منگل، 13 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار

آواز ای بہار

ای پیپر
اہم خبریںقومیسیاستکھیلبہارقومیسیاستکھیلمضامینعالمی خبریںمزید
  • اہم خبریں
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • اہم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
آواز ای بہار
  • ہوم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
اردوहिन्दीEnglish

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

سبسکرائب

Email: awazebihar@gmail.com|Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
فلموں سے سیاست تک، وجے کی دھماکہ خیز انٹری، ٹی وی کے کو پہلی ہی بار بڑی کامیابی
  1. ہوم
  2. سیاست
سیاست

فلموں سے سیاست تک، وجے کی دھماکہ خیز انٹری، ٹی وی کے کو پہلی ہی بار بڑی کامیابی

Awaz E Bihar•4 مئی، 2026 کو 04:28 PM•3 ویوز•5 منٹ پڑھیں

اپنی بلاک بسٹر فلموں کی طرح، جن میں ایکشن اور ہیروزم کی کوئی کمی نہیں ہوتی، اداکار سے سیاستدان بننے والے اور تملگا ویٹری کڑگم (ٹی وی کے) کے بانی وجے نے تمل ناڈو کی سیاست میں زبردست انداز میں قدم رکھا ہے۔
اپنی فلموں کی طرح بھرپور ایکشن کے ساتھ وجے نے اپنے پہلے ہی انتخابی میدان میں دراوڑی سیاست کے مضبوط قلعے کو توڑ دیا، ایک ایسا کارنامہ جس کی کسی کو توقع نہیں تھی-اور خود کو ایک متبادل کے طور پر ثابت کیا جس کا طویل عرصے سے انتظار تھا۔ انہوں نے تن تنہا اپنی پارٹی کو شاندار کامیابی دلائی، نہ صرف حکمراں ڈی ایم کے کو شکست دی بلکہ اے آئی اے ڈی ایم کے کو تیسرے نمبر پر دھکیل دیا۔
وجے کی زبردست عوامی مقبولیت نے نصف صدی سے زائد عرصے سے قائم دراوڑی دو قطبی سیاست کو توڑ دیا۔ اس انتخاب میں وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے صدر ایم کے اسٹالن کو کولاتھور حلقے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ان کے کئی کابینہ ساتھی بھی اپنی نشستیں ہار گئے، جس سے یہ واضح ہو گیا کہ وجے تمل ناڈو کی سیاست میں ایک طاقتور قوت بن کر ابھرے ہیں۔
اسٹالن کو ان کے قریبی حریف اور سابق ڈی ایم کے ایم ایل اے وی ایس بابو (ٹی وی کے) نے 9 ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست دی، جو ان کی چار انتخابات میں پہلی شکست ہے، اس سے پہلے وہ 2011، 2016 اور 2021 میں مسلسل کامیاب ہوتے آئے تھے۔
اپنی پہلی ہی انتخابی کامیابی میں ٹی وی کے سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری، تاہم سادہ اکثریت کے لیے درکار 118 نشستوں سے کچھ پیچھے رہ گئی۔
چونکہ ٹی وی کے کی بنیاد صرف 2024 میں رکھی گئی تھی، اس کامیابی کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ وجے نے چنئی کے پرمبور اور تریچی ایسٹ دونوں حلقوں سے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔
تمل ناڈو نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ یہاں فلم اور سیاست کا گہرا تعلق ہے۔ وجے نے اپنی مقبولیت کو ایک مضبوط سیاسی طاقت میں بدل دیا ہے، جو اب مستقل حیثیت اختیار کر چکی ہے۔
وہ خود کو ایک دراوڑی متبادل کے طور پر پیش کرتے ہیں، نہ کہ قوم پرست، کیونکہ 1967 کے بعد سے قومی جماعتیں یہاں مضبوط متبادل پیش کرنے میں ناکام رہی ہیں، جب سی این انّا دورئی کی قیادت میں ڈی ایم کے نے کانگریس کو اقتدار سے ہٹایا تھا۔
