منگل، 13 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار

آواز ای بہار

ای پیپر
اہم خبریںقومیسیاستکھیلبہارقومیسیاستکھیلمضامینعالمی خبریںمزید
  • اہم خبریں
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • اہم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
آواز ای بہار
  • ہوم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
اردوहिन्दीEnglish

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

سبسکرائب

Email: awazebihar@gmail.com|Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
 زیورات کی دکانوں میں حجاب پر پابندی
  1. ہوم
  2. بہار
بہار

زیورات کی دکانوں میں حجاب پر پابندی

Awaz E Bihar•7 جنوری، 2026 کو 07:36 PM•3 ویوز•6 منٹ پڑھیں

پٹنہ:(اے بی این ) بہار میں زیورات کی دکانوں میں چہرہ ڈھانپ کر آنے والے گاہکوں کے داخلے پر پابندی کے فیصلے کے بعد ریاست کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔ اس فیصلے کے تحت حجاب، برقع، نقاب، گھونگھٹ، ماسک اور ہیلمٹ پہن کر آنے والے افراد کو زیورات کی دکانوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ رپورٹ کے مطابق، یہ فیصلہ آل انڈیا جیولرز گولڈسمتھ فیڈریشن کی بہار اکائی نے دکانوں میں بڑھتی چوری اور لوٹ کی وارداتوں کے پیش نظر کیا ہے۔فیڈریشن کے مطابق حالیہ مہینوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث زیورات کی دکانیں جرائم پیشہ عناصر کے نشانے پر آ گئی ہیں۔ اسی سکیورٹی تشویش کو مدنظر رکھتے ہوئے دکانداروں نے یہ طے کیا کہ چہرہ ڈھانپ کر آنے والے کسی بھی فرد کو دکان میں داخل ہونے سے پہلے اپنا چہرہ ظاہر کرنا ہوگا۔
اس فیصلے کی اطلاع مقامی پولیس انتظامیہ کو بھی دے دی گئی ہے اور پٹنہ سمیت کئی شہروں میں دکانوں کے باہر اس حوالے سے نوٹس آویزاں کر دیے گئے ہیں۔اس فیصلے پر سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ راشٹریہ جنتا دل نے اس فیصلے کی سخت مخالفت کی ہے۔ آر جے ڈی کے ریاستی ترجمان اعجاز احمد نے کہا کہ سکیورٹی کے نام پر حجاب اور نقاب کو نشانہ بنانا ہندوستانی آئین اور آئینی روایات کے سراسر خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق پر حملہ ہے اور اس سے ایک خاص مذہبی شناخت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایسے اقدامات کے پیچھے فرقہ وارانہ ایجنڈا کارفرما ہے اور زیورات کے دکانداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس فیصلے کو واپس لیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس اقدام کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کسی مذہب یا طبقے کے خلاف نہیں بلکہ خالصتاً سکیورٹی سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ بی جے پی کے ریاستی ترجمان نیرج کمار کے مطابق زیورات کی دکانوں میں چہرہ ڈھانپ کر داخل ہونے سے جرائم کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، اس لیے یہ قدم عوام اور دکانداروں دونوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے اپوزیشن سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ نہ دے۔
جیولری دکانوں پر نقاب پہننے پر پابندی پر عائد کیے جانے کےبعد مسلم تنظیموں نے بھی صاف طور پر اعلان کردیا کہ نقاب نہیں تو خریداری نہیں ۔ جماعت اسلامی ہند نے صرافہ تاجروں کو دو ٹوک جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر حجاب پہننے والی مسلم خواتین کو خریداری سے روکا جاتا ہے تو وہ سونا چاندی یا دیگر زیورات نہیں خریدیں گی۔جماعت اسلامی ہند کے ریاستی صدر مولانا رضوان اصلاحی نے آل انڈیا جیولرس اینڈ گولڈ سمیتی کے فیصلے پر یہ باتیں صاف طور پر کہیں ہیں۔
انہوں نے کہ کہ تاجر کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے تاجر بغیر چہرہ ڈھکے خریداری کی درخواست کرسکتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جہاں تک حجاب کا تعلق ہے اسلام خواتین سے پردے کا تقاضہ کرتا ہے مسلم خواتین اس پر کاربند رہیں اگر حجاب پپنے والی خواتین کو خریداری سے روکا جائے تو خریداری نہیں کریں گی اپنی مذہبی اقدار سے کوئی سمجھوتہ نہیں جائے گا۔
معاون ناظمِ امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ مولانا احمد حسین قاسمی نے کہا کہ ہمیں آئین نےمذہبی آزادی دی ہے جس کے تحت ہم کیا کھائیں کیا پہنیں اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہو نا چاہیے انہوں نے صاف طور پر کہا کہ نقاب پہنچا یہ اسلام کا حصہ ہے جس فیڈریشن نے اس طرح کی پابندی عائد کی اسے دوبارہ اپنے فیصلے پر غور کرنا چاہیے۔ناظم امارت شرعیہ مفتی سعید الرحمان قاسمی نے کہا کہ ہم اس کا جائزہ لے کر اپنا بیان جاری کریں گے۔
اشوک ورما کا کہنا ہے کہ یوپی اور جودھ پور کے تاجر بھی ضلع سطح پر یہ قانون پہلے ہی نافذ کر چکےہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مرد یا خواتین جیولری دکان یا شو روم میں اپنا چہرہ ڈھانک کر آئیں گے تو تاجر ان سے اس سے ہٹانے کی درخواست کیا جائے گا ۔ اس کا مقصد تاجروں کی جان مال کی حفاظت کرنا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں برقعہ اور حجاب پہننے کچھ جرائم پیشوں نے ممبئی میں جیولری دکان میں لوپ پاٹ کی تھی ۔ کئی دیگر مقامات پر بھی نقاب پوش بدمعامش جیولری شاپ لوٹ چکے ہیں۔ چہرا کھلا ہو تو صارفین کی پہچان آسان ہو جاتی ہے ۔ چہرہ ڈھکا ہوتا ہے تو ان کی پہچان سی سی ٹی وی کیمروں سے بھی نہیں ہو پاتی ہے اسی کے لئے اسی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے ۔
ایم ایل سی خالد انور نے کہا کہ ایسے لوگوں کو فوری طور پر معافی مانگنا چاہیے ان کو نقاب اور ماسک میں فرق نہیں ہے تو ایسوسی ایشن کے صدر کے اس طرح کے عمل کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کئی ایسوسی ایشن ہیں جو اس کے خلاف ہیں اسلئے انہیں فوری طور پر معافی مانگنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بزنس میں اسطرح کا عمل نہیں ہونا چاہیے انہوں نے آل انڈیا ایسوسی ایشن سے بھی کہا کہ اس طرح کے لوگوں کو جو سماج میں نفرت بانٹتے ہیں اسےباہر کیا جانا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے لوگوں پر سرکار کی نظریں ہیں بہار کے لوگ اس طرح کے لوگوں کوپسند نہیں کرتے ہیں اگر خواتین نے بے عزتی محسوس کی تو اس خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک کمیونیٹی کو ٹارگیٹ کیا گیا ہے ایک دو آدمی کے بیان سے کوئی سوال کھڑا نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ ہوتے ہیں جو بیان بازی کرتے ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
واضح رہے کہ اسطرح کے عمل سے نہ صرف مسلمانوں کو ٹارگیٹ کیا جاتا ہے بلکہ اسلامی تشخص کو بھی پامال کیا جاتاہے اب دیکھنا یہ ہے کہ اس نقاب کے ذریعے سیاست کتنی تیز ہوتی ہے ۔مسلم تنظیموں کے کچھ لوگوں نے ضرور اپنی باتیں رکھیں ہیںاور ایسوسی ایشن کے صدر سے معافی کا مطالبہ کیا ہے ۔
شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

