دربھنگہ کے دیورا بندھولی کی ساجدہ پروین نے صرف 52 دنوں میں قرآن مجید حفظ کرکے حافظہ بنی۔
Awaz E Bihar••0 ویوز•3 منٹ پڑھیں
قرآن مجید جیسی متعبر کتاب حفظ کر نہ صرف جنت الفردوس کی حقدار بنی بلکہ والدین کا بھی نام روشن کیا ہے: علماء کرام دربھنگہ ( عرفان احمد پیدل ) جالے بلاک حلقہ کے تحت دیوار بندھولی باشندہ ساجدہ پروین نے نئے نسل کی طالبہ کے لئے ایک مثال بنی ہے کیوںکہ انہوں نے صرف 52 دنوں کے اندر ہی قرآن مجید حفظ کرکے حافظہ بنی ہیں دنیاوی تعلیم حاصل کر کے اگر کوئی شخص کوئی اعلیٰ عہدہ پر فائز ہو جاتا ہے تو پورے گاؤں اور سماج ضلع و صوبہ میں خوب نام ہوتا ہے اس طلباء وطالبات کی اور اس کے خاندان کی تعریف ہوتی ہے اور دادو تحسین پیش کرنے والوں کا تانتا لگ جاتا ہے ہے لیکن اگر کوئی کم سن لڑکی محض 52 دنوں میں پورا قرآن مجید حفظ کر لیتی ہے اس کی اتنی پزیرائی نہیں ہوتی ہے جتنا ہونا چاہیئے ہر شخص نام نمود کی جانب لگے ہوئے ہیں جبکہ قرآن مجید جیسی متعبر کتاب کو کوئی حفظ کرلے تو اس سے بڑی کامیابی سماج اور معاشرے کے لئے کیا ہو سکتی ہے جو کل قیامت کے دن سفارش کا حق رکھے گی ۔اس حقیقت کو عملی جامہ پہنانے میں ساجدہ پروین نے ایک مثال بنی ہیں دیورا بندھولی کی ساجدہ پروین نے جو ایک عالمہ فاضلہ کی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ محض 52 دنوں میں پورا قرآن مجید حفظ کرنے کا شرف حاصل کی ہے ۔ساجدہ پروین کے والد مولانا شفیق قاسمی نے نمائندہ کو جانکاری دیتے ہوئے بتایا ہے کہ انکی دختر عالمیت کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد درس و تدریس سے وابستہ ہوگئی تھی لیکن اسی سال اس کے ذھن میں ایک بات پیوست ہوگئی کہ بغیر حفظ قرآن کے عالمیت کی صلاحیت میں بہتری نہیں آئے گی اس لئے انہوں نے قرآن مجید کو حفظ قرآن نے کا فیصلہ کیا اور چھ پاڑہ میری نگرانی میں سنایا اس کے بعد مدرسہ اصلاح البنات سوبھن دربھنگہ میں قاری محمد قیس اصلاحی کی زیر نگرانی میں مکمل کرنے کا شرف حاصل کی۔ اس موقع پر مدرسہ میں ایک دعائیہ تقریب کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں کل تین لڑکیوں نے قرآن مجید حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی ۔موقع پر مدرسہ کے روحِ رواں مولانا اعجاز احمد سابق چیئرمین بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ ،مدرسہ ھذا کی پرنسپل محترمہ ثروت افروز ،انجیئر محمد فخرالدین، مولانا نیاز احمد سلفی ،مولانا منہاج احمد مفتاحی ، مولانا احسان قاسمی، مولانا شہزاد ، ماسٹر عبدالخالق ، ماسٹر محمد ایوب ، ماسٹر محمد مختار نے تمام طالبات کو بہتر مستقل کے لئے دعاؤں سے نوازا ۔