بہار میں بنیادی انفرا اسٹکچر کے فروغ پر زور،عوام کی سہولت کو مضبوط کرنا حکومت کا مقصد
Awaz E Bihar••2 ویوز•10 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 24 جنوری(اے بی این ):وزیر اعلی نتیش کمار سمریدھی یاترا کے دوران ویشالی ضلع کے پانا پور کے بیٹشور ناتھ دھام کمپلیکس میں منعقد جن سمواد پروگرام شامل ہوئے ۔ جن سمواد پروگرام کو خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی نے کہاکہ آپ سب لوگ جانتے ہیں کہ 24 نومبر 2005 کو پہلی مرتبہ بہار میں این ڈی اے کی حکومت بنی تھی، تب سے ریاست میں قانون کی حکمرانی موجود ہے اور ہم مستقل طور پر ترقی کے کام میں لگے ہوئے ہیں۔یاد ہے نہ پہلے کیا حالت تھی۔ بہت برا حال تھا شام کے بعد لوگ گھر سے باہر نہیں نکلتے تھے۔ سماجی میں بہت تنازعہ تھا، ہر روز ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین تنازعہ ہوتا تھا۔ تعلیم کا نظام بہت خراب حالت میں تھا۔ بہت کم بچے پڑھتے تھے۔ پہلے علاج کا مکمل انتظام نہیں تھا۔ سڑکیں بہت کم تھیں اور جو تھیں ان کا برا حال تھا۔ بجلی کی فراہمی بہت کم جگہوں پر تھی۔ ہم لوگ شروع سے ہی بہار کے ترقیاتی کاموں میں لگے ہیں۔ اب کسی بھی طرح کے خوف اور دہشت کا کوئی ماحول نہیں ہے۔ پوری ریاست میں محبت، بھائی چارے اور امن کا ماحول ہے۔ ہندو مسلم تنازعہ کو ختم کرنے کے لئے سال 2006 سے ہی، قبرستانوں کی گھیرا بندی شروع کی گئی ہے۔پہلے تقریبا 8 ہزار قبرستانوں کی گھیرابندی کی گئی،بعدمیں کچھ اور قبرستانوں کو نشانزد کیا گیا جن کی گھیرا بندی کی جارہی ہے۔سال 2016 کے بعد سے، 60 سال سے زیادہ قدیم ہندو مندروں کوکی گھیرا بندی کی گئی۔اب تمام شعبوں میں ترقی ہور ہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ شروع سے ہی تعلیم اور صحت کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی گئی۔ ریاست میں بڑے پیمانے پر سڑکوں اور پل لیوں کی تعمیر کرائی گئی ہے۔ سال 2015 میں سات نشچے کے تحت ہر گھر تک بجلی،ہر گھر تک نک کا جل، ہر گھر تک اجابت خانہ اور ٹولوں کو پکی سڑکوں سے جوڑنے کا کا مکمل کیا گیا ہے۔ سال 2018 میں ہی ہر گھر بجلی پہنچادی گئی ہے۔ حکومت کے ذریعہ شروع سے ہی بہت کس شرح پر بجلی دی گئی ہے اب تقریبا تمام گھریلوصارفلین کو بجلی مفت دی جارہی ہے۔ سال 2020 میں سات نشجے 2 کے تحت تما منصوبویں پر بہت کام ہوا ہے اور جو بھی کام باقی ہے انہیں جلد ہی مکمل کیا جائے گا۔ سات نشچے 2 کے تحت ہی نوجوانوں کے لیے 10 لاکھ نوکریاں اور 10 لاکھ روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اب تک 10 لاکھ نوجوانوں کو سرکاری نوکریاں اور 40 لاکھ کو روزگار دیاجا چکا ہے۔ مجموعی طور پر 50 لاکھ نوجوانوں کو نوکری اور روزگار فراہم کیا گیا ہے۔ اگلے پانچ برسوں میں 1 کروڑ نوجوانوں کو نوکری اور روزگار فراہم کرنے کا ہدف ہے۔ حکومت نے اپنے آغاز سے ہی سماجی کے تمام طبقات کی ترقی کی حمایت کی ہے۔ ہندو، مسلم، اونچی ذات، پسماندہ، انتہائی پسماندہ، دلت یا مہادلیت سبھی کے لیے کام کیا گیا ہے۔ تمام بزرگوں، معذوروں اور بیوہ خواتین کے لیے پنشن کی رقم 400 روپے سے بڑھا کر 1100 روپے کر دی گئی ہے جس سے 1کروڑ 14 لاکھ افراد مستفید ہو رہے ہیں۔ جولائی 2024 کے بجٹ میں بہار کو خصوصی مالی مدد کی شکل میں سڑک، صنعت، ہیلتھ، سیاحت، سیلاب پر قابو پانے کے لیے کثیر رقم دینے کا اعلان کیا گیا۔ فروری 2025 کے بجٹ میں بہار میں مکھانا بورڈ، ایئر پورٹ کا قیام، مغربی کوسی نہر کے لیے مالی مدد وغیرہ کا اعلان کیا گیا ہے۔ سال 2018 میں ملک کی کچھ ریاستوں میں کھیلو انڈیا یوتھ گیمس کا انعقاد ہوا تھا،2025 میں کھیلو انڈیا یوتھ گیمس کا انعقادبہار میں ہوا جو فخر کی بات ہے۔ اس سب کے لیے جناب نریندر مودی جی کو سلام کر تے ہیں۔جناب نریندر مودی جی کئی مرتبہ بہار آئے ہیں اور ان کے ذریعہ ترقیاتی کاموں کا سنگ بنیاد،افتتاح، کیا گیا ہ ے۔ ان تمام منصوبوں پر اب تیزی سا کام ہو رہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بہار میں آئندہ 5برسوں (2025سے 2030) میں کئی کام کرائے جائیں گے۔حکومت کے ذریعہ پہلی مدت2005-2010، دوسرے کام کی مدت میں 2010-2015، تیسری مدت 2015-2020 اور چوتھی مدت 2020-2025کو ملا کر ہر شعبے میں کام ہواہے، چاہے وہ تعلیم، صحت، سڑکیں، بجلی ہو یا زراعت۔ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے بھی متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ ترقی کی رفتار اب مزید تیز کی جائے گی۔ مرکزی حکومت بھی مکمل تعاون فراہم کر رہی ہے۔آئندہ 5برسوں کے لیے سات نشچے 3 کو نافد کر دیا گیا ہے۔(1) ''دوگنا روزگار، دوگنی آمدنی'' کے تحت، ریاست کی فی کس اوسط آمدنی کو دوگنا کیا جائے گا۔اوراس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ خواتین روزگاراسکیم کے تحت ہر خاتون کو 10 ہزارروپے دیے گئے ہیں۔ جن کا روزگار بہتر ہو گا ان کو 2 لاکھ روپے تک کی امداد دی جائے گی۔ اگلے 5 برسوں میں نوجوانوں کو ایک کروڑ نوکریاں اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے ایک نیا یوتھ ایمپلائمنٹ اینڈ اسکل ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ قائم کیا گیا ہے۔ ''خوشحال صنعت، بااختیار بہار'' پہل کے تحت اگلے پانچ برسوں میں صنعتیں لگانے پر پورا زور دیا جائے گا۔ تمام اضلاع میں انڈسٹریل زونز قائم کیے جائیں گے۔ نئی بڑی صنعتوں کے لیے مفت زمین اور گرانٹ فراہم کی جا رہی ہے۔ پرانی، بند شوگر ملیں دوبارہ شروع کی جائیں گی۔ زرعی ترقی ریاست کے خوشحالی پروگرام کے تحت زرعی ترقی کے لیے پہلے ہی کافی کام کیا جا چکا ہے۔ اس کام کو مزید تیز کرنے کے لیے بہار مارکیٹنگ پروموشن کارپوریشن کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ مکھانہ کی پیداوار کو مزید فروغ دیا جائے گا۔ ڈیری اور ماہی پروری پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔’اعلیٰ تعلیم روشن مستقبل‘کے تحت ریاست میں تعلیم کو فروغ دینے کے لیے ہر بلاک میں آدرش اسکول اور ڈگری کالج کھولے جائیں گے۔ ایک نئے ایجو کیشن سیٹی کی تعمیر کی جائے گی۔ آسان صحت،محفوظ زندگی کے تحت طبی خدمات کو مزید بہتر بنانے کے لیے ضلع اور بلاک کے اسپتالوں کو خصوصی طبی سینٹر بنا یا جائے گا۔ ریاست میں مشہور پرائیوٹ اسپتالوں کے قیام کے لیے حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ سرکاری ڈاکٹروں کی نجی پریکٹس پر روک لگانے کی پالیسی لائی جائے گی۔’مضبوط بنیاد،جدید توسیع‘ کے تحت بنیادی انفرا اسٹرکچر کو بہتر کیا جائے گا۔جس میں شہروں کی ترقی اور نئے منتخب شہروں کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ 5نئے ایکسپریس وے سڑکوں کی تعمیر اور دیہی سڑکوں کو 2لین چوڑا کیا جائے گا۔ تمام خواہشمند لوگوں کے گھروں کی چھتوں پر سولرپینل لگائے جائیں گے۔ بہار میں سیاحت اور ایکوٹوریزم کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔پٹنہ میں اسپورٹ سیٹی کا فروغ اور کھلاڑیوں کو سرکاری نوکری دی جائے کی۔ سب کا سمان،جیون آسان کے تحت جدید تکنیکی اور اچھے انتظام کے توسط سے ریاست کے تمام شہریوں کی زندگی کو آسان بنا یا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہماری ریاست مسلسل ترقی کر رہی ہے۔ ان دنوں کام میں مزید تیزی آئی ہے۔ اگلے پانچ برسوں میں مزید کام شروع کیے جائیں گے، جو بہار کو نمایاں طور پر آگے بڑھائیں گے۔ مرکزی حکومت بھی مکمل تعاون فراہم کر رہی ہے۔ وزیر اعلی نے کہا کہ آپ کو یاد ہوگا کہ پہلےویشالی ضلع کی کیا حالت تھی۔ 2005 سے پہلے کی حکومت نے کچھ نہیں کیا۔ ہم نے ضلع ویشالی میں ترقیات کے تمام کام مکمل کرلئے ہیں۔ انجینئرنگ کالج ، پولی ٹیکنک انسٹی ٹیوٹ قائم کیا گیا ہے۔تمام سب ڈویزن میں خواتین آئی ٹی آئی اور آئی ٹی آئی قائم کئے گیے ہیں۔ مہوا میں میڈیکل کالج اور اسپتال قائم کیا گیا ہے۔ جی این ایم اور پیرامیڈیکل انسٹی ٹیوٹ قائم کیے گئے ۔ ضلع ویشالی میں بہت سے پل اور سڑکیں تعمیر کی گئیں۔ حاجی پور- پٹنہ کے درمیان گنگا ندی پر پرانا گاندھی سیتو اور جے پی سیٹو تعمیر کیے گئے ۔ دیدار گنج اور بدو پور کے مابین 6 لین میگا پل تعمیر کیا گیا ہے۔ حاجی پور سے مظفر پور روڈ کو 4 لین تک چوڑا کردیا گیا ہے۔ وشالی میں بدھ سمیاک درشن میوزیم اور اسمتری اسٹوپ تعمیر کیے گئے ہیں جس کا افتتاح حال ہی میں ہوا ہے۔ دسمبر 2024 اور جنوری فروری 2025 کے مہینوں میں ، پرگتی یاترا کے دوران ، میں نے تمام اضلاع کا دورہ کیا اور ترقیاتی کاموں کو دیکھا اور کمیوں کو پورا کرنے کے لئے ، ویشالی ضلع میں 7 اسکیموں کی منظوری دی گئی ، جس پر کام جاری ہے اور جلد ہی مکمل ہوجائے گا۔وایا ندی کی اڑہی کی جارہی ہے۔ بیرولی جھیل تیار کی جارہی ہے۔ مہوا میں گرڈ سب اسٹیشن تعمیر کیا جارہا ہے اور 4 بلاک میں نئے پاور سب اسٹیشن تعمیر کیے جارہے ہیں۔ ڈگری کالج گورول میں قائم کیا گیا ہے۔ حاجی پور شہر میں ڈرین کی تعمیر کا آغاز ہوا ہے۔ دریائے گندک کے بائیں حصے میں پشتے کا تعمیراتی کام جاری ہے۔ ضلع ویشالی میں صنعتی پارک بنانے کے لئے اراضی کا انتخاب کیا گیا ہے۔ سات نشچے-3 کے تحت ، اگلے 5 برسوں 2025 سے 2030 کے درمیان ضلع ویشالی میں بہت سارے کام انجام دیئے جائیں گے ، جس میں ضلع کی 4 لاکھ 83 ہزار خواتین کو روزگا کے لئے 10 ہزار روپے کی رقم دی گئی ہے۔ ان کو اپنے روزگار کو آگے بڑھانے کے لئے 2 لاکھ روپے تک کی اضافی مدد بھی دی جائے گی۔ ضلع ویشالی میں صنعتی علاقہ قائم کرکے نئی صنعتیں قائم کی جائیں گی۔ ڈیری کو فروغ دینے کے لئے ، دودھ کی پیداوار کمیٹیاں ضلع کے 1 ہزار 414 گاوں میں تشکیل دی جائیں گی اور سدھا دودھ کی فروخت کے مراکز تمام 290 پنچایتوں میں کھولے جائیں گے۔ماڈل اسکول اور ڈگری کالج تمام 16 بلاکس میں قائم کیے جائیں گے۔ تمام 16 کمیونٹی ہیلتھ سینٹرز کو خصوصی اسپتال بنایا جائے گا اور ویشالی صدر اسپتال کوسوپر اسپیشلیٹی اسپتال کے طور پر ڈیولپ کیا جائے گا۔ویشالی ضلع میں کھیلوں کے لئے سینٹر آف ایکسیلنسی قائم کیا جائے گا۔ سب کا سمان زندگی آسان کے تحت ، مشکلات کو دور کیا جائے گا اور لوگوں کے لئے سرکاری سہولیات کا فائدہ اٹھانا آسان ہوجائے گا۔ یہ کام ضلع کی مجموعی ترقی کا باعث بنے گا۔ جو لوگ پہلے اقتدار میں تھے وہ کوئی کام نہیں کرتے تھے۔ انہیں وزیر اعلی کے عہدے سے ہٹایا گیا تو انہوں نے اپنی اہلیہ کو وزیر اعلی بنادیا۔۔ مرکزی حکومت کی طرف سے بھی مکمل تعاون حاصل مل رہا ہے۔ اب بہار بہت ترقی کرے گا اور ملک کی ترقی یافتہ ریاستوں میں شامل ہوگا۔ اس موقع پر ، نائب وزیر اعلی جناب سمرات چودھری ، نائب وزیر اعلی جناب وجے کمار سنہا ، آبی وسائل کم پارلیمانی امور کے وزیر جناب وجے کمار چودھری ، توانائی کے وزیر ضلع کے انچارج انچارج وزیر جناب یجندرا پرسادیادو،ایس سی ایس ٹی فلاح کے وزیر جناب لکھندر کمار،۔ ایم ایل اے اور جے ڈی یو کے ریاستی صدر شری امیش سنگھ کشواہا ، ایم ایل اے اودھیش سنگھ ، ایم ایل اے جناب سنجے کمار سنگھ ، ایم ایل اے جناب سدھارتھ پٹیل ، ایم ایل اے جناب مہیندر رام اور سابق ایم ایل اے ، سابق قانون ساز کونسل کے ارکان ، عوامی نمائندے اور بڑی تعداد میں عام لوگ موجود تھے۔