عقیدت مندانہ شاعری دائرہ میں رہ کر نا چائیے: اعجاز علی ارشد
Awaz E Bihar••0 ویوز•5 منٹ پڑھیں
پٹنہ : (اے بی این)ساہتیہ اکادمی نئی دہلی و خانقاہ شاہ ارزانی کے اشتراک سے دو روزہ قومی سیمینار بعنوان ’’اردو میں عقیدتمندانہ شاعری‘‘ کا انعقا د کیا گیا ۔سمینار کے افتتاحی اجلاس کی صدارت بین الاقوامی سطح کے معروف اسکالر جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی کے شعبۂ اسلامیات کے سابق صدر ، سابق وائس چانسلر جودھ پور یونیور سٹی اور پدم شری پروفیسر اختر الواسع نے فرمائی۔ جبکہ نظامت کی ذمہ داری ملک کے مشہور و مقبول شاعر و ادیب ڈاکٹر زین رامش نے بحسن خوبی انجام دی۔ استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے انوپم تیواری نے موضوع کے پس منظر پر گفتگو کرتے ہوئے زور دیا کہ اعتقادی شاعری ملک کے ماحول کو خوشگوار بنانے میں ایک اہم پہل ہے۔ چونکہ عقیدت کا تعلق انسان کے جذبات سے ہے اس لئے عقیدت مندانہ شاعری انسان کے جذبات کو ترغیب دینے کا کام کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو نظیر اکبر آبادی جیسا شاعر کسی بھی زبان میں نہیں ہے ۔ ان کے پاس اتنے موضوع ہیں ان کے پاس اور کرشن پر جو لکھا ہے وہ قابل قدر ہیں۔ ان کی شاعری میں مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کے بڑے علمبردار تھے۔ ان کی عقیدت کی شاعری کسی ایک مذہب تک محدود نہیں تھی، بلکہ انہوں نے اسلامی شخصیات اور ہندو دیومالائی کرداروں دونوں کے لیے یکساں والہانہ پن کا اظہار کیا۔ہندوستان کی زمین ہے اور ہندوستان کی زمین پر معنویت ہے انسانی دوستی ہمارے خون میں رچا بسا ہے جسے گنگا جمنی تہذیب کہیں یا عقیدت کا اظہار۔ خانقاہ شاہ ارزانی کے سجادہ نشیں پروفیسر سید شاہ حسین احمد نے خیر مقدمی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ اردو میں عقیدت مندانہ شاعری پر قومی سمینار کا انعقاد اپنی نوعیت کے اعتبار سے پہلا اور منفرد سمینار ہے۔ موجودہ دور میں اس موضوع کی بڑی اہمیت ہے۔اعتقادی شاعری ایک ایسا موضوع ہے جو سماج میں ہم آہنگی اور بھائی چارگی پیدا کرنے کا کام کر سکتا ہے۔ پروفیسر اختر الواسع نے عقیدت مندانہ شاعری کے حوالے سے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اعتقادی شاعری میں ہندوستان کی طویل تاریخ اور قدیم تہذیب مضمر ہے لہٰذا ہمیں اپنی تہذیب و تاریخ کو جاننے کے لئے ضروری ہے کہ عقیدت مندانہ شاعری کے مطالعہ کو عام کرے۔ ڈاکٹر احمد محفوظ نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اردو میں عقیدتمندانہ شاعری اردو میں عقیدتمندانہ شاعری کا آغاز دکن سے ہوا۔ قدیم شعراء جیسے قلی قطب شاہ اور نصرتی سے لے کر کلاسیکی دور کے میر تقی میر اور مرزا غالب تک، ہر بڑے شاعر نے اپنی عقیدت کا اظہار کیا۔ عقیدتمندانہ شاعری نے معاشرے میں اخلاقی اقدار کی ترویج اور اتحاد پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ شاعری صوفیائے کرام کے خانقاہوں سے لے کر عوامی مشاعروں تک ہر جگہ مقبول ہے۔ اس کلام کے ذریعے عام آدمی کو اپنی مقدس ہستیوں کی زندگیوں سے رہنمائی ملتی ہے۔عقیدتمندانہ شاعری اردو زبان کا وہ سرمایہ ہے جو اسے دیگر زبانوں سے ممتاز کرتا ہے۔ یہ شاعری دلوں کو سکون فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ عقائد کی پختگی کا ذریعہ بھی ہے۔ عقیدتمندانہ شاعری اردو ادب کی وہ روح ہے جو کبھی پرانی نہیں ہوتی۔ یہ شاعری انسان کو مادی دنیا سے نکال کر ایک ایسی روحانی دنیا میں لے جاتی ہے جہاں صرف سکون، محبت اور احترامِ آدمیت ہے۔ یہ ادب اور مذہب کا وہ حسین سنگم ہے جو اردو زبان کی آبیاری کر رہا ہے۔ خانقاہ شاہ ارزانی کے موجوودہ سجادہ نشیں پروفیسر سید شاہ حسین احمد نے پیغام محبت کو عام کرنے کے لئے اس موضوع کا انتخاب بڑی دانشمندی سے کیا ہے۔تاریخ کے عظیم اور معمر شخصیت سے اپنی عقیدت کا اظہار ملک کے تمام قلم کاروں نے کیا ۔ہندو اور مسلم شعراء نے جہاں پیغمبر اعظم کی شان نعت لکھی ہے وہاں رام اور کرشم جی کے اعجاز میں ہدیۂ خلوص پیش کیا ہے ، کلیدی خطبہ کے بعد اردو شعرو ادب کے معروف ادیب اور شاعر پٹنہ یونیورسٹی کے سابق صدر شعبۂ اردو، مولانا مظہر الحق عربی فارسی یونیورسیٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر اعجاز علی ا رشدنے بحکم صدر مجلس پرفیسر اخترالواسع صدارتی خطبہ کا فریضہ انجام دیا۔صدارتی خطبہ کے دوران انہوں نے اس نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عقیدت مندانہ شاعری میں بڑے محطاط اور دائرۂ میں رہ کر شاعرانہ ہدیۂ خلوص پیش کرنا چائیے ، مگر یہ حقیقت ہے کہ جذب و مستی میں انسان کی عقیدت غلو کی حد کو پہنچ جاتی ہے ، لہذا اس طرح کی عقیدت مندانہ شاعری کو حسن شاعری کے آئینے میں دیکھنا چاہئے ۔ پروفیسر اعجاز علی ا رشد کے صدارتی خطبہ کے ساتھ ہی افتتاحی سیشن کا اختتام عمل میںآیا ۔آخر میں ڈاکٹر ہمایوں اختر نے مہمانان،شرکاء اور اورمقالہ نگاروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے طہرانے کا اعلان کیا اور ظہرانہ کے بعد سیمینا ر کے پہلے تکنیکی سیشن کا اعلان کیا۔ دوسرے سیشن میں کئی مقالے پڑھے گئے ۔