بی جے پی و آر ایس ایس آج بھی دلتوں کو مساوات کا حق نہیں دینا چاہتے: کھڑگے
Awaz E Bihar
••0 ویوز•5 منٹ پڑھیں
کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے بی جے پی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کو فروغ دینے کا الزام لگاتے ہوئے اتوار کو کہا کہ آزادی کے 8 دہائیوں بعد بھی ملک میں ذات پات کا امتیاز برقرار ہے اور جب تک ملک کی بڑی آبادی کو مساوات اور اپنائیت کا حق نہیں ملے گا، تب تک قومی اتحاد کا مقصد پورا نہیں ہو سکتا۔ پٹنہ کے باپو سبھا گار میں بہار کیسری ڈاکٹر شری کرشن سنگھ کی 139ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر کھڑگے نے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس چھوا چھوت کے حامی ہیں اور وزیر اعظم نریندر مودی بھی دلتوں کی حالت میں بہتری نہیں چاہتے۔ انہوں نے اپنے ہلدوانی دورے کا ذکر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ 8 اگست 2026 کو وہاں رام لیلا میدان میں ان کی عوامی ریلی کے بعد بی جے پی اور آر ایس ایس سے وابستہ لوگوں نے اس اسٹیج کی ہون کرکے تطہیر کی تھی، جہاں ان کا پروگرام منعقد ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں پارلیمنٹ میں بی جے پی کے صدر جے پی نڈا نے افسوس کا اظہار کیا، لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اس کے برعکس راہل گاندھی کے خلاف ایف آئی آر درج کرا دی گئی۔ مسٹر کھڑگے نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم آئین کے بارے میں بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں، لیکن ذات پات کی سوچ رکھنے والوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ کانگریس صدر نے کہا کہ شری کرشن سنگھ جدید بہار میں جمہوریت کی بنیاد مضبوط کرنے والے رہنماؤں میں شامل تھے۔ انہوں نے زمینداری کا خاتمہ کرا کے اور کمزور طبقوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کرکے سماجی انصاف کا ایک نیا باب شروع کیا۔ زراعت، صنعت، تعلیم، آب پاشی اور اداروں کی ترقی میں ان کا تعاون ناقابل فراموش ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1937 میں شری کرشن سنگھ کی قیادت میں بہار میں کانگریس کی پہلی حکومت بنی تھی اور 1946 میں دوسری حکومت قائم ہوئی۔ اس وقت انگریزوں کی حکومت تھی اور وزیر اعلیٰ کو پریمیئر کہا جاتا تھا۔ آئین کے تحت 1952 میں ہونے والے پہلے اسمبلی انتخابات کے بعد سے 31 جنوری 1961 تک شری بابو بہار کے وزیر اعلیٰ رہے۔ مسٹر کھڑگے نے کہا کہ شری بابو کے دور حکومت میں زمینداری کے خاتمے، زمین کی اصلاحات سے متعلق قوانین نافذ کیے گئے۔ برونی آئل ریفائنری، کھاد کے کارخانے، حرارتی بجلی گھر اور سندھری کھاد کارخانے جیسے صنعتی منصوبوں کو فروغ ملا۔ پہلا ریل و سڑک راجندر پل بھی ان کے دور کی اہم کامیابیوں میں شامل تھا۔ ان کے دور حکومت کے کئی منصوبے آج جھارکھنڈ میں بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس دور میں بہار کا شمار ملک کی بہتر انتظام والی ریاستوں میں ہوتا تھا اور کئی غیر ملکی ماہرین اقتصادیات نے بھی اس کی تعریف کی تھی۔ کانگریس صدر نے کہا کہ شری بابو نے اپنی ہی ذات کے بااثر زمینداروں کی مخالفت کے باوجود زمینداری کے خاتمے اور زمین کی اصلاحات کے اقدامات کیے۔ انہوں نے بہار میں صنعتی ترقی کو رفتار دی، تعلیمی ادارے قائم کیے اور آب پاشی کی سہولتوں کی بنیاد رکھی۔ شری بابو نے فرقہ پرستی کی مخالفت کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ خواہ وہ ہندوؤں کی طرف سے ہو یا مسلمانوں کی طرف سے، دونوں ہی بہار کی ترقی کے لیے خطرناک ہیں۔ مسٹر کھڑگے نے شری بابو کے فرقہ پرستی مخالف موقف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کے بعد ملک کو اناج کی کمی سمیت کئی سنگین چیلنجوں کا سامنا تھا۔ اس وقت بھی آر ایس ایس اور دیگر فرقہ پرست طاقتیں فسادات بھڑکانے میں لگی ہوئی تھیں، لیکن شری بابو نے مضبوطی سے ان کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے 1950 میں کہا تھا کہ بہار میں حالیہ برسوں کے دوران غیر معمولی فرقہ وارانہ امن رہا ہے اور فاشزم جیسی سوچ رکھنے والی شدت پسند فرقہ پرستی سامنے آئی تھی۔ ہندوؤں یا مسلمانوں، کسی بھی فریق کی فرقہ پرستی نے جب سیکولر جمہوریت اور انسانی وقار کے اصولوں کو چیلنج کیا تو اسے سختی سے روکا گیا۔ کانگریس صدر نے کہا کہ شری بابو نے ذات پات کی بنیاد پر امتیاز کے خلاف مہم چلائی اور دیوگھر کے مشہور بابا بیدیہ ناتھ دھام مندر میں دلتوں اور محروم طبقوں کے لوگوں کے داخلے پر عائد پابندی ختم کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ 1953 میں سخت مخالفت کے باوجود وہ سیکڑوں لوگوں کے ساتھ مندر پہنچے اور دلتوں کو داخلہ دلایا۔ مسٹر کھڑگے نے کہا کہ آج بھی بی جے پی اور آر ایس ایس میں ذات پات کی بنیاد پر امتیاز اور آئین مخالف سوچ رکھنے والے لوگ موجود ہیں۔ انہوں نے بہار کے لوگوں اور باشعور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ چھوت چھات کی سوچ کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے آگے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سماجی بیماری کے خاتمے کے بعد ہی ملک میں امن اور ترقی کی راہ ہموار ہوگی۔ چھوت چھات ہندو سماج کے اتحاد میں بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے اور اسی وجہ سے کئی لوگ مذہب تبدیل کرتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ آر ایس ایس لوگوں کو ڈراتا ہے، لیکن چھوت چھات ختم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں نہیں کرتا۔