ٹیچرانتخابی حلقوں میں تقریباً 74.55 اور گریجویٹ میں 43.87 فیصد ووٹنگ۔ 27 اکتوبر کو ہوگی ووٹوں کی گنتی
پٹنہ، 23 اکتوبر (یو این آئی) بہار قانون ساز کونسل کی آٹھ نشستوں کے لیے جمعہ کے روز صبح آٹھ بجے سے شام چار بجے تک ہونے والی پولنگ میں ٹیچرانتخابی حلقوں میں 74.55 فیصد اور گریجویٹ انتخابی حلقوں میں 43.87 فیصد ووٹنگ درج کی گئی۔الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری شام چار بجے تک کے اعداد و شمار کے مطابق، اساتذہ کے انتخابی حلقوں میں سارن نشست پر سب سے زیادہ 87.16 فیصد، جبکہ گریجویٹ انتخابی حلقوں میں کوسی نشست پر سب سے زیادہ 52.51 فیصد ووٹنگ ہوئی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق، پولنگ پرامن طور پر مکمل ہوئی۔ تاہم، شام چار بجے تک موصول ہونے والی اطلاعات کی بنیاد پر جاری کردہ یہ اعداد و شمار عبوری ہیں اور کچھ پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹنگ جاری رہنے کی اطلاع تھی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، چار گریجویٹ انتخابی حلقوں میں پٹنہ میں 36.19 فیصد، ترہت میں 42.15 فیصد، دربھنگہ میں 42 فیصد اور کوسی میں 52.51 فیصد ووٹنگ ہوئی۔ اس طرح گریجویٹ انتخابی حلقوں میں کل ووٹنگ کا تناسب 43.87 فیصد رہا۔وہیں، چار ٹیچر انتخابی حلقوں میں پٹنہ میں 56.89 فیصد، سارن میں 87.16 فیصد، ترہت میں 78.10 فیصد اور دربھنگہ میں 79 فیصد ووٹنگ درج کی گئی۔ ان حلقوں میں کل ووٹنگ کا تناسب 74.55 فیصد رہا۔ موصولہ اعداد و شمار کے مطابق، چار اساتذہ کے انتخابی حلقوں میں مجموعی طور پر 74.55 فیصد، جبکہ چار گریجویٹ انتخابی حلقوں میں 43.87 فیصد ووٹنگ درج کی گئی۔ حلقہ وار اعداد و شمار میں اساتذہ کے زمرے میں سارن اور گریجویٹ زمرے میں کوسی سب سے آگے رہے، جبکہ پٹنہ دونوں زمروں میں سب سے پیچھے رہا۔ انتخابی نتائج کا اعلان 27 اکتوبر کو ووٹوں کی گنتی کے بعد کیا جائے گا۔ گریجویٹ کوٹے کی چار نشستوں میں کوسی انتخابی حلقے نے سب سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جہاں 52.51 فیصد ووٹنگ درج کی گئی۔ ترہت میں 42.15 فیصد، دربھنگہ میں 42 فیصد اور پٹنہ میں محض 36.19 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ اس طرح گریجویٹ حلقوں میں پٹنہ سب سے پیچھے رہا۔انتخابی اعداد و شمار سے واضح ہے کہ اساتذہ کے انتخابی حلقوں میں ووٹروں نے گریجویٹ حلقوں کے مقابلے میں زیادہ جوش و خروش دکھایا۔ تاہم، شام چار بجے تک قطار میں کھڑے ووٹروں کو قواعد کے مطابق ووٹ ڈالنے کا موقع دیا جانا تھا، اس لیے حتمی اعداد و شمار میں معمولی تبدیلی کا امکان ظاہر کیا گیا۔ بہار قانون ساز کونسل کی ان آٹھ نشستوں کے لیے مجموعی طور پر 150 امیدوار انتخابی میدان میں ہیں۔ ان میں گریجویٹ حلقوں سے 90 اور اساتذہ کے حلقوں سے 60 امیدوار شامل ہیں۔ ووٹنگ کے لیے ریاست بھر میں 933 پولنگ مراکز قائم کیے گئے تھے، جن میں 598 گریجویٹ حلقوں اور 335 اساتذہ کے حلقوں کے لیے مختص تھے۔ووٹنگ جمعہ کی صبح آٹھ بجے شروع ہوئی اور مقررہ وقت کے مطابق شام چار بجے تک جاری رہی۔ انتخابی عمل کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے درمیان مقابلہ رہا۔ حکمراں این ڈی اے، اپوزیشن عظیم اتحاد اور پرشانت کشور کی جن سوراج پارٹی نے انتخابی میدان میں اپنے امیدوار اتارے تھے۔ بعض حلقوں میں اتحادی جماعتوں کے امیدوار بھی ایک دوسرے کے خلاف مقابلہ کر رہے تھے، جس سے انتخابی مقابلہ مزید دلچسپ ہوگیا۔ پٹنہ گریجویٹ انتخابی حلقہ انتخابی سرگرمیوں کے لحاظ سے خاص توجہ کا مرکز رہا۔ اس نشست پر جے ڈی یو کے نیرج کمار سمیت مختلف جماعتوں کے امیدوار میدان میں ہیں۔ کوسی گریجویٹ حلقے میں بی جے پی کے این کے یادو بھی انتخابی مقابلے میں شامل ہیں۔ دوسری جانب، اساتذہ کے حلقوں میں بھی مختلف سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا۔اب تمام امیدواروں کی نظریں 27 اکتوبر کو ہونے والی ووٹوں کی گنتی پر مرکوز ہیں۔ اسی دن واضح ہوگا کہ بہار قانون ساز کونسل کی ان آٹھ نشستوں پر کس جماعت اور امیدوار کو کامیابی حاصل ہوتی ہے۔