ہفتہ، 24 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آوازِ بہار

آوازِ بہار

ای پیپر
اہم خبریںقومیسیاستکھیلبہارقومیسیاستکھیلمضامینعالمی خبریںمزید
  • اہم خبریں
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • اہم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
آوازِ بہار
  • ہوم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
اردوहिन्दीEnglish

آوازِ بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

سبسکرائب

Email: awazebihar@gmail.com|Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
اننت سنگھ و نیلم دیوی کی اسمبلی رکنیت ختم کرنے کی سفارش
  1. ہوم
  2. بہار
بہار

اننت سنگھ و نیلم دیوی کی اسمبلی رکنیت ختم کرنے کی سفارش

Awaz E Bihar
•24 اکتوبر، 2026 کو 07:34 PM•2 ویوز•5 منٹ پڑھیں

پٹنہ، 24 اکتوبر (اے بی این) جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) نے پارٹی کے سرکاری امیدوار کے خلاف کھل کر محاذ کھولنے اور جن سوراج پارٹی کے امیدوار کی حمایت میں انتخابی مہم چلانے کے معاملے میں سخت قدم اٹھاتے ہوئے موکاما کے رکن اسمبلی اننت کمار سنگھ اور سابق رکن اسمبلی نیلم دیوی کو 6 سال کے لیے پارٹی سے نکال دیا ہے۔ پارٹی نے اننت سنگھ کی بنیادی رکنیت فوری اثر سے ختم کرنے کے ساتھ ہی ان کی اسمبلی کی رکنیت منسوخ کرنے کے لیے بھی بہار اسمبلی کے اسپیکر سے آئین کے دسویں شیڈول کے تحت کارروائی کی سفارش کی ہے۔
جے ڈی یو کے ریاستی صدر امیش سنگھ کشواہا کی جانب سے جاری دفتری حکم میں دونوں رہنماؤں پر پارٹی مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہنے اور تنظیم کی ہدایات کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ حکم میں اننت سنگھ پر پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے خلاف غیر مہذب زبان استعمال کرنے اور قانون ساز کونسل کے انتخابات میں جے ڈی یو کے امیدوار کے خلاف کام کرتے ہوئے دوسری پارٹی کے امیدوار کی حمایت میں انتخابی مہم چلانے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔
اننت سنگھ اور جے ڈی یو کے قانون ساز کونسل کے امیدوار نیرج کمار کے درمیان تنازع کی جڑ پرانی سیاسی رنجش بتائی جاتی ہے۔ مسٹر سنگھ کا الزام ہے کہ موکاما اسمبلی انتخابات کے دوران، جب وہ جے ڈی یو میں تھے اور نتیش کمار کی حکومت کی حمایت کر رہے تھے، تب نیرج کمار نے ان کے خلاف انتخابی مہم چلائی تھی۔ اننت سنگھ نے اس معاملے میں پارٹی قیادت سے شکایت کرنے کی بات بھی کہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت نیرج کمار کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
اس کے علاوہ پٹنہ گریجویٹ انتخابی حلقے سے جے ڈی یو نے اپنے قانون ساز کونسل کے رکن اور پارٹی کے چیف ترجمان نیرج کمار کو دوبارہ امیدوار بنایا۔ دوسری جانب جن سوراج پارٹی نے ڈاکٹر انوج سنگھ کو میدان میں اتارا۔ نیرج کمار سے ناراض اننت سنگھ نے جے ڈی یو کے امیدوار کی حمایت کرنے کے بجائے جن سوراج کے امیدوار کی حمایت میں انتخابی مہم چلانے کا فیصلہ کیا۔یکم اکتوبر کو اننت سنگھ جن سوراج کے امیدوار ڈاکٹر انوج سنگھ کے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کے موقع پر ان کی حمایت میں پہنچے اور ان کے حق میں انتخابی مہم چلانے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد انہوں نے مختلف علاقوں میں عوام سے رابطہ مہم چلائی اور روڈ شو کیے۔مسٹر سنگھ نے انتخابی مہم کے دوران جے ڈی یو کے امیدوار نیرج کمار پر سخت حملے کیے اور ووٹروں سے انہیں شکست دینے کی اپیل کی۔ اس سے پارٹی کے اندر تنازع مزید گہرا ہو گیا۔اننت سنگھ کا موقف صرف نیرج کمار کی حمایت نہ کرنے تک محدود نہیں رہا۔ انہوں نے کھل کر ان کے خلاف انتخابی مہم چلائی اور جن سوراج کے امیدوار کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔ جے ڈی یو کی قیادت نے اسے ذاتی ناراضگی سے آگے بڑھ کر پارٹی نظم و ضبط اور سرکاری امیدوار کے خلاف سرگرمی کا معاملہ قرار دیا۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان تنازع بڑھنے کے بعد جے ڈی یو کے سینئر رہنما اور مرکزی وزیر راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے اننت سنگھ کو منانے کی کوشش کی۔ سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے بات چیت کے بعد للن سنگھ نے اننت سنگھ سے رابطہ کیا اور انہیں پارٹی کے امیدوار کے خلاف عوامی بیان بازی اور انتخابی مہم سے دور رہنے کے لیے سمجھایا۔
5 اکتوبر کو للن سنگھ نے عوامی طور پر کہا کہ ان کی اننت سنگھ سے بات ہو گئی ہے اور وہ جے ڈی یو کے امیدوار نیرج کمار کے خلاف بیان نہیں دیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اننت سنگھ جے ڈی یو میں تھے، ہیں اور رہیں گے۔ تاہم، اس بات چیت کے باوجود اننت سنگھ نے نیرج کمار کے حق میں انتخابی مہم چلانے سے انکار کر دیا۔ بعد کے دنوں میں اننت سنگھ نے جن سوراج کے امیدوار کی حمایت میں دوبارہ انتخابی مہم چلائی۔ اس سے واضح ہو گیا کہ للن سنگھ کی ثالثی کے باوجود دونوں رہنماؤں کے درمیان تنازع حل نہیں ہو سکا۔اس کے بعد ووٹنگ کے دن، 23 اکتوبر کو، للن سنگھ کے بارے میں اننت سنگھ کا ایک اور تبصرہ موضوعِ بحث رہا۔ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق، انہوں نے کہا کہ بہار میں 100 للن سنگھ ہیں، میں نہیں جانتا۔ اس تبصرے کو پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ ان کے بڑھتے ہوئے ٹکراؤ کے طور پر دیکھا گیا۔اس پورے معاملے میں نیرج کمار اور اننت سنگھ کے درمیان پرانی سیاسی رقابت، سرکاری امیدوار کے خلاف کھل کر انتخابی مہم چلانا اور پارٹی قیادت کی سمجھانے کی کوشش کے باوجود اپنا موقف نہ بدلنا، پارٹی سے نکالے جانے کی کارروائی کی اہم وجوہات بنیں۔جے ڈی یو نے اننت سنگھ کی بنیادی رکنیت ختم کرنے کے ساتھ بہار اسمبلی کے اسپیکر سے ان کی اسمبلی کی رکنیت منسوخ کرنے کی سفارش کی ہے۔ پارٹی نے اس کے لیے آئین کے دسویں شیڈول کا حوالہ دیا ہے۔ تاہم، اسمبلی کی رکنیت کے بارے میں آخری فیصلہ متعلقہ آئینی طریقۂ کار کے تحت اسمبلی کے اسپیکر کو کرنا ہوگا۔ پارٹی سے نکالنا اور اسمبلی کی رکنیت ختم ہونا دو الگ الگ کارروائیاں ہیں۔اننت سنگھ کی اہلیہ نیلم دیوی کو بھی پارٹی مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہنے کے الزام میں 6 سال کے لیے پارٹی سے نکال دیا گیا ہے۔ پارٹی کے حکم کے مطابق، ان کی بنیادی رکنیت بھی فوری اثر سے ختم کر دی گئی ہے۔

شیئر کریں:

Awaz E Bihar

تجربہ کار صحافی اور مصنف

متعلقہ خبریں

بہار میں صنعتی انقلاب کی نئی دستک، روزگار کے افق روشن کرنے کا عزم: سمراٹ چودھری
بہار

بہار میں صنعتی انقلاب کی نئی دستک، روزگار کے افق روشن کرنے کا عزم: سمراٹ چودھری

Awaz E Bihar•24 اکتوبر، 2026•3 ویوز
سیوان میں پٹاخے بنانے کے دوران خطرناک دھماکا، 7 افراد کی موت لاشوں کے ٹکڑے دور تک بکھر گئے
بہار

سیوان میں پٹاخے بنانے کے دوران خطرناک دھماکا، 7 افراد کی موت لاشوں کے ٹکڑے دور تک بکھر گئے

Awaz E Bihar•23 اکتوبر، 2026•8 ویوز
 قانون ساز کونسل کی آٹھ نشستوں پر پولنگ مکمل
بہار

قانون ساز کونسل کی آٹھ نشستوں پر پولنگ مکمل

Awaz E Bihar•23 اکتوبر، 2026•6 ویوز