منگل، 13 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار

آواز ای بہار

ای پیپر
اہم خبریںقومیسیاستکھیلبہارقومیسیاستکھیلمضامینعالمی خبریںمزید
  • اہم خبریں
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • اہم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
آواز ای بہار
  • ہوم
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • بہار
  • قومی
  • سیاست
  • کھیل
  • مضامین
  • عالمی خبریں
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
اردوहिन्दीEnglish

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

سبسکرائب

Email: awazebihar@gmail.com|Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
مانجھا میں عبدالغفور کے نام سے کھلے میڈیکل کالج : نعمت اللہ اپنے اجداد کو یاد کرنے سے ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی ترغیب ملتی ہے : محمد رفیع
  1. ہوم
  2. بہار
بہار

مانجھا میں عبدالغفور کے نام سے کھلے میڈیکل کالج : نعمت اللہ اپنے اجداد کو یاد کرنے سے ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی ترغیب ملتی ہے : محمد رفیع

Awaz E Bihar•23 جنوری، 2026 کو 05:31 PM•4 ویوز•6 منٹ پڑھیں

عبدالغفور کم کھاتے زیادہ کام کرتے اور عوام کی خدمت کو کو ترجیح دیتے تھے : منہاج ڈھاکوی
گوپال گنج :چچا عبدالغفور کے کارنامے نمایاں ہیں۔ سب سے بڑا کارنامہ غریبوں اور پسماندہ طبقات کی بنیادی ضروریات اور مسائل کو حل کرنے، اس کے حقوق کی بازیابی کے لئے آپ کا جدو جہد کرنا تھا، اس کی وجہ تھی کہ وہ گاؤں سے تعلق رکھتے تھے اور عوام کے بنیادی مسائل سے بخوبی واقف تھے۔ اس طرح وہ سماجی انصاف کے حامی تھے۔ سیکولرزم اور سوشلزم ان کی سیاست کے دو بنیادی ستون تھے۔ یہ باتیں مہمان ذی وقار عبدالغفور میموریل فاؤنڈیشن کے سیکریٹری جناب محمد رفیع نے سابق وزیر اعلی بہار عبدالغفور کے یومِ پیدائش پر یادگاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ عبدالغفور میموریل فاؤنڈیشن گوپال گنج کے زیر اہتمام ایک یادگاری تقریب کا انعقاد آج 18 جنوری بروز اتوار کو دوپہر 2 بجے سے مانجھا گڑھ بلاک کے مدرسہ دارالعلوم اسلامیہ غریب نواز سریا اختیار، دھرم پرسا میں کیا گیا۔ جناب محمد رفیع نے مزید کہا کہ عبدالغفور صاحب کی بے داغ شخصیت سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ نئی نسل اس سے سبق حاصل کریں کہ کس طرح ایک چھوٹے سے گاؤں سے تعلیم، ایمانداری اور دیانت داری کی بنیاد پر عبدالغفور اپنے ہی صوبہ بہار کے سب سے بڑے عہدہ وزیر اعلی کی کرسی پر فائز ہوئے۔ جناب رفیع نے یہ بھی کہا کہ عبدالغفور میموریل فاؤنڈیشن سابق ایم پی ڈاکٹر احمد اشفاق کریم کی سرپرستی میں ایک بیداری مہم چلا رہی ہے کہ ہماری نئی نسل اس بات سے واقف ہو جائے کہ ہم اچھے کردار کی بنیاد پر اعلی مقام بھی حاصل کر سکتے ہیں۔اپنے اجداد کو یاد کرنے سے ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی ترغیب ملتی ہے، اپنے اصل سے تعلق مضبوط ہوتا ہے، اور ہم ان کی قربانیوں کو یاد کر کے زندگی میں مثبت کردار ادا کرنے کا عزم کرتے ہیں، یہ ہمیں خودی کا احساس دلاتا ہے اور مستقبل کی سمت متعین کرنے میں مدد دیتا ہے۔ مہمان خصوصی سابق ایم ایل اے برولی جناب محمد نعمت اللہ صاحب نے عبدالغفور صاحب کو ان کی یومِ پیدائش پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ جو قوم اپنے آبا و اجداد کو بھول جاتی ہے ترقی نہیں کرتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عبدالغفور صاحب بہت ایماندار شریف اور معمولی قسم کے انسان تھے۔ جب وہ بہار کے پہلے مسلم وزیر اعلی بنے تب بھی انہوں نے اپنی ایمانداری کی پالیسی سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ ان کی ایمانداری اور دیانت داری کے خلاف تحریک بھی چلی لیکن وہ جھکے نہیں۔ وہ مرکز میں بھی وزیر رہے تب بھی انہوں نے سمجھوتہ نہیں کیا۔ افسوس ہوتا ہے کہ حج بھون میں عبدالقیوم انصاری اور غلام سرور وغیرہ کے نام سے ہال ہیں لیکن سابق وزیر اعلی عبدالغفور صاحب کے نام سے کیوں نہیں؟ جناب نعمت اللہ نے یہ بھی کہا کہ گوپال گنج میں میڈیکل کالج بنانے کا حکومت ارادہ رکھتی ہے میں وزیر اعلی نتیش کمار سے یہ مانگ کرتا ہوں کے عبدالغفور صاحب کے آبائی بلاک مانجھا گڑھ میں عبدالغفور صاحب کے نام سے ہی میڈیکل کالج قائم کیا جائے۔ مشہور شاعر پروفیسر رضی احمد فیضی نے کہا کہ سریا اختیار کی زمین بہت زرخیز ہے۔ اس مٹی نے عبدالغفور صاحب جیسا ایماندار وزیر اعلی بہار کو دیا۔ یہاں کے لوگوں میں بی ایچ یو کے پروفیسر اور کمیشنر تک ہیں۔ عبدالغفور صاحب کے لئے جو درد ہمارے دل میں ہونا چاہئے تھا وہ درد چمپارن کے منہاج ڈھاکوی اور مظفر پور کے محمد رفیع میں ہے۔ یہاں ان کے نام سے درس گاہیں ہونی چاہئے تھی لیکن نہیں ہوا۔ عبدالغفور میموریل فاؤنڈیشن نے یہ عزم کیا ہے کہ عبدالغفور صاحب کے نام سے اسکول کالج اور میڈیکل کالج وغیرہ کھولنے کی کوشش کریں گے۔ نبی اللہ احسن نے کہا کہ آپ ایسے خدار رہنما تھے کہ راجیو گاندھی کی کیبنیٹ سے استعفیٰ دے دیا۔ صدارتی خطبہ دیتے ہوئے عبدالغفور میموریل فاؤنڈیشن کے صدر جناب منہاج ڈھاکوی نے کہا کہ 1973 میں کیدار پانڈے کی جگہ وزیر اعلی بنانے کی بات ہوئی تو سدھارتھ شنکر رے سابق وزیر اعلی مغربی بنگال و جنرل سیکریٹری آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے سبھی ایم ایل اے و ایم ایل سی سے بات کی تو سبھی نے ایک آواز میں سب سے ایماندار نیتا کی شکل میں عبدالغفور کا نام لیا جس کی تجویز انہوں وزیر اعظم اندرا گاندھی کو بھیجا اور عبدالغفور صاحب اپنی ایمانداری کی بنیاد پر وزیر اعلی بہار بنائے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عبدالغفور صاحب بہت سادہ زندگی جیتے تھے۔ وہ کم کھاتے تھے اور زیادہ کام کرتے تھے۔ عوام کی خدمت کو وہ سب سے زیادہ ترجیح دیتے تھے۔ رشوت اور بدعنوانی پر انہوں نے پوری طرح سے روک لگا دی تھی۔ اسی لئے سیکریٹیریٹ کے ملازمین ان کے مخالف ہو گئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ عبدالغفور صاحب کو کرسی سے ہٹانے کے لئے بدعنوان اور بے ایمانوں کی ایک فوج کھڑی ہو گئی تھی۔ جناب ظفر نے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ چچا عبدالغفور کی پیدائش سریا اختیار میں ہوئی تھی اور وہیں وہ مدفون بھی ہوئے ہیں اس لئے ان کی شخصیت سے عوام کو روبرو کرانے اور اور نئی نسل کو ترغیب دینے کے لئے آج اس پروگرام کا انعقاد کیا گیا ہے۔ ابھی تو یہ شروعات ہے آئیندہ سال انشاء اور بہتر پروگرام ہوگا۔ اس موقع پر محمد عبداللہ عرف شہنشاہ نے مہمانوں اور تقریب کے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سریا اختیار کے جس لال نے اپنے گاؤں اور ضلع گوپال گنج کا نام قومی اور بین الاقوامی سطح پر روشن کیا آج لوگ اسے بھولنے لگے ہیں۔ اس لئے ڈاکٹر احمد اشفاق کریم کی سرپرستی میں جناب منہاج ڈھاکوی صدر اور جناب محمد رفیع سیکریٹری عبدالغفور میموریل فاؤنڈیشن کے بینر تلے بہترین کام انجام دے رہے ہیں، اور گمنام ہو چکی شخصیت کی یادوں کو زندہ کرنے اور ان کی شخصیت سے سبھی کو واقف کرانے کے ان کے عزم کو اللہ پورا کرے۔ جناب نبی اللہ احسن نے کہا کہ اب ہم لوگ عبدالغفور میموریل فاؤنڈیشن کے بینر تلے چچا عبدالغفور کی شخصیت اور ان کے کارناموں کو چپہ چپہ تک پہنچانے کا کام دل جمعی کے ساتھ کریں گے۔مولانا اشرف السلام ندوی نے اس مناسبت سے ساحر لدھیانوی کے شعر کے ساتھ اپنے مافی الضمیر ادا کیا کہ غم اور خوشی میں فرق نہ محسوس ہو کبھی ۔ میں دل کو اس مقام پہ لاتا چلا گیا۔ تقریب کی شروعات حافظ پرویز کے تلاوت قرآن شریف اور نعت خوانی سے ہوئی۔ صدارت منہاج ڈھاکوی تو نظامت محمد علی ظفر نے کی، آخر میں محمد عبداللہ عرف شہنشاہ نے اظہار تشکر پیش کیا۔ پروگرام کے بعد تمام لوگ عبدالغفور صاحب کے مقبرہ پر جاکر قرآن خوانی کر ان کے مغفرت کی دعا کی۔ مقبرہ پر ایک بورڈ بھی لگائی گئی۔ اس موقع پر قومی اساتذہ تنظیم بہار کے ریاستی مجلس عاملہ کے رکن وقار عالم، حسن رضا وغیرہ بھی شامل تھے۔
شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

