پٹنہ (اے بی این ) وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے ایک عوامی تقریب میں خاتون ڈاکٹر نصرت پروین کا حجاب اتارنے کے معاملے نے اب سنگین رخ اختیار کر لیا ہے۔ اس واقعے سے شدید صدمے میں مبتلا نصرت نے فی الحال کام پر واپس نہ آنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے بھائی، جو کولکتہ کی ایک سرکاری لاء یونیورسٹی کے پروفیسر ہیںانہوں نے میڈیا کو بتایا کہ نصرت کو اس واقعے سے بہت دکھ ہوا ہے اور وہ اس صدمے سے سنبھل نہیں پا رہی ہیں۔ وہ 20 دسمبر کو اپنا عہدہ سنبھالنے والی تھیں لیکن موجودہ حالات کے پیش نظر انہوں نے کام سے وقفہ لے لیا ہے۔نصرت کے بھائی کے مطابق وزیراعلیٰ کے اس رویے سے ان کی عزت نفس کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔ اگرچہ گھر والے اسے سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ اس کی غلطی نہیں ہے اور اسے اپنے کیریئر پر توجہ دینی چاہیے، نصرت ابھی تک کسی بھی قسم کے کام پر واپس آنے کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں ہے۔ اس کے بھائی کا کہنا ہے کہ جب تک وہ اس صدمے اور ذہنی تناؤ سے صحت یاب نہیں ہو جاتی، ان کی پیشہ ورانہ زندگی میں واپسی کا امکان نہیں ہے۔اس واقعہ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد بہار کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) اور کانگریس جیسی اپوزیشن جماعتوں نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے اقدامات کی سخت مذمت کی ہے۔ کانگریس نے طنزیہ انداز میں کہا کہ وزیر اعلیٰ پہلے ایسے نہیں تھے لیکن بی جے پی کے زیر اثر ان کا رویہ بدل گیا ہے۔ اب، متاثرہ خاندان کے ردعمل نے حکومت کی مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے، کیونکہ یہ تنازعہ براہ راست ایک ابھرتے ہوئے کیریئر پر اثر انداز ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ حجاب تنازعہ کے بعد خاتون ڈاکٹر نصرت پروین نے عارضی طور پر بہار چھوڑ دیا ہے۔ نصرت اب کولکتہ میں اپنے خاندان کے پاس واپس آگئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 15 دسمبر کو ہونے والے واقعے کے اگلے ہی دن نصرت بہار سے کولکتہ کے لیے روانہ ہوگئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ نصرت پروین کا خواب ڈاکٹر بننا تھا اور وہ 20 دسمبر کو بہار کی سرکاری ملازمت میں شامل ہونے والی تھیں۔تاہم حالات کو دیکھتے ہوئے بہار حکومت کی خدمت جاری نہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ خاندان کے لوگ اسے بہار واپس آنے اور اپنی ملازمت میں شامل ہونے پر راضی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن نصرت فی الحال ایسا کرنے کی ہمت نہیں کر پا رہی ہے۔ خاندان نے فیصلہ مکمل طور پر نصرت پر چھوڑ دیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق 15 دسمبر کو پیش آنے والے واقعے کے بعد نصرت نے سب سے پہلے اپنے بھائی کو فون کیا اور صورتحال سے آگاہ کیا۔ بات چیت کے دوران وہ بہت جذباتی تھیں۔ اس کے بھائی نے اسے کولکتہ واپس آنے کا مشورہ دیا اور نصرت اگلے دن اپنے خاندان کے پاس واپس آگئی۔نصرت پروین نے اس پورے واقعے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ رہی کہ وزیراعلیٰ نے یہ جان بوجھ کر کیا، لیکن جو کچھ ہوا مجھے وہ پسند نہیں آیا، وہاں بہت سارے لوگ موجود تھے، کچھ ہنس بھی رہے تھے، ایک لڑکی ہونے کے ناطے یہ میری توہین تھی۔ اس نے مزید کہامیں نے اسکول سے کالج تک حجاب پہنا تھا۔ میں نے اسے گھر، بازار یا مال ہر جگہ پہنا ہے اور کبھی بھی ایسی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ میرے والدین نے ہمیشہ مجھے سکھایا کہ حجاب ہماری ثقافت کا حصہ ہے۔نصرت نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میری غلطی کیا تھی، میں یہ نہیں کہہ رہا کہ وزیر اعلیٰ نے کچھ غلط کیا، لیکن مجھے اب بھی سکون نہیں ہے، اس دن کو یاد کر کے کانپ اٹھتا ہے۔ 15 دسمبر کو جو ہوا وہ ٹھیک نہیں تھا۔ نقاب کشی کو لیکر اب فلمی شخصیات بھی سامنے آنے لگی ہیں اور اپنا رد عمل ظاہر کررہی ہیںمعروف اداکارہ راکھی ساونت نے بھی اس معاملے میں کھل کر نتیش کمار کی تنقید کی ہے اور ان سے فوری معافی کا مطالبہ کیا ہے ۔ رکھی ساونت نے انسٹا گرام پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں اس عمل کو نہایت توہین آمیز قرار دیا ہے ۔ وہیں اتر پردیش کے کابینی وزیر سنجے نشاد نے نتیش کمار کے حجاب واقعہ کا دفاع کرتے ہوئے ایک متنازع اور قابل اعتراض بیان دے کر نیا تنازع کھڑا کردیا ہے ۔ نشاد نے کہا کہ اگر نتیش کمار نے حجاب کے بجائے ’’کہیں اور ہاتھ لگا دیا ہوتا توکیا ہوتا‘‘ جس پر سیاسی حلقوں میں شدید و غم و غصہ پایا جارہاہے ۔ اس کے بعد سماج وادی پارٹی کی رہنما سمیہ رانا نے نشاد کے خلاف شکایت درج کراتے ہوئے ایف آئی اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیاہے ۔ کانگریس کے سابق رکن اسمبلی اسلم شیخ نے بیان کو گھٹیا اور خواتین مخالف قرار دیتے ہوئے کہا کہ حجاب مسلم خواتین کے لئے مقدس ہے اور اس کی توہین ایک طرح کا حملہ ہے ۔اتر پردیش کے کیرانہ سے رکن پارلیامنٹ اقرا حسن نے اس واقعے کو انتہائی شرمناک قرار دیتے ہوئے کہ خاتون ڈاکٹر کا حجاب کھینجنا اس کے وقار اور مذہبی شناخت پر براہ راست حملہ ہے جب ریاست کا وزیر اعلیٰ ایسا طرز عمل اختیار کرے تو خواتین کی حفاظت پر سنجیدہ سوالات کھڑے ہونا فطری ہے۔ پی ڈی پی کی سینئر رہنما التجا مفتی نے بھی نتیش کمار کے عمل کو ناقاقبول قرار دیا۔ ابو عاصم اعظمی نے بھی نتیش کمار اس حرکت کو مذموم بتایا۔ جنتادل یو کی جانب سے ایم ایل سی خالد انور اور وزیر زماں خاں نے مورچہ سنبھالااور کہا کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار سب کا ساتھ، سب کا سمان، اور سب کا وکاس کی پالیسی پر کام کرتے ہیں۔ ایک مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ایک باپ کی حیثیت سے بیٹی کا حجاب اتارنے کے لیے آگے بڑھے۔ تاہم کچھ لوگ اس حساس معاملے کا مذاق اڑا رہے ہیں جو کہ افسوس ناک ہے۔ایم ایل سی خالد انور نے کہا کہ نتیش کمار کے کیریکٹر پر انگلی اٹھا کر پوری دنیا کے سامنے بہار کا مذاق بنانا چاہتے ہیں ۔ اپوزیشن کو یاد رکھنا چاہیےکہ بہار میں اگر خواتین کو کسی نے عزت دی ہے تو اس کا نام نتیش کمار ہے۔ آج اگر بڑی تعداد میں مسلم لڑکیاں ڈاکٹر بن رہی ہیں، انجینئر بن رہی ہیں ،سروسز میں جا رہی ہیں۔اسی نتیش کمار کی کوششوں کا نتیجہ ہے ۔ نتیش کمار نے ہمیشہ انصاف کے ساتھ ترقی کا راستہ اپنایا ہے ۔ ڈاکٹر خالد انور نے کہا کہ یہ وہی نتیش کمار ہیں جب حجاب کا معاملہ آیا تو انہوں نے براہ راست کہا کہ ہماری بیٹیاں جیسے رہنا چاہیں رہے ، جس طرح اسکول جانا چاہیں وہ جا سکتی ہیں۔ اپوزیشن لیڈران چاہتے ہیں کہ حجاب کا ایشو بنا کر کے مسلم بچیوں کی نوکری اور روزگار کے معاملہ کو دبا دیا جائے ۔ بہار کا ایک ایک بچہ نتیش کمار سے محبت کرتا ہے ۔ انہیں پتہ ہے نتیش کمار ہمارے گارجین ہیں انہوں نے لاکھوں کی تعداد میں مسلم نو جوانوں کو نوکری دی ہے اور آگے بھی دیں گے اور ان کا یہ عمل ایک محبت کا عمل تھاکسی خاتون کو ذلیل کرنے کاکوئی ارادہ نہیں تھا۔ واضح رہے کہ نتیش کمار 15دسمبر کو آیوش ڈاکٹروں کو تقررنامہ تقسیم کررہے تھے ڈاکٹر نصرت پروین نے جیسے ہی وزیر اعلیٰ کے سامنے تقرر نامہ لینے کیلئے پہنچی ویسے وزیر اعلیٰ نے اس کی طرف انگلی کا اشارہ کرتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے چہرے سے نقاب کو کھینچ لیا جو سوشیل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔ چاروں جانب نتیش کمار کی مذمت ہونے لگی۔ سوشیل میڈیا پر نتیش کمار کی صحت اور دماغ کے بارے میں سوالات کھڑے ہونے لگے ۔ اس معاملے میں سیاسی گھماسان تو ہونا ہی تھی جے ڈی یو کے لیڈروں نے بھی مورچہ سنبھالا اور اپوزیشن کے لیڈروں نے بھی اپنی طرف جواب دیتے نظر آئے ۔ در حقیقت یہ معاملہ اب طول پکڑ چکا ہے اور نتیش کمار کے خلاف میڈیا پروپیگنڈہ پھیلانے میں مصروف ہوگئی ہے۔