کرناٹک: مندر کی دیوار پر مسجد اور صلیب کی تصاویر سے تنازع، پولیس نے مقدمہ درج کیا
Awaz E Bihar
••3 ویوز•2 منٹ پڑھیں
میسور: کرناٹک کے ضلع میسورو کے گاؤں اڈاتور میں واقع اراکیشورا مندر کی احاطے کی دیوار پر مسجد اور صلیب کی تصاویر بنائے جانے کے معاملے نے تنازع کھڑا کردیا ہے۔ احتجاج کے بعد مقامی انتظامیہ نے ان تصاویر کو ہٹوا دیا، جبکہ پولیس نے مندر کی انتظامی ذمہ دار آرتی اور تصاویر بنانے والے فن کار ونے کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔ یہ واقعہ کے آر نگر تعلقہ میں پیش آیا، جہاں مقامی نوجوانوں نے مندر کے احاطے میں مذہبی علامتوں کی عکاسی پر اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان تصاویر سے عقیدت مندوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ شکایات موصول ہونے کے بعد تحصیلدار سریندر مورتی نے مندر کا دورہ کرکے موقع کا معائنہ کیا۔ اس کے بعد انتظامیہ نے تصاویر ہٹانے کا حکم دیا۔ پولیس نے مندر کے انتظامی امور کی ذمہ دار آرتی اور تصاویر بنانے والے فن کار ونے کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ مندر کے احاطے میں کسی ناخوش گوار واقعے کی روک تھام کے لیے احتیاطی اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔ اس واقعے پر سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ کرناٹک بی جے پی کے صدر وجیندر یدی یورپا نے کانگریس حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے معاملے کی جامع تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ وجیندر نے اس واقعے کے حوالے سے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ تمام مذاہب کے ساتھ یکساں احترام اور مذہبی ہم آہنگی کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف تصاویر ہٹادینا کافی نہیں ہے، بلکہ اس معاملے میں ذمہ داری بھی طے کی جانی چاہیے۔ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف آر اشوکا نے بھی سوال اٹھایا کہ ان تصاویر کی اجازت کس نے دی تھی۔ انہوں نے ریاستی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا کسی مسجد یا چرچ کے اندر اسی طرح ہندو مذہبی علامتوں کی تصاویر بنانے کی اجازت دی جائے گی؟