گورکھپور-سلی گوڑی ایکسپریس وے پر منظوری کا انتظار، بہار کے آٹھ اضلاع میں زمین حصولیابی کا عمل متاثر ہونے کا خدشہ
بہار

گورکھپور-سلی گوڑی ایکسپریس وے پر منظوری کا انتظار، بہار کے آٹھ اضلاع میں زمین حصولیابی کا عمل متاثر ہونے کا خدشہ

Awaz E Bihar•13 اکتوبر، 2026•اپڈیٹ•0 ویوز
پٹنہ میں ایس آئی آر کے خلاف آئیسا کا احتجاج، بیریکیڈ توڑ کر آگے بڑھے طلبہ، پولیس سے جھڑپ
بہار

پٹنہ میں ایس آئی آر کے خلاف آئیسا کا احتجاج، بیریکیڈ توڑ کر آگے بڑھے طلبہ، پولیس سے جھڑپ

Awaz E Bihar•13 اکتوبر، 2026•اپڈیٹ•0 ویوز
بریانی کھائیں، لیکن ہندو دکانوں سے‘، بنگال میں درگا پوجا کے موقع پر لگائے گئے نفرت آمیز پوسٹر
بہار

بریانی کھائیں، لیکن ہندو دکانوں سے‘، بنگال میں درگا پوجا کے موقع پر لگائے گئے نفرت آمیز پوسٹر

Awaz E Bihar•13 اکتوبر، 2026•اپڈیٹ•0 ویوز