گورکھپور-سلی گوڑی ایکسپریس وے پر منظوری کا انتظار، بہار کے آٹھ اضلاع میں زمین حصولیابی کا عمل متاثر ہونے کا خدشہ
بہار

گورکھپور-سلی گوڑی ایکسپریس وے پر منظوری کا انتظار، بہار کے آٹھ اضلاع میں زمین حصولیابی کا عمل متاثر ہونے کا خدشہ

Awaz E Bihar•13 اکتوبر، 2026•اپڈیٹ•1 ویوز
پٹنہ میں ایس آئی آر کے خلاف آئیسا کا احتجاج، بیریکیڈ توڑ کر آگے بڑھے طلبہ، پولیس سے جھڑپ
بہار

پٹنہ میں ایس آئی آر کے خلاف آئیسا کا احتجاج، بیریکیڈ توڑ کر آگے بڑھے طلبہ، پولیس سے جھڑپ

Awaz E Bihar•13 اکتوبر، 2026•اپڈیٹ•1 ویوز
بریانی کھائیں، لیکن ہندو دکانوں سے‘، بنگال میں درگا پوجا کے موقع پر لگائے گئے نفرت آمیز پوسٹر
بہار

بریانی کھائیں، لیکن ہندو دکانوں سے‘، بنگال میں درگا پوجا کے موقع پر لگائے گئے نفرت آمیز پوسٹر

Awaz E Bihar•13 اکتوبر، 2026•اپڈیٹ•1 ویوز