خواجہ غریب نواز اعمال صالحہ کے لئے وعدۂ قرآنی کی زندہ مثال ہیں۔ منعمی
Awaz E Bihar••0 ویوز•2 منٹ پڑھیں
خانقاہ منعمیہ میں عرس خواجۂ خواجگان کا عرفانی انعقاد پٹنہ،27 دسمبر خواجۂ خواجگان سیدنا معین الدین حسن سجزی چشتی اجمیری، اس برصغیر کی سب سے مقبول شخصیت کا نام ہے۔ آپ کی بارگاہ ظاہری اور باطنی دونوں لحاظ سے سریع التاثیر ہے۔ آپ نے جس سنہری سلسلے کا آغاز کیا اس کے نتیجے میں خواجہ قطب، بابا فرید اور نظام الدین اولیا، صابرکلیری، احمد عبدالحق ردولوی،چراغ دہلوی، سید محمد گیسودراز، جیسی عظیم شخصیتیں پیدا ہوئیں۔ آپ کا طریقۂ تبلیغ ودعوت، احسان وعرفان سب سے کا میاب ثابت ہوا۔ آپ کی کشش کا ہر ایک شیدائی ہے۔ اس موقع پر خانقاہ منعمیہ کے سجادہ نشیں حضرت سید شاہ شمیم الدین احمد منعمی نے خطاب کرتے ہوئے مزید فرمایا کہ خواجہ غریب نواز ؒ، اعمال صالحہ کے نتیجے میں وعدۂ قرآنی کی جیتی جاگتی مثال ہیں۔ بہار بھی سلسلہ چشتیہ کے اولین شیدائیوں میں سے ہے۔ یہاںآپ کاسلسلہ چشتیہ خوب پھلاپھولا۔ شیخ خضرپارہ دوزؒ، حضرت مخدوم آدم صوفی ؒ(پکّی درگاہ )، حضرت مخدوم سیستانیـؒ، حضرت شیخ تیم اللہ سفیدبازؒ، شیخ شمس الدین سمّن ارولی ؒ (ارول)، حضرت صوفی ضیاء الدینؒ (چنڈھوس)، حضرت فریدالدین طویلہ بخش اور مخدوم یٰسین داناپوری بہار کے قدیم ترین چشتی بزرگوں میں نامورہیں۔ ارول ضلع کے کیندوئی میں خواجہ صاحب کی اولاد کی خانقاہ بھی ایک زمانہ تک آبادرہی۔ خانقاہ منعمیہ قمریہ میتن گھاٹ میں بھی حضرت مخدوم منعم پاک ؒ اور دیگر واسطوں سے سلسلہ چشتیہ کا فیضان خوب خوب پہنچا ہے۔ سلسلہ ابوالعلائیہ کے بانی حضرت سیدنا امیرابوالعلااحراریؒ بھی خواجۂ خواجگان سے بلاواسطہ فیضیاب ومجاز و خلیفہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سلسلہ منعمیہ میں چشتی سلسلہ کا فیضان غالب ہے۔ اس موقع پر خانقاہ منعمیہ میں نماز مغرب کے بعد تلاوت قرآن کریم، نعت ومناقب کاسلسلہ قائم ہوا۔ بعدہ حضرت خواجہ غریب نوازقدس سرہ کے آثا رو تعلیمات پر تقاریرسے حاضرین فیضیاب ہوئے۔ پھر قل وفاتحہ کے بعد مجلس سماع قائم ہوئی اور اذان عشاء کے بعد دعا اورتقسیم لنگر پر یہ مجلس تمام ہوئی۔