ہمیں ماریں، دھمکائیں یا ڈرانے کی کوشش کریں، ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے: راہل گاندھی
Awaz E Bihar
••19 ویوز•3 منٹ پڑھیں
جب تک آئین کی حفاظت، چیف الیکشن کمشنر کا استعفیٰ، انتخابی نظام میں اصلاحات اور ملک کے لوگوں کو انصاف نہیں مل جاتا، تحریک جاری رہے گی۔
کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ووٹ چوری اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف عوامی تحریک جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک چیف الیکشن کمشنر استعفیٰ نہیں دیتے اور انتخابی نظام میں اصلاحات نہیں ہو جاتیں، تب تک نوجوان پیچھے نہیں ہٹیں گے اور یہ عوامی تحریک جاری رہے گی۔مسٹر گاندھی نے پیر کے روز یہاں ایک خصوصی پریس کانفرنس میں یہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ دہلی کو چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور لوگوں کو دارالحکومت پہنچنے سے روکا جا رہا ہے، مظاہرین کو پیٹا جا رہا ہے اور اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت گیانیش کمار کو بچا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس اہلکار بھی موجودہ حالات سے پریشان ہیں اور ان میں سے کئی اپوزیشن کی تحریک کو درست مانتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سچائی ان کے ساتھ ہے اور وہ نہ تھکیں گے، نہ رکیں گے اور لڑتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس، آئی ٹی بی پی، سی آر پی ایف، عوام اور اپوزیشن جماعتیں ایک طرف ہیں، جبکہ دوسری طرف وزیراعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووبھال اور گیانیش کمار ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی سے وابستہ افراد خواتین اور نوجوانوں کے خلاف تشدد کر کے مظاہرین کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مودی حکومت کے تقریباً 200 افسران ان کے رابطے میں ہیں اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)، مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) اور وزارتِ خارجہ کے اندر سے انہیں معلومات مسلسل مل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ووٹروں کے حقوق چھینے جانے پر لوگ سوال پوچھ رہے ہیں۔ مسٹر گاندھی نے بتایا کہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے اور انہوں نے جمہوریت اور انتخابات کی شفافیت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہندوستان کے چیف جسٹس کو خط لکھا تھا۔ چیف جسٹس نے جواب دیتے ہوئے عرضی دائر کرنے کو کہا ہے۔ 'انڈیا اتحاد کے رہنما اب مل کر سپریم کورٹ جا کر عرضی دائر کریں گے۔ عوام سے اس عوامی تحریک میں شامل ہونے کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئین کے تحفظ پر یقین رکھنے والی تمام جماعتوں کے لوگ اس لڑائی میں شامل ہوں گے۔ جب تک آئین کی حفاظت، چیف الیکشن کمشنر کا استعفیٰ، انتخابی نظام میں اصلاحات اور ملک کے لوگوں کو انصاف نہیں مل جاتا، تحریک جاری رہے گی۔ کانگریس رہنما نے کہا کہ پہلے دن اپوزیشن رہنماؤں کو الیکشن کمیشن جاتے ہوئے روکا گیا اور بس میں بٹھایا گیا، دوسرے دن جنتر منتر جاتے ہوئے بھی انہیں روکا گیا اور دھکا مکی ہوئی ، جبکہ تیسرے دن اپوزیشن رہنماؤں نے راج گھاٹ پر احتجاج کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب اپوزیشن سپریم کورٹ جا رہی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے ہر دن جمہوریت اور آئین کے تحفظ کی لڑائی جاری رکھنے، کسی سے ڈرے بغیر تحریک سے پیچھے نہ ہٹنے کی اپیل کی اور کہا کہ یہ تحریک بھگوان شیو کے تا نڈو اور شیو کی بارات کی طرح عوامی فلاح کے لیے ہے، اس میں کچھ بھی پہلے سے طے شدہ نہیں ہوتا اور اس میں کوئی بھی شامل ہو سکتا ہے۔