کے وائی سی دہشت کا راج! شناخت کے نام پر سرکاری شکنجہ، عام آدمی کاغذوں میں قید, نزہت جہاں
Awaz E Bihar••2 ویوز•2 منٹ پڑھیں
کیا اب جینے کے لیے بھی سرکاری اجازت ضروری ہے؟
مظفرپور( نمائندہ)
ملک کا عام شہری آج شہری نہیں رہا، بلکہ ہر لمحہ ایک مشکوک ملزم بنا دیا گیا ہے۔ زندگی کے ہر موڑ پر ایک ہی سوال ، پہلے اپنی شناخت ثابت کرو، پھر جینے کا حق مانگو! سابق ضلع پریشد امیدوار اور تعلیمی مرکز کی صوبائی نائب صدر نزہت جہاں نے کے وائی سی نظام پر زبردست اور جارحانہ حملہ بولتے ہوئے کہا کہ “حکومت نے کے وائی سی کو سہولت نہیں، سزا بنا دیا ہے۔ یہ ڈیجیٹل اصلاح نہیں بلکہ کھلی ڈیجیٹل آمریت ہے۔” آدھار، پین، راشن کارڈ، گیس سلنڈر، بینک کھاتہ، موبائل سم ہر سہولت پر ایک ہی حکم سنائی دیتا ہے: پہلے کے وائی سی، بعد میں حق! نزہت جہاں نے کہا کہ کے وائی سی کی ایک معمولی کوتاہی پورے گھر کو تباہ کر دیتی ہے کسی غریب کا راشن بند، کسی بزرگ کی پنشن روک دی گئی، کسی مزدور کا گیس سلنڈر اٹک گیا، کسی عورت کا بینک کھاتہ فریز، اور واحد وجہ؟ کے وائی سی نہیں ہوا!” انہوں نے بتایا کہ دیہی علاقوں میں حالات انتہائی خوفناک ہیں۔ کہیں نیٹ ورک فیل، کہیں سرور ڈاؤن، کہیں انگوٹھا مشین سے میچ نہیں کرتا، کہیں خود مشین جواب دے دیتی ہے، مگر سزا ہمیشہ انسان کو ہی ملتی ہے، نزہت جہاں نے نظام سے ٹکراتے ہوئے تلخ سوال اٹھائے: اگر آدھار شناخت ہے تو بار بار کے وائی سی کیوں؟ اگر غلطی مشین کی ہے تو سزا انسان کو کیوں؟ پہلے بھوک مٹائی جائے یا پہلے شناخت ثابت کی جائے؟ نزہت جہاں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا: “نگرانی کے نام پر حکومت عام آدمی کی آزادی پر حملہ کر رہی ہے۔ آج حالات یہ ہیں کہ بھوک سے زیادہ ڈر کے وائی سی کا ہے۔ راشن سے زیادہ ضروری شناخت ہو گئی ہے، اور زندگی سے زیادہ ضروری ایک نمبر!” عوام میں غصہ اُبال پر ہے۔ لوگ سوال کر رہے ہیں: “کیا حکومت منصوبے دینے آئی تھی یا حقوق چھیننے؟ اخر میں نزہت جہاں نے سب سے بڑا اور خطرناک سوال کھڑا کی، کیا ہندوستان کا عام شہری اب انسان نہیں رہا، صرف ایک کے وائی سی نمبر بن کر رہ گیا ہے؟ یہ صرف ایک خبر نہیں، عوام کی چیخ ہے— جو اب کاغذوں، نمبروں اور مشینوں کے بیچ دم توڑ رہی ہے!