منگل، 13 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار

آواز ای بہار

ای پیپر
اہم خبریںقومیسیاستکھیلبہارقومیسیاستکھیلمضامینعالمی خبریںمزید
  • اہم خبریں
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • اہم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
آواز ای بہار
  • ہوم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
اردوहिन्दीEnglish

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

سبسکرائب

Email: awazebihar@gmail.com|Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
امریکہ کو برطانوی فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت پر ایران کا سخت ردِعمل، نتائج کی ذمہ داری برطانیہ پر عائد ہوگی: تہران
  1. ہوم
  2. عالمی خبریں
عالمی خبریں

امریکہ کو برطانوی فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت پر ایران کا سخت ردِعمل، نتائج کی ذمہ داری برطانیہ پر عائد ہوگی: تہران

Awaz E Bihar•24 جولائی، 2026 کو 02:56 PM•14 ویوز•3 منٹ پڑھیں

ایران نے برطانیہ کی جانب سے مبینہ طور پر امریکہ کو ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے کی سخت مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جو بھی ملک ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں کسی بھی شکل میں تعاون کرے گا، اسے اس کے نتائج کی ذمہ داری اٹھانا ہوگی۔یہ ردِعمل ان میڈیا رپورٹس کے بعد سامنے آیا جن میں کہا گیا کہ برطانوی وزیرِاعظم اینڈی برنہم نے امریکہ کو بحرِ ہند میں واقع ڈیگو گارشیا کے فوجی اڈے اور انگلینڈ کے آر اے ایف فیئر فورڈ سمیت دیگر فوجی تنصیبات ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ایرانی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ برطانیہ کی جانب سے فوجی اڈے اور لاجسٹک سہولتیں فراہم کرنا امریکہ کے ان حملوں کی حمایت ہے جنہیں ایران نے "غیر قانونی" قرار دیا ہے۔ وزارت کے مطابق یہ اقدام اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت کا اپنے فوجی اڈے امریکہ کے لیے دستیاب کرنا بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 3314 کے آرٹیکل 3(ف) کے مطابق اگر کوئی ملک اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کو کسی تیسرے ملک پر حملے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے تو اسے جارحیت تصور کیا جاتا ہے۔ اس لیے برطانیہ کا یہ اقدام بھی جارحیت کے زمرے میں آتا ہے۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ برطانوی حکام اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ اسرائیل کی شمولیت سے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کھلی جارحیت ہے، اور اس کی تیاری یا عمل درآمد میں کسی بھی قسم کی مدد کرنا جارحیت اور جنگی جرائم میں شریک ہونے کے مترادف ہے۔ایران نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن ہونے کے باوجود برطانیہ کی جانب سے حملوں کی مذمت کرنے کے بجائے مبینہ جارح ممالک کی حمایت کرنے پر بھی تنقید کی۔
بیان میں کہا گیا کہ برطانیہ نے غیر قانونی فوجی حملوں کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آور ممالک کا ساتھ دینے کا راستہ اختیار کیا، جو قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق اور عالمی امن و سلامتی کے بارے میں اس کے دعوؤں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ایران نے برطانیہ پر ماضی میں بھی ایران مخالف اقدامات کا الزام عائد کرتے ہوئے 1953 کی بغاوت، ایران۔عراق جنگ میں عراق کی حمایت، ایران کے جوہری پروگرام پر پابندیوں، اقوامِ متحدہ کے "اسنیپ بیک" نظام کو فعال کرنے کی کوششوں اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے خلاف اقدامات کا بھی حوالہ دیا۔
وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ ایران اپنی قومی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے، اور جو بھی فریق ایران کے خلاف فوجی جارحیت میں کسی بھی انداز سے شریک ہوگا، اسے اپنے فیصلے کے نتائج کی ذمہ داری خود اٹھانا ہوگی۔
دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانوی وزیرِاعظم اینڈی برنہم نے سابق وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کی پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے امریکہ کو ڈیگو گارشیا اور آر اے ایف فیئر فورڈ کے فوجی اڈے ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔واضح رہے کہ امریکہ گزشتہ ہفتے سے ایران میں مختلف مقامات پر حملے کر رہا ہے، جبکہ ایران نے جواباً خطے کے کئی ممالک میں موجود ان تنصیبات اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے جنہیں وہ امریکی فوج کے زیرِ استعمال قرار دیتا ہے۔
شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

سوڈان میں سونے کی کان پر فضائی حملہ، کم از کم 72 کان کن ہلاک
عالمی خبریں

سوڈان میں سونے کی کان پر فضائی حملہ، کم از کم 72 کان کن ہلاک

Awaz E Bihar•12 اکتوبر، 2026•12 ویوز
آپریشن ’’فجر الیمن‘‘ جاری، حوثیوں کے ٹھکانوں اور اسلحہ گوداموں پر حملے جاری
عالمی خبریں

آپریشن ’’فجر الیمن‘‘ جاری، حوثیوں کے ٹھکانوں اور اسلحہ گوداموں پر حملے جاری

Awaz E Bihar•11 اکتوبر، 2026•6 ویوز
یمن میں لڑائی تیز، انسانی بحران سنگین ہونے کا خدشہ
عالمی خبریں

یمن میں لڑائی تیز، انسانی بحران سنگین ہونے کا خدشہ

Awaz E Bihar•7 اکتوبر، 2026•9 ویوز