکھ اور صدمے میں ڈوبے ہوں گے۔ ایسے وقت میں ان کے ساتھ کھڑا ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن سراج نے طے کیا ہے کہ وہ کل پورے دن متاثرہ خاندانوں کے درمیان رہیں گے اور ان کے دکھ میں شریک ہوں گے۔