22 جون 1974 کو ایک بین مذاہب خاندان میں پیدا ہونے والے وجے نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز بطور چائلڈ آرٹسٹ اپنے والد ایس اے چندر شیکر کی فلموں سے کیا۔ ان کی پہلی بڑی فلم 'نالیایا تھیریپو' (1992) تھی۔ ابتدا میں رومانوی فلموں کے بعد انہوں نے ایسے کردار اپنائے جو انصاف کے محافظ کے طور پر ان کی شناخت بنے۔
گزشتہ دہائی میں کئی بلاک بسٹر فلموں کے ذریعے ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا اور ان کے مداحوں کا ایک منظم نیٹ ورک وجود میں آیا، جو سماجی خدمات اور سوشل میڈیا پر سرگرم ہے۔
اگرچہ انہوں نے لوئیولا کالج، چنئی سے گریجویشن مکمل نہیں کیا، لیکن وہ تعلیمی میدان میں نمایاں طلبہ کو اعزاز دینے کے لیے تقریبات منعقد کرتے رہے، جس سے ان کی عوامی ساکھ مزید مضبوط ہوئی۔
سیاست میں آنے سے پہلے بھی انہوں نے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور جی ایس ٹی کے خلاف اپنی فلم 'سرکار' میں آواز اٹھائی تھی۔ 2021 کے بلدیاتی انتخابات میں ان کے مداحوں نے حصہ لیا اور کچھ کامیاب بھی ہوئے۔
ٹی وی کے کے قیام کے وقت وجے نے واضح کیا تھا کہ وہ اپنے عروج پر موجود فلمی کیریئر کو چھوڑ کر سیاست میں آ رہے ہیں اور 'جنا نایگن' کو اپنی آخری فلم قرار دیا۔
51 سال کی عمر میں وہ اب وزیر اعلیٰ بننے کی راہ پر گامزن ہیں، اگرچہ سب سے کم عمر وزیر اعلیٰ بننے کا ریکارڈ جے للیتا کے پاس ہے، جو 43 سال کی عمر میں اس منصب پر فائز ہوئی تھیں۔
انتخابات سے قبل وجے کو کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، جن میں کرور میں ایک بھگدڑ کا سانحہ شامل ہے جس میں 41 افراد ہلاک ہوئے، ان کی آخری فلم 'جنا نایگن' کو سنسر سے متعلق تنازع کا سامنا کرنا پڑا، اور ذاتی زندگی میں ان کی اہلیہ سنگیتا کی جانب سے طلاق کی درخواست بھی زیر سماعت ہے۔
ان تمام مشکلات کے باوجود وجے نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور پہلی ہی انتخابی کوشش میں کامیابی حاصل کر کے ایک نئی تاریخ رقم کی، ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے دونوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ایک مضبوط متبادل کے طور پر ابھرے۔
اپنے سیاسی بیانیے کے مطابق، اب مقابلہ براہ راست ٹی وی کے اور ڈی ایم کے کے درمیان ہے، جبکہ بی جے پی کو انہوں نے نظریاتی حریف قرار دیا ہے۔ ْ
یواین آئی۔ ظ ا
شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

ہمیں ماریں، دھمکائیں یا ڈرانے کی کوشش کریں، ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے: راہل گاندھی
سیاست

ہمیں ماریں، دھمکائیں یا ڈرانے کی کوشش کریں، ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے: راہل گاندھی

Awaz E Bihar•12 اکتوبر، 2026•18 ویوز
پچیس سال کی عوامی خدمت کا سفر ذاتی تشہیر کا موقع نہیں، وکست بھارت کے عزم کو دہرانے کا دن: مودی
سیاست

پچیس سال کی عوامی خدمت کا سفر ذاتی تشہیر کا موقع نہیں، وکست بھارت کے عزم کو دہرانے کا دن: مودی

Awaz E Bihar•7 اکتوبر، 2026•9 ویوز
مودی نے ووٹ چوری کرکے ملک کو ہائی جیک کر لیا ہے: راہل گاندھی
سیاست

مودی نے ووٹ چوری کرکے ملک کو ہائی جیک کر لیا ہے: راہل گاندھی

Awaz E Bihar•6 اکتوبر، 2026•8 ویوز