چھپرہ میں 20 ہزار کتابوں سے تیار ہوا منفرد پوجا پنڈال، موبائل کی لت چھوڑنے اور علم سے رشتہ جوڑنے کا پیغام
Awaz E Bihar
••1 ویوز•3 منٹ پڑھیں
چھپرہ: کتابوں سے بڑھتی دوری اور موبائل کی دنیا میں سمٹتی زندگی کے درمیان بہار کے چھپرہ شہر میں ایک منفرد پوجا پنڈال لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ شہر کے اندر اندرا نگر میں واقع مہاویر پوجا سیوا سمیتی نے تقریباً 20 ہزار کتابوں سے پنڈال تیار کرکے نہ صرف اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے، بلکہ نئی نسل کو کتابوں، تعلیم اور حقیقی زندگی کی اہمیت سمجھانے کی ایک قابلِ ذکر کوشش بھی کی ہے۔اس پنڈال کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں مذہبی عقیدت کے ساتھ تعلیم، جدید ٹیکنالوجی اور سماجی بیداری کو بھی نمایاں جگہ دی گئی ہے۔ پنڈال کے ذریعے یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ موبائل اور مصنوعی ذہانت کے اس دور میں بھی کتابوں کی اہمیت کم نہیں ہوئی ہے۔ پنڈال میں قدیم گروکل نظامِ تعلیم سے لے کر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے جدید دور تک کے سفر کو فنکارانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ پنسل، بال پوائنٹ قلم اور تعلیم میں استعمال ہونے والی مختلف اشیا کو بھی سجاوٹ کا حصہ بنایا گیا ہے۔ ہزاروں کتابوں سے تیار اس منفرد ڈھانچے کو دیکھنے کے لیے لوگ پہنچ رہے ہیں۔ یہ تصور اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ ٹیکنالوجی کتنی ہی ترقی کیوں نہ کرلے، علم حاصل کرنے، غوروفکر کی صلاحیت بڑھانے اور شخصیت کی تعمیر میں کتابوں کا کردار ہمیشہ اہم رہے گا۔ کتابیں صرف امتحان پاس کرنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ انسان کو سوچنے، سمجھنے اور زندگی کے مسائل کا سامنا کرنے کا شعور بھی دیتی ہیں۔ پنڈال کا ایک اہم پیغام موبائل کے بڑھتے ہوئے غیر ضروری استعمال سے متعلق ہے۔ آج بچوں اور نوجوانوں کا ایک بڑا حصہ موبائل اور سوشل میڈیا پر طویل وقت گزارتا ہے، جس سے پڑھائی، نیند، روزمرہ معمولات اور خاندانی تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔سمیتی نے اس مسئلے کو مختلف فنکارانہ انداز میں پیش کرتے ہوئے لوگوں کو اپنی عادتوں پر غور کرنے کی دعوت دی ہے۔ پیغام واضح ہے کہ موبائل کو علم حاصل کرنے، نئی معلومات جاننے اور صلاحیتیں بڑھانے کے لیے استعمال کیا جائے، نہ کہ اس قدر کہ زندگی کے دوسرے اہم پہلو نظرانداز ہوجائیں۔مہاویر پوجا سیوا سمیتی کی یہ پہل مذہبی روایت کو سماجی شعور سے جوڑنے کی کوشش ہے۔ تقریباً 20 ہزار کتابوں سے تیار پنڈال جہاں لوگوں کے لیے کشش کا مرکز ہے، وہیں پڑھنے کی عادت کو فروغ دینے اور نئی نسل کو علم سے قریب لانے کا پیغام بھی دے رہا ہے۔اس منفرد تصور کا بنیادی سبق یہی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ ضرور اٹھائیں، لیکن کتابوں، خاندان اور حقیقی زندگی سے اپنا تعلق کمزور نہ ہونے دیں۔ کیونکہ آج کی مثبت عادتیں ہی آنے والے کل کی بنیاد بنتی ہیں